دبئی: متحدہ عرب امارات کی اقتصادی دارالحکومت دبئی نے ایک بار پھر جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی برتری کو ثابت کر دیا ہے جہاں اڑنے والی الیکٹرک ٹیکسی کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل ہو گئی اور یہ سنگ میل دبئی کی مستقبل کی نقل و حمل کی تصوراتی دنیا کو حقیقت کی طرف لے جا رہا ہے جو شہر کی تیز رفتہ زندگی کو ایک نئی جہت دے گا۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ آزمائشی پرواز مرغم کے صحرائی علاقے سے شروع ہوئی جو دبئی اور العین کی سرحد پر واقع ہے اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیابی سے ختم ہوئی جو ایک ایسا سفر تھا کہ اس نے شہر کی فضائی نقل و حمل کی صلاحیتوں کو آزما دیا اور دبئی کو عالمی سطح پر ایک جدت پسند مرکز کی حیثیت دلائی۔ یہ پرواز جو دبئی ایئر شو 2025 سے قبل منعقد ہوئی اس کی کامیابی نے نہ صرف ٹیکنالوجی کی حامیوں کو خوش کیا بلکہ شہر کی ٹریفک جام کی پریشانیوں کو کم کرنے کی امید بھی جگائی جو دبئی کی روایتی نقل و حمل کے نظام کو ایک انقلابی موڑ دے رہی ہے۔
اماراتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ یہ الیکٹرک ائیر ٹیکسی جو جابائی ایوی ایشن کی تیار کردہ ہے 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے اور اس میں 4 مسافروں کے علاوہ پائلٹ کے بیٹھنے کی جگہ ہے جو ایک ماحول دوست مشین ہے اور اس کے چھ پروپیلرز اور چار الگ الگ بیٹری پیکس اسے شور سے پاک اور صفر اخراج کاربن والی بناتے ہیں جو عام فضائی گاڑیوں کے مقابلے میں ایک خاموش اور پائیدار متبادل ہے۔ یہ ٹیکسی کا رینج 160 کلومیٹر ہے جو شہر کی اندرونی پروازوں کے لیے موزوں ہے اور اس کی پرواز مرغم سے المکتوم ایئرپورٹ تک ایک کامیاب مظاہرہ تھی جو دبئی کی صحرائی حالات میں اس کی کارکردگی کو ثابت کرتی ہے۔ شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم، دبئی کے کراؤن پرنس، ڈپٹی پرائم منسٹر اور ڈیفنس منسٹر نے اس پرواز کا جائزہ لیا اور ٹویٹر پر پوسٹ کیا کہ یہ 2026 میں ائیر ٹیکسی لانچ سے قبل ایک اہم قدم ہے جہاں شہر کا پہلا ویرٹی پورٹ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب تعمیر ہو رہا ہے جو مسافروں کی سہولتوں سے آراستہ ہوگا اور لینڈنگ پیڈز کے ساتھ جدید سہولیات فراہم کرے گا۔
اس پرواز کی کامیابی دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کی قیادت میں ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جو 2023 میں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم، یو اے ای کے وائس پرےزڈنٹ، پرائم منسٹر اور دبئی کے روار کی موجودگی میں دستخط ہوئے تھے اور جابائی ایوی ایشن اور اسکائی پورٹس انفراسٹرکچر کی شراکت داری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسکائی پورٹس کمپنی دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب پہلا ائیر ٹیکسی اسٹیشن قائم کر رہی ہے جو 3,100 مربع میٹر پر پھیلا ہوگا اور چار سطحوں پر مشتمل ہوگا جہاں دو سطحیں گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے اور دو ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے مخصوص ہوں گی جو مسافروں کو ایئر کنڈیشنڈ سہولیات فراہم کرے گا۔ اماراتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 2026 میں ائیر ٹیکسی سروس عوام کے لیے باقاعدہ طور پر شروع کی جائے گی جو ابتدائی طور پر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ڈاؤن ٹاؤن دبئی، دبئی مارینا اور پام جومیرا جیسے مقامات کو جوڑے گی اور ایک عام پرواز جو کار سے 45 منٹ لگتی ہے وہ صرف 12 منٹ میں مکمل ہو جائے گی جو شہر کی ٹریفک جام کو کم کرنے کا ایک انقلابی حل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگلی مرحلہ میں شہری علاقوں میں مزید تجرباتی پروازیں شیڈول کی جا رہیں ہیں جو دبئی کی سڑکوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے منصوبوں کا حصہ ہیں اور یہ ٹیکسی کیو ایس ایس ایف (کیو ایس ایس ایف) ضابطوں پر پورا اترتی ہے جو حفاظتی معیاروں کی ضمانت دیتی ہے۔ جابائی ایوی ایشن کے بانی اور سی ای او جو بِن بیویرٹ نے کہا کہ یہ پرواز دبئی کی صحرائی حالات میں ہماری مشین کی کارکردگی کو ثابت کرتی ہے اور 2026 تک کمرشل آپریشنز شروع ہوں گے جو شہر کو ایک گلوبل پائینئر بنائیں گے۔ یہ منصوبہ دبئی کی فیوچر لوپ پروجیکٹ اور ڈبئی واک ماسٹر پلان کا حصہ ہے جو سڑکوں، عوامی ٹرانسپورٹ اور ائیر ٹیکسی سروسز کو مربوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے اور اس کی کامیابی دبئی کی جدت پسندی کی ایک نئی مثال ہے جو عالمی سیاحوں اور رہائشیوں کو تیز اور محفوظ سفر کی سہولت دے گی۔
دبئی کی اڑتی ٹیکسی اور شہری نقل و حمل کی مستقبل پر اثرات
یہ آزمائشی پرواز دبئی کی ٹرانسپورٹ انقلاب کی ایک کلیدی کڑی ہے جو ٹریفک جام اور کاربن اخراج کو کم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے مگر اس کی کامیابی انفراسٹرکچر کی تکمیل اور عوامی قبولیت پر منحصر ہے جہاں 2026 کا لانچ لائن اپ شہر کو عالمی پائینئر بنا سکتا ہے۔ ایک طرف تو 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار اور 160 کلومیٹر رینج شہری پروازوں کو ممکن بنائے گی مگر دوسری طرف ویرٹی پورٹس کی تعمیر اور فضائی ٹریفک مینجمنٹ جیسے چیلنجز عوامی اعتماد کو آزمائیں گے جو حفاظت اور قیمت کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکائی پورٹس اور جابائی کی شراکت داری ایک مثبت علامت ہے مگر علاقائی مقابلے جیسے ابوظہبی میں آرکر ایوی ایشن کی پروجیکٹس اسے تیز کر رہے ہیں جو دبئی کی اقتصادی برتری کو برقرار رکھنے کی جدوجہد ہے۔ مجموعی طور پر یہ ٹیکنالوجی ماحولیاتی استحکام کی طرف قدم ہے مگر اس کی کامیابی ریگولیٹری فریم ورک اور عوامی آگاہی پر منحصر ہوگی ورنہ یہ ایک مہنگا تجربہ بن جائے گی جو شہری نقل و حمل کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک پرجوش لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں دبئی کے رہائشی اسے ٹریفک جام سے نجات کی امید قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ 12 منٹ کی پرواز دبئی مارینا تک ایک خواب کی طرح ہے جبکہ کچھ صارفین حفاظت اور قیمت پر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ یہ کب عام آدمی کی پہنچ میں آئے گی۔ عالمی سطح پر تعریف کی جارہی ہے مگر مجموعی طور پر جوش غالب ہے جو دبئی کی جدت پسندی کی طرف راغب کر رہا ہے اور لوگ 2026 کا انتظار کر رہے ہیں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اڑتی ٹیکسی شہری ٹرانسپورٹ کا مستقبل ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
