Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

نیند کے لیے استعمال ہونے والا عام سپلیمنٹ دل کے امراض اور ہارٹ فیل ہونے کا باعث بن سکتا ہے

یہ 'محفوظ' سمجھا جانے والا علاج انسانی دل کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین
نیند کے لیے استعمال ہونے والا عام سپلیمنٹ دل کے امراض اور ہارٹ فیل ہونے کا باعث بن سکتا ہے

واشنگٹن: صحت کی دنیا میں ایک ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جو لاکھوں لوگوں کی روزمرہ عادت کو سوالوں کی زد میں لا رہا ہے جہاں نیند کے لیے استعمال ہونے والا مقبول سپلیمنٹ میلاٹونن طویل مدتی استعمال میں ہارٹ فیلیئر کا سبب بن سکتا ہے اور اس کی وجہ سے ہسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ تک بڑھ جاتا ہے جو امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سائنسی سیشنز 2025 میں پیش کی جانے والی ابتدائی تحقیق کا حیران کن نتیجہ ہے۔ یہ ہارمون جو جسم قدرتی طور پر نیند کے سائیکل کو کنٹرول کرنے کے لیے پیدا کرتا ہے اس کا مصنوعی ورژن بے خوابی اور جیٹ لیگ جیسی تکلیفوں سے نمٹنے کے لیے اوور دی کاؤنٹر دستیاب ہوتا ہے مگر اس کی مختلف برانڈز کی غیر ریگولیٹڈ طاقت اور طویل استعمال کے اثرات نے اب طبی ماہرین کو متنبہ کر دیا ہے کہ یہ ‘محفوظ’ سمجھا جانے والا علاج انسانی دل کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جو پانچ سال کے صحت کے ریکارڈز پر مبنی ہے ان میں سے جو لوگوں نے کم از کم ایک سال تک میلاٹونن لیا ان میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ نہ لینے والوں کے مقابلے میں 90 فیصد زیادہ پایا گیا جو ایک ایسا اعداد و شمار ہے کہ طبی حلقوں میں ہنگامہ برپا کر رہا ہے اور سپلیمنٹ کی مارکیٹنگ کی اخلاقیات پر سوال اٹھا رہا ہے۔

میلاٹونن جو قدرتی طور پر پائنل گلینڈ سے نکلنے والا ہارمون ہے اس کا مصنوعی فارم نیند کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر اس کی مختلف کمپنیاں اسے مختلف طاقتوں میں فروخت کرتی ہیں جو ریگولیٹری اداروں کی نگرانی سے باہر ہونے کی وجہ سے طویل مدتی اثرات کو غیر یقینی بنا دیتا ہے اور یہ صورتحال صارفین کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ محققین نے اس خطرات کو سمجھنے کے لیے ایک وسیع پیمانے کی تحقیق کی جہاں بے خوابی کے شکار 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد بالغ افراد کے صحت کے ریکارڈز کا جائزہ لیا جو کم از کم ایک سال تک میلاٹونن استعمال کر چکے تھے اور اس کا موازنہ ان لوگوں کے ڈیٹا سے کیا جو بے خوابی کے باوجود اس سپلیمنٹ سے دور رہے جو ایک سائنسی طور پر متوازن اپروچ تھی۔ یہ مطالعہ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سائنسی سیشنز 2025 میں پیش کیا جائے گا جہاں ابتدائی نتائج سے پتہ چلا ہے کہ 12 ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک میلاٹونن لینے والے مریضوں میں ہارٹ فیلیئر کا امکان نہ لینے والوں کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد زیادہ تھا جو ایک ایسا تناسب ہے کہ طبی برادری کو جھنجھوڑ رہا ہے اور سپلیمنٹ کی حفاظت پر نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگوں نے طویل مدتی استعمال کیا ان میں ہارٹ فیلیئر کی تشخیص، ہسپتال میں داخلے اور کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھ گیا جہاں ہارٹ فیلیئر ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 3.5 گنا اور مجموعی موت کا خطرہ 2 گنا زیادہ پایا گیا جو امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے 2025 ہارٹ ڈیزیز اینڈ سٹروک سٹیٹسٹکس کے مطابق امریکہ میں 6.7 ملین بالغوں کو متاثر کرنے والی ایک عام حالت ہے جہاں دل جسم کے اعضاء تک آکسیجن والی خون کی مناسب مقدار نہ پہنچا سکتا ہے۔ مطالعے کے سربراہ ایکنی ڈیلچوکوو نادی جو بروکلن کی SUNY ڈاؤن سٹیٹ/کنگز کاؤنٹی پرائمری کیئر میں انٹرنل میڈیسن کے چیف رہائشی ہیں انہوں نے کہا کہ میلاٹونن سپلیمنٹس کو محفوظ اور قدرتی سمجھا جاتا ہے مگر طویل مدتی کارڈیو واسکولر اثرات کی کمی اسے ایک خطرناک انتخاب بنا رہی ہے اور اگر یہ مطالعہ مزید تصدیق شدہ ہوا تو ڈاکٹروں کو مریضوں کو نیند کی ادویات کے بارے میں نئی ہدایات دینے پڑیں گی جو سپلیمنٹ کی مارکیٹنگ اور استعمال کی پالیسیوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ تحقیق پریسکرائبڈ میلاٹونن پر مبنی ہے مگر اوور دی کاؤنٹر استعمال کو بھی شامل کرتی ہے جو امریکہ میں عام ہے جہاں یہ دوا بغیر نسخے دستیاب ہوتی ہے مگر دیگر ممالک میں پریسکرپشن کی ضرورت ہوتی ہے۔

 میلاٹونن کی طویل مدتی خطرات اور نیند کی ادویات کی حفاظت پر اثرات

یہ تحقیق نیند کی ادویات کی حفاظت پر ایک اہم سوال اٹھاتی ہے جو میلاٹونن جیسی سپلیمنٹس کو ‘محفوظ’ سمجھنے والی سوچ کو چیلنج کرتی ہے مگر اس کی ابتدائی نوعیت اور observational ڈیزائن کی وجہ سے یہ cause-effect کا ثبوت نہیں دیتی بلکہ صرف association کو ظاہر کرتی ہے جہاں بے خوابی، ڈپریشن یا دیگر نیند کی ادویات کا استعمال دونوں عوامل کو جوڑ سکتا ہے۔ ایک طرف تو 90 فیصد اضافہ ہارٹ فیلیئر کی تشخیص، ہسپتال داخلے اور موت کا خطرہ بڑھانے کی نشاندہی کرتا ہے جو 1 لاکھ 30 ہزار افراد کے 5 سالہ ڈیٹا پر مبنی ہے مگر دوسری طرف ڈوز کی کمی، insomnia کی شدت اور OTC استعمال کی غیر رپورٹنگ اسے محدود کرتی ہے جو randomized controlled trials کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ امریکہ میں FDA کی عدم ریگولیشن مختلف طاقتوں کی وجہ سے خطرات بڑھاتی ہے جبکہ پچھلی تحقیقوں میں میلاٹونن ہارٹ فیلیئر مریضوں کی کوالٹی آف لائف بہتر بنانے کا سبب بنی جو تضاد کو واضح کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ مطالعہ سپلیمنٹ کی طویل مدتی حفاظت پر نئی تحقیق کی ضرورت ہے جو ڈاکٹروں کو مریضوں کو احتیاط کی ہدایت دے سکتا ہے اور نیند کی قدرتی طریقوں کو فروغ دے سکتا ہے ورنہ یہ عوامی صحت کے لیے ایک خاموش خطرہ بن جائے گا۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک شدید تشویش کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں لوگ اسے ‘نیند کی گولی کی تلخ حقیقت’ قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب میلاٹونن استعمال روکنا چاہیے اور قدرتی نیند کی عادات اپنانے کی ضرورت ہے جبکہ کچھ صارفین مطالعے کی حدود پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ cause-effect ثابت نہیں کرتا اور ڈاکٹروں سے مشورہ لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ہیلتھ کمیونٹیز میں خوف غالب ہے مگر کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مطالعہ مزید تحقیق کا مطالبہ کرتا ہے اور مجموعی طور پر عوام میں احتیاط کی فضا ہے جو سپلیمنٹ کی مارکیٹنگ پر تنقید کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں