Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ایران میں 60 فیصد مرد بانجھ پن کا شکار، ماہرین نے قومی سلامتی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران میں ایک عورت سے اوسطاً صرف 1.6 بچے پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ آبادی برقرار رکھنے کے لیے 2.2 درکار ہیں
ایران میں 60 فیصد مرد بانجھ پن کا شکار، ماہرین نے قومی سلامتی کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ایرنا نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شادی شدہ ایرانی مردوں میں بانجھ پن (اولاد نہ ہونے کی بیماری) کی شرح 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مسئلہ صرف خاندانوں کی خوشیوں کا نہیں، بلکہ ملک کی قومی سلامتی کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

کیا کہتی ہے رپورٹ؟

  • ایران میں تقریباً 30 سے 32 لاکھ شادی شدہ جوڑے اولاد کے لیے پریشان ہیں۔
  • یہ تعداد کل شادی شدہ جوڑوں کا 15 سے 20 فیصد ہے یعنی ہر 6 میں سے 1 جوڑا بچے پیدا نہیں کر پا رہا۔
  • 60 فیصد کیسز میں وجہ مردوں میں ہے، جیسے منی کی تعداد کم ہونا، ہارمونز کا عدم توازن، رگوں کی سوجن وغیرہ۔
  • پہلے ایرانی مردوں میں منی کی تعداد 20 سے 40 کروڑ ہوتی تھی، اب صرف 2 سے 6 کروڑ رہ گئی ہے۔
  • ہر سال 5 فیصد نئے جوڑے اس مسئلے میں شامل ہو رہے ہیں۔

کیوں ہو رہا ہے یہ مسئلہ؟

  1. آلودگی، کیمیکلز، شور اور گرمی (جیسے لیپ ٹاپ زیادہ استعمال کرنا) منی کی پیداوار کم کر رہے ہیں۔
  2. سگریٹ، نشہ، موٹاپا اور تناؤ منی کی تعداد 13 سے 17 فیصد تک کم کر دیتے ہیں۔
  3. شادی میں تاخیر  پہلے 18-22 سال میں شادی ہوتی تھی، اب 28 سال کی اوسط عمر ہو گئی۔
  4. طبی مسائل  رگوں کی سوجن، ہارمونز کا عدم توازن، کینسر کا علاج وغیرہ۔
  5. معاشی دباؤ 72 فیصد مرد کہتے ہیں کہ نوکری اور پیسے کی فکر تناؤ بڑھاتی ہے۔

قومی سلامتی کو کیسے خطرہ؟

  • ایران میں ایک عورت سے اوسطاً صرف 1.6 بچے پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ آبادی برقرار رکھنے کے لیے 2.2 درکار ہیں۔
  • 2050 تک 30 فیصد لوگ 60 سال سے اوپر ہوں گے  بوڑھوں کی تعداد بڑھے گی، کام کرنے والوں کی کم ہو جائے گی۔
  • فوج اور معیشت کمزور ہو سکتی ہے۔
  • طلاق اور گھریلو تشدد بڑھ رہا ہے  نابارور خواتین پر تشدد کی شرح 60 سے 70 فیصد ہے۔

حکومت کیا کر رہی ہے؟

  • 2020 سے مانع حمل گولیاں اور نس بندی پر پابندی لگائی گئی۔
  • بچوں والے خاندانوں کو ٹیکس میں چھوٹ، مفت انشورنس دیا جا رہا ہے۔
  • آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب) اور سٹیم سیل علاج کی سہولیات بڑھائی جا رہی ہیں کامیابی کی شرح 40 سے 45 فیصد ہے۔
  • شادی سے پہلے منی اور انڈے محفوظ کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔

عوام کا ردعمل

سوشل میڈیا پر لوگ پریشان ہیں۔ ایک شخص نے لکھا

"60 فیصد مرد بانجھ؟ یہ تو ایران کا مستقبل خطرے میں ہے! حکومت صحت پر پیسہ لگائے!”

دوسرے نے کہا

"آلودگی، سگریٹ، تناؤ – سب کچھ بند کرو، ورنہ خاندان ختم ہو جائیں گے!”

ماہرین کا مشورہ

  • سگریٹ چھوڑیں، ورزش کریں، صحت مند کھائیں۔
  • جلد شادی کریں، تناؤ کم کریں۔
  • حکومت آلودگی کم کرے، صحت کی مفت جانچ بڑھائے۔

یہ بحران ایران کی آبادی کو بوڑھا بنا رہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک ملک میں کام کرنے والے کم اور بوڑھے زیادہ ہو جائیں گے۔ حکومت کی پالیسیاں اچھی ہیں، لیکن آلودگی، تناؤ اور صحت کی سہولیات کی کمی کو فوری ٹھیک کرنا ہوگا۔ عوام بھی اپنی صحت کا خیال رکھے تو یہ بحران کم ہو سکتا ہے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں