Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ریکوڈک منصوبے پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے جامع رپورٹ جاری کر دی

ایس آئی ایف سی کی معاونت سے کان کنی کے شعبے میں تاریخی پیش رفت، معدنی وسائل کے بہتر استعمال کی راہ ہموار
ریکوڈک منصوبے پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے جامع رپورٹ جاری کر دی

(رپورٹر علی حسن )اسلام آباد : پاکستان کے معدنی شعبے کیلئے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہونے والا ریکوڈک منصوبہ ملکی معیشت کو نئی سمت دینے کیلئے تیار دکھائی دیتا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی جامع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف کان کنی کی صنعت میں انقلابی تبدیلی آنے کی توقع ہے بلکہ آئندہ دہائیوں میں پاکستان کو اربوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس پیش رفت میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا کردار کلیدی رہا ہے جو ملک میں معدنی ترقی کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت سرگرم عمل ہے۔

پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال

سی سی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان معدنی ذخائر کے لحاظ سے دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں قیمتی اور نایاب دھاتوں کی بڑی مقدار موجود ہے۔ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں سونا، چاندی، تانبہ، پلاٹینم اور قیمتی جیم اسٹونز کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں جنہیں جدید ٹیکنالوجی اور شفاف طریقہ کار کے ذریعے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب سرمایہ کاری اور شفاف انتظام کے نتیجے میں یہ معدنی ذخائر نہ صرف ملکی آمدنی میں بے پناہ اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ برآمدات کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

ریکوڈک منصوبہ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں واقع ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے اب تک کے سب سے بڑے کان کنی منصوبوں میں شامل ہے جو آئندہ 37 برسوں کے دوران تقریباً 74 ارب ڈالر آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف حکومتی محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کی زرِمبادلہ کی آمد بھی مستحکم ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق ریکوڈک کا بنیادی ہدف معدنی دولت کی کھوج، جدید ریفائننگ، شفاف سپلائی چین کے قیام اور عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی تجارت میں پاکستان کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔

شفاف ٹریس ایبلٹی اور جدید ریفائننگ

سی سی پی کی رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ میں شفاف ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی سسٹم کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی تاکہ کان سے مارکیٹ تک سونے اور دیگر معدنیات کی نقل و حرکت مکمل طور پر ریکارڈ پر رہے۔ اس اقدام سے نہ صرف چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہو گی بلکہ سپلائی چین زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد بنے گی۔

مزید یہ کہ جدید ریفائننگ کی سہولیات قائم ہونے سے خام معدنیات کو ملک کے اندر ہی صاف اور قابلِ استعمال بنایا جا سکے گا جس سے ویلیو ایڈیشن بڑھے گی اور برآمدی آمدنی میں بہتر اضافہ ہوگا۔

گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی کا قیام

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی کے قیام سے معدن اور زیورات کی تجارت میں ڈیجیٹل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور گولڈ بینکنگ نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس اقدام کے نتیجے میں سونے اور قیمتی پتھروں کی غیر دستاویزی خرید و فروخت میں نمایاں کمی آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

سی سی پی کے مطابق گولڈ بینکنگ سے زیورات کے شعبے میں جدید مالیاتی نظم قائم ہوگا، سونے کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ پر قابو پایا جا سکے گا اور حکومتی ریونیو میں اضافہ ممکن ہوگا۔

زیورات کی صنعت میں فروغ

رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی اور سی سی پی کی مشترکہ کوششوں سے نہ صرف کان کنی کا شعبہ ترقی کرے گا بلکہ ریفائننگ اور زیورات کی صنعت کو بھی نئی زندگی ملے گی۔ شفاف مارکیٹ نظام کے باعث بین الاقوامی معیار پر زیورات کی تیاری ممکن ہو سکے گی جس سے پاکستانی جیولری انڈسٹری عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی چین شفاف اور خام مال مقامی سطح پر دستیاب ہو جائے تو زیورات کی لاگت میں استحکام پیدا ہوگا اور اس شعبے میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع جنم لیں گے۔

بلوچستان کیلئے ترقی کے نئے دروازے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔ جہاں ایک طرف ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی وہیں نقل و حمل، سروس سیکٹر، ہاؤسنگ اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ مقامی نوجوانوں کیلئے ہنر مندی کے پروگرامز شروع کئے جانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ وہ کان کنی اور متعلقہ صنعتوں میں باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی ترقی بھی متوقع ہے، جس میں سڑکیں، بجلی کی فراہمی اور تعلیمی و تربیتی مراکز شامل ہیں۔

ایس آئی ایف سی کا بنیادی کردار

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے کردار کو انقلابی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن کر سامنے آئی ہے جس نے بیوروکریٹک پیچیدگیوں کو کم کر کے کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں بڑے منصوبوں کیلئے سہولت فراہم کی ہے۔

سی سی پی کے مطابق ایس آئی ایف سی کے متحرک کردار نے حکومتی اداروں، نجی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی شراکت داروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کی ہے جس سے منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن ہو رہی ہے۔

ریکوڈک منصوبہ اور معدنی شعبے سے متعلق تازہ رپورٹ ایک امید افزا تصویر پیش کرتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق صرف منصوبوں کے اعلان سے ترقی ممکن نہیں۔ شفافیت کے عملی نفاذ، مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں شریک کرنے اور وسائل کے ماحول دوست استعمال کو یقینی بنانا ناگزیر ہوگا۔ اگر وعدہ کردہ اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد ہوا تو ریکوڈک منصوبہ واقعی پاکستان کیلئے معاشی گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

عوامی رائے

عوام اور معاشی حلقے اس منصوبے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات کے پیش نظر نگرانی اور احتساب انتہائی ضروری ہیں تاکہ وسائل چند ہاتھوں تک محدود نہ رہیں بلکہ حقیقی فائدہ مقامی عوام اور قومی خزانے تک پہنچے۔ بلوچستان کے عوام خاص طور پر اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں روزگار، تعلیم اور بہتر سہولیات کی صورت میں اس منصوبے کا عملی فائدہ ملے۔

آپ کی رائے؟

کیا ریکوڈک منصوبہ واقعی پاکستان کو معدنی ترقی کی نئی راہ پر گامزن کر سکتا ہے، یا یہ بھی ماضی کے منصوبوں کی طرح دعوؤں تک محدود رہے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں