ینگمبا آئی لینڈ، یوگنڈا : جنگل کے بادشاہ چمپینزی اب صرف پھل چبانے والے نہیں رہے۔ ایک نئی سائنسی دریافت نے دنیا کو حیران کر دیا ہے کہ یہ پرائمیٹس انتخاب کے وقت شواہد کا معیار جانچتے ہیں، کمزور ثبوت کو مسترد کرتے ہیں اور نئے، مضبوط اشارے پر اپنا فیصلہ پلٹ دیتے ہیں بالکل انسانوں کی طرح! جرنل سائنس میں شائع ہونے والی یہ تحقیق یوٹریخٹ یونیورسٹی کی ہانا شلائی ہاف کی قیادت میں ہوئی، جس میں یوگنڈا کے نگمبا آئی لینڈ چمپینزی سینکچوری کے 23 رہائشیوں نے حصہ لیا۔
تصور کریں دو لکڑی کے ڈبے، ایک میں سیب کا ٹکڑا چھپا ہوا۔ محقق پہلے ایک ڈبہ ہلاتا ہے ۔ اندر سے ہلکی سی آواز آتی ہے (کمزور اشارہ)۔ چمپینزی اسی ڈبے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھر محقق دوسرا ڈبہ کھول کر سیب دکھاتا ہے (مضبوط اشارہ)۔ چمپینزی فوراً اپنا ہاتھ بدل لیتا ہے! اگر پہلا اشارہ مضبوط تھا تو وہ جھجکتا نہیں، اپنے انتخاب پر ڈٹ جاتا ہے۔ یہ سادہ تجربہ پانچ مراحل میں کیا گیا، ہر مرحلے میں چمپینزیوں نے ریاضیاتی ماڈلز کی طرح "بیلیف ریوژن” کا مظاہرہ کیا ۔یعنی نئی معلومات کی روشنی میں پرانی سوچ کو اپ ڈیٹ کرنا۔
آخری مرحلے نے سب کو دنگ کر دیا جب محقق نے دکھایا کہ پہلا اشارہ جھوٹا تھا (ڈبے میں سیب کی تصویر تھی یا پتھر ہل رہا تھا)، چمپینزیوں نے فوراً سمجھ لیا کہ "یہ ثبوت غلط تھا” اور دوسرے ڈبے کی طرف لپکے۔ یہ میٹا کوگنیشن کی اعلیٰ مثال ہے اپنے علم کے بارے میں سوچنا برکلے یونیورسٹی کی ایملی سینفورڈ کہتی ہیں "چمپینزی صرف ردعمل نہیں دیتے، وہ ثبوتوں کو تولتے ہیں۔”
تحقیق کی ٹیم نے 15 سے 23 چمپینزیوں پر 5 الگ الگ تجربات کیے۔ پہلے دو میں کمزور (آواز، ٹکڑے) بمقابلہ مضبوط (براہ راست نظر) اشاروں کا موازنہ کیا۔ تیسرے میں تین ڈبوں کا اضافہ۔ چوتھے میں ایک ہی ڈبے کو دوبارہ دکھایا چمپینزیوں نے سمجھا "یہ پرانی بات ہے” اور انتخاب نہیں بدلا۔ پانچویں میں جھوٹے ثبوت کو بے نقاب کیا۔ نتیجہ؟ چمپینزیوں کی 78 فیصد فیصلہ سازی ریاضیاتی ماڈلز سے مماثل تھی بالکل چار سالہ بچوں کی طرح!
یہ دریافت جنگلی چمپینزیوں کے لیے بھی لائف سیور ثابت ہو سکتی ہے۔پیچیدہ سماجی گروہوں میں، کھانے کی تلاش میں، یا خطرے کا اندازہ لگانے میں وہ غلط معلومات کو فلٹر کر کے بہتر انتخاب کریں گے۔
انسانیت کی جڑیں جنگل میں
یہ تحقیق "انسان واحد عقلمند” کے نظریے کو دفن کر رہی ہے۔ 60 لاکھ سال پہلے الگ ہونے والی نسلوں میں منطقی سوچ کی جڑیں مشترک ہیں۔ اب تک سائنسدان چمپینزیوں کو "ذہین” تو مانتے تھے، مگر "عقلمند” نہیں۔ اب پتہ چلا کہ میٹا کوگنیشن اپنے علم کی حدود جاننا پرائمیٹس میں بھی موجود ہے۔ یہ ارتقائی نفسیات کے لیے انقلاب ہے شاید منطق ہومو سیپیئنز کی ایجاد نہیں، بلکہ جنگل کی میراث ہے۔ مستقبل میں بونوبو، اورنگوٹان اور یہاں تک کہ کتے پر بھی ایسے تجربات ہوں گے۔ سوال یہ ہے: کیا ہم اپنے پالتو جانوروں کو بھی کم سمجھتے رہے؟
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر #ChimpLogic ٹاپ ٹرینڈ ہے۔
- @WildlifeWarrior: "اب چمپینزی سے بحث کروں گا، ہار جاؤں تو سیب دوں گا 😂”
- @MomOfThree: "میرا بچہ بھی یہی کرتا ہے – پہلے ٹافی مانگتا ہے، پھر دیکھتا ہے کہ زیادہ کہاں ہے!”
- @PhilosophyProf: "ارسطو نے کہا انسان عقلمند جانور ہے۔ چمپینزی: ہولڈ می بیئر!”
- 48 گھنٹوں میں 29 ملین ویوز، 1.2 ملین شیئرز۔
بیلیف ریوژن ماڈل:
چمپینزیوں کے دماغ میں چھپا “سائنسی سوفٹ ویئر” (سادہ اردو میں مکمل وضاحت + مثال + فارمولا)
1. یہ ماڈل کیا ہے؟
“Belief Revision” یعنی “یقین کی تازہ کاری”۔ ہمارا دماغ (اور چمپینزی کا دماغ بھی!) ہر نئے ثبوت کو پرانے یقین کے ساتھ ملاتا ہے اور فوراً نیا فیصلہ کرتا ہے۔ سائنسدانوں نے اسے 3 قدموں میں ماپا:
2. تین قدمی فارمولا
1️⃣ قدیم یقین (Prior Belief) 2️⃣ نئے ثبوت کی طاقت (Likelihood) 3️⃣ نیا یقین (Posterior Belief)
ریاضی میں:
نیا یقین=نئے ثبوت کی طاقت×پرانا یقینکل ثبوت\text{نیا یقین} = \frac{\text{نئے ثبوت کی طاقت} \times \text{پرانا یقین}}{\text{کل ثبوت}}
3. چمپینزیوں کا عملی تجربہ
ڈبہ A → ہلکی آواز (کمزور ثبوت) ڈبہ B → کھلا سیب (مضبوط ثبوت)
چمپینزی کا دماغ 0.2 سیکنڈ میں یہ حساب لگاتا ہے:
- پرانا یقین = 60% ڈبہ A
- نئے ثبوت کی طاقت = 95% ڈبہ B
- نیا یقین = 92% ڈبہ B
نتیجہ: چمپینزی فوراً ہاتھ ڈبہ B کی طرف کر دیتا ہے!
4. 5 مراحل کا سافٹ ویئر
تحقیق میں چمپینزیوں نے یہ 5 “اپ ڈیٹس” کیں:
- کمزور بمقابلہ مضبوط آواز → دیکھا → فوراً بدلا
- تین ڈبوں کا امتحان دو جھوٹے + ایک سچ → 100% درست انتخاب
- دوہرا اشارہ دو بار وہی دکھایا → “پرانی بات” سمجھ کر نظر انداز
- جھوٹ بے نقاب “تصویر تھی” بتایا → فوراً مسترد
- خود اعتمادی سکور مضبوط ثبوت پر 3 سیکنڈ، کمزور پر 7 سیکنڈ سوچا
5. آپ کے فون میں بھی یہی سافٹ ویئر!
- واٹس ایپ میسج: “دوست آ رہا ہے” → 60% یقین
- ویڈیو کال: وہ دروازے پر → 99% یقین
- آپ فوراً دروازہ کھول دیتے ہیں!
6. چارٹ: چمپینزی بمقابلہ انسان
ثبوت کی طاقت ↑
100% ── انسان = چمپینزی
80% ── 4 سالہ بچہ
60% ── کتا (صرف بو سونگھتا ہے)
40% ── چوہا
7. ایک جملے میں نتیجہ
چمپینزی کا دماغ 6 کروڑ سال پرانا “بیزین الگورتھم” چلاتا ہے، جو چیٹ جی پی ٹی سے پہلے کا سب سے تیز “فیکٹ چیکر” ہے!
کیا آپ کا دماغ بھی ہر 2 سیکنڈ میں یقین اپ ڈیٹ کرتا ہے؟ ابھی ٹیسٹ کریں:
- آنکھیں بند کریں
- سوچیں “میں اگلا واٹس ایپ میسج 10 سیکنڈ میں پڑھ لوں گا”
- فون ہلے → آنکھیں کھلیں → یقین 100%!
آپ بھی چمپینزی کے کزن ہیں! 🦍 اپنا “بیلیف ریوژن سکور” کمنٹ میں بتائیں! (0-10 میں کتنا تیز اپ ڈیٹ کرتے ہیں؟)
