اسلام آباد: پاکستان کی آئینی تعمیر نو کی راہ میں ایک ایسا بل سامنے آیا ہے جو ملک کی فوجی، عدالتی اور انتظامی ڈھانچے کو بنیاد سے تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں 27ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے ذریعے فوج کے اعلیٰ افسران کو تاحیات یونیفارم اور عدالتی استثنیٰ جیسے مراعات دی جائیں گی بلکہ ایک نئی وفاقی آئینی عدالت کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا جو سپریم کورٹ کی بالادستی کو ایک نئی جہت دے گا۔ یہ ترمیم جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کی گئی ہے اس کے اہم نکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ دیا جائے گا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا موجودہ عہدہ ختم ہو جائے گا جو فوج کی کمانڈ کی مرکزی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا اور ملک کی دفاعی حکمت عملی کو ایک نئی سمت دے گا۔ یہ مجوزہ تبدیلیاں نہ صرف فوجی افسران کی تنخواہوں اور مراعات کو قانونی تحفظ دیں گی بلکہ عدالتی نظام میں بھی ایک متوازن توازن پیدا کرنے کی کوشش ہیں جو صوبائی حقوق اور وفاقی اختیارات کے درمیان ایک نئی توازن کی بنیاد رکھ سکتی ہیں مگر اس کی منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کی جانچ پڑتال ناگزیر ہوگی جو اس بل کی حتمی شکل کو متعین کرے گی۔
اس ترمیم کے فوجی پہلوؤں کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ جیسے اعلیٰ عہدوں کو حاصل کرنے والے افسران کو تاحیات یونیفارم پہننے کا حق ملے گا اور ان کی تمام مراعات جیسے تنخواہ، رہائش اور سیکیورٹی بھی عمر بھر برقرار رہیں گی جو انہیں ایک خصوصی درجہ عطا کرے گی اور یہ رینک صرف پارلیمنٹ کے مواخذے کے ذریعے ختم کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ آرمی چیف، نیول چیف اور ائیر چیف کے تقرر کا اختیار صدر کو وزیراعظم کی مشاورت سے دیا جائے گا جو تقرری کے عمل کو ایک منظم اور سیاسی طور پر متوازن بنائے گا جبکہ وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر پاک فوج سے نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر کا تقرر کر سکیں گے جو جوہری اثاثوں کی نگرانی کو مزید محفوظ اور مرکزی بنائے گا۔ یہ تبدیلیاں آرٹیکل 243 میں ترمیم کی بنیاد پر کی جائیں گی جو فوج کی کمانڈ کو وفاقی حکومت کے ماتحت رکھتی ہے مگر اب یہ مرکزی کردار آرمی چیف کو دے دیا جائے گا جو دفاعی اداروں کی باہمی ہم آہنگی کو بڑھانے کا باعث بنے گی اور ملک کی سلامتی کی صورتحال کو ایک نئی طاقت دے گی۔
عدالتی ڈھانچے کے حوالے سے یہ مجوزہ ترمیم ایک وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لائے گی جہاں ہر صوبے سے برابر تعداد میں ججز شامل ہوں گے اور اس کی تقرری کا عمل صدر وزیراعظم کی مشاورت سے مکمل ہوگا جو عدالتی نظام میں صوبائی نمائندگی کو یقینی بنائے گا۔ یہ عدالت اپنے فیصلوں پر نظرثانی کا اختیار رکھے گی اور صدر اسے کوئی قانونی معاملہ رائے کے لیے بھیج سکے گا جو آئینی معاملات کی فوری اور مرکزی حل کی راہ ہموار کرے گی جبکہ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا جائے گا اور اگر کوئی جج اسے قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اسے ریٹائرڈ سمجھا جائے گا جو عدالتی تعیناتیوں میں لچک اور نظم و ضبط کو فروغ دے گا۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 184 جو از خود نوٹس کے لیے تھا اسے حذف کر دیا جائے گا اور سپریم کورٹ کو قانون سے متعلق معاملات بھیجنے کی شق بھی ختم ہو جائے گی جو عدالتی مداخلت کو محدود کرے گی اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز 68 سال کی عمر تک عہدے پر قائم رہیں گے جبکہ اس کا چیف جسٹس تین سال کی مدت کے بعد ریٹائر ہو جائے گا اور صدر اس کی جگہ قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرے گا۔
اس ترمیم کی عدالتی بالادستی کے حوالے سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے پاکستان کی تمام عدالتوں پر لازم الاجرا ہوں گے سوائے سپریم کورٹ کے جبکہ آئینی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں ہائی کورٹ سے کوئی کیس اپنے پاس یا کسی اور ہائی کورٹ میں منتقل کر سکیں گی جو عدالتی وسائل کی بہتر تقسیم کو یقینی بنائے گا۔ ہائی کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ میں تقرری قبول نہ کرے تو ریٹائرڈ شمار ہوگا اور سپریم کورٹ کا جج وفاقی آئینی عدالت میں جانے سے انکار کرے تو بھی ریٹائرڈ سمجھا جائے گا جو اعلیٰ عدالتی عہدوں کی اہمیت کو مزید نمایاں کرے گا۔ اس ترمیم کے تحت صدر سپریم کورٹ کے ججز میں سے وزیراعظم کی مشاورت پر وفاقی آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس تقرر کرے گا اور پہلے ججز کی تقرری صدر وزیراعظم کی مشاورت سے چیف جسٹس فیڈرل آئینی کورٹ سے رجوع کرکے کی جائے گی جو ابتدائی مرحلے میں عدالتی استحکام کو یقینی بنائے گی۔
اس مجوزہ ترمیم کا ایک اہم حصہ صدر اور گورنرز کی قانونی تحفظ ہے جہاں صدر کے خلاف عمر بھر کوئی فوجداری کارروائی نہ ہو سکے گی اور گورنرز کی مدت کے دوران بھی ان پر کوئی قانونی کارروائی نہ کی جا سکے جو انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں آزادانہ فیصلے کرنے کی طاقت دے گی اور کوئی عدالت صدر یا گورنر کو گرفتار یا جیل بھیجنے کی کارروائی نہ کر سکے جو آئینی عہدوں کی عظمت کو بحال کرے گی۔ یہ تبدیلیاں ملک کی سیاسی استحکام کو فروغ دینے کی کوشش ہیں مگر ان کی منظوری کے لیے پارلیمانی اجماع ناگزیر ہے جو موجودہ کولیشن حکومت کی صلاحیتوں کو آزمائے گی۔
27ویں آئینی ترمیم کی فوجی اور عدالتی تبدیلیوں کے دور رس اثرات
یہ مجوزہ ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو فوج کو مرکزی کردار دیتے ہوئے عدالتی نظام کو دوبارہ تشکیل دیتی ہے مگر اس کی بنیاد پر سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا یہ تبدیلیاں جمہوری توازن کو برقرار رکھیں گی یا فوج اور وفاق کی مرکزی طاقت کو بڑھائیں گی۔ ایک طرف تو فیلڈ مارشل جیسے اعلیٰ عہدوں کی تاحیات مراعات اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا قیام فوج کی پیشہ ورانہ خودمختاری کو قانونی تحفظ دے گا جو ملک کی سلامتی کو مضبوط بنائے گا مگر دوسری طرف وفاقی آئینی عدالت کا قیام سپریم کورٹ کی بالادستی کو کمزور کر سکتا ہے اور صوبائی حقوق جیسے این ایف سی شیئر کی حفاظت کو ختم کرنا 18ویں ترمیم کی روح کے خلاف ہوگا جو صوبائی خودمختاری کو کمزور کرے گا۔ عدالتی استثنیٰ اور از خود نوٹس کی حذفگی انصاف کی راہ کو ہموار کر سکتی ہے مگر یہ بھی خدشہ پیدا کرتی ہے کہ سیاسی مداخلت بڑھ جائے گی اور یہ ترمیم آرٹیکل 243 کی تبدیلی سے فوج کی کمانڈ کو مزید مرکزی بنا دے گی جو جمہوریت کی کوششوں کو چیلنج کرے گی۔ مجموعی طور پر یہ تبدیلیاں استحکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں مگر ان کی کامیابی پارلیمانی اجماع اور صوبائی حمایت پر منحصر ہوگی ورنہ یہ سیاسی تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک شدید تقسیم کا شکار ہے جہاں حامی اسے عدالتی بہتری اور فوجی استحکام کی فتح قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وفاقی آئینی عدالت سے کیسز کی تیز سماعت ہوگی اور فوج کی مراعات ملک کی سلامتی کو یقینی بنائیں گی جبکہ مخالفین خاص طور پر پی ٹی آئی اور وکلاء برادری اسے صوبائی حقوق پر حملہ اور فوج کی بالادستی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ یہ ترمیم جمہوریت کو کمزور کرے گی اور 18ویں ترمیم کو واپس لے لینے کی کوشش ہے۔ صوبائی حلقوں میں غم و غصہ ہے جبکہ وفاقی شہروں میں احتیاط کا ماحول ہے اور لوگ امید کر رہے ہیں کہ یہ تبدیلیاں انصاف اور استحکام لائے گی مگر مجموعی طور پر بحث سیاسی استحکام کی ضرورت کو اجاگر کر رہی ہے۔
