Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سرکاری و تعلیمی اداروں کے باہر سیاسی جلسوں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی

عدالتی فیصلہ 5 صفحات پر مشتمل ہے جو جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے جاری کیا
سرکاری و تعلیمی اداروں کے باہر سیاسی جلسوں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی

پشاور:پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں غیر متعلقہ تقریبات اور سیاسی اجتماعات کے خلاف دائر درخواست پر ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے تعلیمی اداروں، سرکاری مقامات اور انتظامی دفاتر کے اطراف میں سیاسی جلسوں، جلوسوں اور دیگر اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں کے احاطے کا استعمال صرف ان کے مخصوص مقاصد کے لیے ہونا چاہیے، اور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینا نہ صرف ان اداروں کے تقدس کے خلاف ہے بلکہ بنیادی سرگرمیوں میں شدید خلل کا باعث بنتا ہے۔

عدالتی موقف 

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری اداروں کے احاطے کے استعمال کی ذمہ داری متعلقہ افسران پر عائد ہوتی ہے، اس لیے یہ ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے تمام غیر متعلقہ اجتماعات کی روک تھام یقینی بنائیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ:

  • سرکاری اداروں کا قیام خاص اور عوامی مفاد کے حامل مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے

  • ان اداروں میں سیاسی سرگرمیاں نہ صرف ماحول متاثر کرتی ہیں بلکہ ان کے تقدس کو پامال بھی کرتی ہیں

  • غیر متعلقہ اجتماعات سے تعلیمی سرگرمیوں، سرکاری امور اور عوامی خدمات میں بے جا رکاوٹ پیدا ہوتی ہے

عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سرکاری و تعلیمی عمارتوں کے اندر اور اطراف میں سیاسی، جماعتی یا غیر متعلقہ اجتماعات کی ہر صورت روک تھام یقینی بنائی جائے۔

تحریری فیصلہ

عدالتی فیصلہ 5 صفحات پر مشتمل ہے جو جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے جاری کیا۔
اس میں قانونی نکات، سرکاری اداروں کے اغراض و مقاصد اور آئینی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ سرکاری اداروں میں سیاسی سرگرمیاں آئین کے بنیادی ڈھانچے اور انتظامی تقاضوں کے منافی ہیں۔

درخواست گزار کا مؤقف 

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں اپنا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ

  • سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں اجتماعات کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے

  • خیبرپختونخوا میں سیاسی سرگرمیوں اور غیر قانونی اجتماعات کے باعث تعلیمی عمل میں خلل پڑ رہا ہے

  • سرکاری امور مسلسل متاثر ہو رہے ہیں

  • طلبہ، اساتذہ اور ملازمین روزمرہ دفتری امور میں شدید مشکلات کا شکار ہیں

عدالت نے یہ نقطہ تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے اجتماعات کو روکنا لازمی ہے تاکہ سرکاری و تعلیمی ادارے اپنے اصل کردار پر توجہ دے سکیں۔

پشاور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے جگہوں کے انتخاب پر مسلسل تنازعات جنم لے رہے ہیں۔
تعلیمی اور سرکاری اداروں میں سیاسی جلسے، ریلیاں اور اجتماعات نہ صرف معمولاتِ زندگی متاثر کرتے ہیں بلکہ ان اداروں کے ماحول، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ وقار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ریاستی ادارے سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر ہی بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
خاص طور پر تعلیمی ادارے، جہاں نوجوان مستقبل کی تعمیر کے لیے موجود ہوتے ہیں، سیاسی دباؤ سے آزاد ماحول کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔

اگر اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا تو نہ صرف سرکاری کاموں میں رکاوٹ کم ہوگی بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی بہتری آئے گی۔

عوامی رائے

◼ شہریوں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔
◼ اساتذہ اور والدین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی جلوسوں نے ماحول بری طرح متاثر کر رکھا تھا۔
◼ کچھ سیاسی کارکنوں نے اسے اظہارِ رائے پر غیر ضروری پابندی قرار دیا، تاہم عمومی رائے فیصلہ کے حق میں دکھائی دیتی ہے۔
◼ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر سختی سے عمل نہ ہوا تو اس کا فائدہ صرف کاغذوں تک محدود رہ جائے گا۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں سیاسی جلسوں پر پابندی درست قدم ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں