Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

لاہور دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار، فضائی معیار خطرناک حد تک گر گیا

اے کیو آئی 620 تک جا پہنچا ہے جو انسانی صحت کے لیے فوری خطرے کی گھنٹی ہے
لاہور دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر قرار، فضائی معیار خطرناک حد تک گر گیا

لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور ایک بار پھر فضائی آلودگی کی گہری لپیٹ میں ہے جہاں شہر کی ہوا اتنی زہریلی ہو چکی ہے کہ یہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے اور بین الاقوامی ادارے آئی کیو ائیر کی تازہ رپورٹ کے مطابق لاہور کا مجموعی ائیر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 318 تک جا پہنچا ہے جبکہ شہر کے کچھ علاقوں میں یہ شرح 647 سے 855 تک چھو گئی جو انسانی صحت کے لیے ایک خاموش قاتل کی مانند ہے اور شہریوں کی سانسوں کو چھین رہی ہے۔ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور راوی روڈ کے علاقے اسموگ کی سب سے شدید زد میں ہیں جہاں ہوا کا معیار انتہائی خطرناک سطح پر ہے اور پنجاب ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کا اے کیو آئی 397 ریکارڈ کیا گیا جو صوبے میں آلودگی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے مگر سسٹم کی حد 500 تک ہونے کی وجہ سے حقیقی شدت اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے جو لاہور کی ماحولیاتی بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ شاہدرہ، کاہنہ، پنجاب یونیورسٹی، ڈی ایچ اے فیز 6، واہگہ بارڈر، برکی روڈ اور سفاری پارک جیسے علاقے بدترین زونز میں شامل ہیں جہاں ائیر کوالٹی کی شرح 500 تک پہنچ چکی ہے جو شہریوں کی روزمرہ زندگی کو ایک چیلنج بنا رہی ہے اور بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

پنجاب بھر میں اسموگ کی یہ لہر ایک صوبائی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں بہاولپور سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا ہے اور اس کا اے کیو آئی 620 تک جا پہنچا ہے جو انسانی صحت کے لیے فوری خطرے کی گھنٹی ہے اور ملتان 427، فیصل آباد 418 اور گجرانوالہ 379 کی سطح کے ساتھ خطرناک زون میں شمار ہو رہے ہیں جو صنعتی سرگرمیوں، گاڑیوں کے دھوئیں اور موسمی عوامل کی مشترکہ تباہی کی عکاسی کرتے ہیں۔ محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کی اکتوبر 2025 کی رپورٹ ایک امید کی کرن دکھاتی ہے جہاں انسداد اسموگ کے لیے حکومتی اور عوامی اقدامات سے مجموعی صورتحال میں معمولی بہتری آئی ہے مگر یہ بہتری ابھی ناکافی ہے اور آلودگی کی شدت اسے بے اثر بنا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ای پی اے کی ٹیموں نے اکتوبر میں 28 ہزار 675 معائنے مکمل کیے جن میں آلودگی پھیلانے والے کارخانوں اور برک کلنز کے خلاف سخت کارروائیاں شامل تھیں جو ماحولیاتی نظم و ضبط کی ایک کوشش ہے اور غیر قانونی یونٹس کے خلاف 707 نوٹسز، 381 ڈیمولیشنز، 521 سیلنگز، 567 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور مجموعی طور پر 5 کروڑ 88 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے جو صنعتی آلودگی پر کنٹرول کی جدوجہد کی جھلک دکھاتے ہیں۔

پلاسٹک فری پنجاب مہم کے تحت 28.8 ٹن پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے جو ماحولیاتی صفائی کی طرف ایک قدم ہے اور صنعتی علاقوں میں 32 مسٹ سپرنکلنگ سسٹمز اور 79 واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس نصب کیے گئے ہیں جو ہوا اور پانی کی آلودگی کم کرنے میں مددگار ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے 2070 اسکولوں میں ویسٹ سیگریگیشن ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا گیا جو نئی نسل میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش ہے اور اسی طرح 163 واٹر سیمپلنگ، 112 فیول کوالٹی ٹیسٹ اور 89 اسٹیک ایمیشن چیک کیے گئے تاکہ پانی اور ہوا دونوں کے معیار کی مسلسل نگرانی کی جا سکے جو ایک جامع مانیٹرنگ سسٹم کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں 763 ہیوی گاڑیوں کا معائنہ اور 7042 ای ٹی ایس ٹیسٹنگز مکمل کی گئیں جس سے گاڑیوں کے دھوئیں سے اخراج میں کمی دیکھی گئی ہے اور عوامی سطح پر بھی ماحولیاتی شعور میں اضافہ ہوا ہے جہاں 21 ہزار 983 شہریوں نے پلاسٹک فری پلیجز پر دستخط کیے جو عوامی تعاون کی ایک مثبت علامت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ اسموگ کے مستقل تدارک کے لیے فیلڈ آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی، ڈرون مانیٹرنگ اور ڈیٹا بیس رپورٹنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے جو حکومت کی سنجیدگی کی جھلک ہے اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی ماحولیاتی حکمت عملی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک جامع نظام کی عکاسی کرتی ہے جس میں عوامی تعاون، صنعتی نظم و ضبط اور تعلیمی آگاہی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور پنجاب کو سموگ فری بنانا صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک اجتماعی تحریک ہے جو طویل مدتی حل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ اقدامات ایک امید کی کرن ہیں مگر آلودگی کی موجودہ شدت اسے ایک چیلنج بنا رہی ہے جو فوری اور مستقل اقدامات کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔

 لاہور کی اسموگ بحران اور پنجاب کی ماحولیاتی جدوجہد پر اثرات

یہ بحران پنجاب کی صنعتی ترقی اور ماحولیاتی توازن کی کشمکش کو بے نقاب کرتا ہے جہاں لاہور کا اے کیو آئی 318 سے 855 تک پہنچنا انسانی صحت کے لیے ایک ایمرجنسی ہے جو سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور بچوں کی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے مگر اکتوبر کی رپورٹ میں 28 ہزار معائنے اور جرمانے ایک مثبت قدم ہیں جو صنعتی آلودگی پر کنٹرول کی کوشش دکھاتے ہیں۔ ایک طرف تو بہاولپور کا 620 اے کیو آئی صوبائی سطح پر بحران کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے مگر دوسری طرف پلاسٹک فری مہم اور واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس طویل مدتی حل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو عوامی آگاہی اور ٹیکنالوجی کی شمولیت سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ڈرون مانیٹرنگ کی ہدایت ایک جدید اپروچ ہے مگر اس کی کامیابی صنعتی سیکٹر کی تعمیل اور موسمی عوامل پر منحصر ہے جو سرحد پار آلودگی کو بھی شامل کرتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال ایک اجتماعی تحریک کی ضرورت ہے جو حکومت، صنعت اور عوام کے درمیان تعاون سے ہی سموگ فری پنجاب کا خواب پورا کر سکتی ہے ورنہ یہ صحت اور معیشت کو تباہ کر دے گی۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک شدید غم و غصے کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں لاہوری شہری اسے ‘سانس کی موت’ قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ماسک پہننا روزمرہ کا حصہ بن گیا ہے جبکہ کچھ صارفین حکومتی اقدامات کی تعریف کر رہے ہیں اور پلاسٹک فری پلیجز کی حمایت کر رہے ہیں۔ بہاولپور اور ملتان کے رہائشی بھی تشویش زدہ ہیں مگر مجموعی طور پر عوام میں مطالبہ ہے کہ صنعتی یونٹس پر سخت پابندی لگائی جائے اور ڈرون مانیٹرنگ فوری شروع کی جائے جو ماحولیاتی تحریک کی ضرورت کو اجاگر کر رہا ہے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا لاہور کی بڑھتی آلودگی کا واحد حل سخت حکومتی کارروائی ہے یا عوامی شعور کی کمی اصل مسئلہ ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں