Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سیاست سے ریٹائرمنٹ تاحیات ہے، اپنے حصے کی کوشش کر لی: ڈاکٹر طاہرالقادری

پاکستان کے حالات اور عوام کی بہتری کے لیے ہمیشہ دعا گو رہیں گے، مگر سیاسی خبروں سے دلچسپی نہیں رکھتے اور نہ ہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں
سیاست سے ریٹائرمنٹ تاحیات ہے، اپنے حصے کی کوشش کر لی: ڈاکٹر طاہرالقادری

کینیڈا کی سرزمین سے تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ایک ایسا اعلان کیا ہے جو ان کی سیاسی زندگی کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیتا ہے – سیاست سے تاحیات ریٹائرمنٹ کا فیصلہ۔ پاکستانی صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات میں ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ پاکستان کے حالات اور عوام کی بہتری کے لیے ہمیشہ دعا گو رہیں گے، مگر سیاسی خبروں سے دلچسپی نہیں رکھتے اور نہ ہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا وقت تعلیمی، تدریسی، فکری اور اجتہادی امور پر صرف ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جتنا حصہ کا کام تھا کر دیا، اور اب پوری توجہ تصنیف و تالیف پر ہے، جہاں دنیا کے ہر ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو ان کی زبان میں قرآن و سنت کے تراجم مہیا کرنے کا مشن جاری ہے۔

یہ اعلان ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی جدوجہد کی ایک تلخ وادی کی یاد دہانی کرتا ہے، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کی فعال کردار کو ختم کر دیتا ہے۔ ان کی کتب کے مختلف زبانوں میں تراجم اور سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والے ویڈیو کلپس ان کی تدریسی سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں، جو اب ان کی مرکزی توجہ کا مرکز ہیں۔

کینیڈا میں صحافیوں سے گفتگو

کینیڈا میں پاکستانی صحافیوں سے ملاقات میں ڈاکٹر طاہر القادری نے سیاست سے تاحیات ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، جو ان کی حصہ کی کوششوں کا اختتام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہتری کی دعا گو رہتے ہیں، مگر سیاسی خبروں سے دور رہتے ہیں اور نہ ہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ وقت تعلیمی اور فکری امور پر صرف ہوتا ہے۔ ان کی توجہ تصنیف و تالیف پر مرکوز ہے، جہاں مختلف زبانوں میں قرآن و سنت کے تراجم کا مشن جاری ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ انہوں نے تنگ نظری، عدم برداشت اور متشدد رویوں کو امت کا بڑا چیلنج قرار دیا، اور تعلیم کے فروغ پر سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت بتائی، کیونکہ یہ سرمایہ کاری کبھی ضائع نہیں جاتی۔

یہ گفتگو ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی جدوجہد کی تلخ وادی کی یاد دہانی کرتی ہے، جو اب تدریسی کاموں کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ان کی سوشل میڈیا سرگرمیاں ان کی تدریسی تقریروں کو جاری رکھتی ہیں، جو عوام تک پہنچ رہی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا نام ایک ایسے رہنما سے جڑا ہے جو مذہبی علم کی روشنی میں سیاسی جدوجہد کا علمبردار رہے، اور کرپشن، دہشت گردی اور نظام کی خامیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔ جھنگ شہر میں 1951 میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر طاہر القادری، جو اسلامی فقہ کے ماہر اور تحریک منہاج القرآن کے بانی ہیں، نے 1989 میں پاکستان عوامی تحریک (PAT) کی بنیاد رکھی تاکہ مذہبی اقدار کو سیاسی عمل سے جوڑا جا سکے۔ ان کی جدوجہد کا آغاز مذہبی تعلیم اور اخلاقی اصلاح سے ہوا، جو آہستہ آہستہ سیاسی میدان میں داخل ہوتی گئی، جہاں انہوں نے کرپشن، ناانصافی اور دہشت گردی کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی۔ ان کی تحریکیں، خاص طور پر 2014 کا لانگ مارچ اور انقلاب مارچ، پاکستان کی سیاسی منظرنامے کو ہلا دینے والے واقعات تھے، جو نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے رہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاسی جدوجہد مذہبی رہنمائی کی بنیاد پر قائم تھی، جو عوام کو قرآن و سنت کی روشنی میں سیاسی اصلاح کی طرف بلاتی رہی۔ ان کی تحریک نے پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت میں تاریخی فتویٰ جاری کیا، جو 2010 میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کو حرام قرار دیتا تھا، اور لاکھوں لوگوں نے اسے اپنایا۔ سیاسی طور پر، PAT نے انتخابات میں حصہ لیا اور کرپشن کے خلاف احتجاجی مارچز کا سلسلہ شروع کیا، جو حکومتوں کو چیلنج کرتے رہے۔ ان کی جدوجہد نے مذہبی اور سیاسی حلقوں کو جوڑنے کی کوشش کی، جو پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔

ابتدائی جدوجہد اور تحریک کی بنیاد

ڈاکٹر طاہر القادری کی جدوجہد 1981 میں تحریک منہاج القرآن کی بنیاد سے شروع ہوئی، جو مذہبی تعلیم اور اخلاقی تربیت پر مرکوز تھی۔ 1989 میں PAT کی تشکیل نے انہیں سیاسی میدان میں لا کھڑا کیا، جہاں انہوں نے کرپشن، غربت اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کی تحریکیں عوام کو مذہبی اقدار کی بنیاد پر سیاسی تبدیلی کی طرف بلاتی رہیں، جو انتخابات میں PAT کی شرکت اور احتجاجی مظاہروں کی شکل میں سامنے آئیں۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے عدلیہ کی آزادی اور نظام کی اصلاح کا مطالبہ کیا، جو ان کی سیاسی پختگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

ان کی جدوجہد کا ایک اہم موڑ 2014 کا لانگ مارچ اور انقلاب مارچ تھا، جو کرپشن اور الیکشن دھاندلی کے خلاف لاکھوں لوگوں کو لاہور لے آیا۔ PTI کے ساتھ اتحاد نے اسے مزید طاقت دی، جو نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کرتا رہا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جاری کر کے پاکستان کو متحد کرنے کی کوشش کی، جو ان کی جدوجہد کا مذہبی سیاسی امتزاج تھا۔ 2014 کے واقعات کے بعد کینیڈا جلاوطنی میں رہنے کے دوران بھی ان کی آواز پاکستان پہنچتی رہی، جو 2018 میں واپسی پر مزید متحرک ہوئی۔

ان کی جدوجہد نے تنگ نظری، عدم برداشت اور متشدد رویوں کو چیلنج کیا، جو امت کی فکری تربیت پر مرکوز رہی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے تعلیم کو ترجیح دی، جو ان کی سیاسی جدوجہد کا بنیادی ستون تھی، اور عوام کو قرآن و سنت کی روشنی میں سیاسی شعور دینے کی کوشش کی۔

عوامی رائے

اس اعلان نے سوشل میڈیا پر جذبات کی آمیزش پیدا کر دی ہے، جہاں فالوورز سیاسی خسارے کا اظہار کر رہے ہیں مگر تدریسی کام کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ فیس بک پر #TahirulQadriRetirement ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "سیاست سے ریٹائرمنٹ افسوسناک، مگر تصنیف و تالیف سے امت مستفید ہوگی!” دوسرے نے کہا:”دعا گو رہنا، پاکستان کی بہتری کی کوشش یاد رہے گی!”

عوام نے تعلیم کی اہمیت کو سراہا:”تنگ نظری کا چیلنج، تعلیم کی سرمایہ کاری ضروری!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات احترام اور امید کی آمیزش ہیں، جو ڈاکٹر طاہر القادری کی تدریسی خدمات کی توقع رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی سیاست سے تاحیات ریٹائرمنٹ کا اعلان ان کی سیاسی جدوجہد کا اختتام ہے، جو پاکستان کی بہتری کی دعا گو رہنے اور سیاسی خبروں سے لاتعلقی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ تصنیف و تالیف پر توجہ، قرآن و سنت کے تراجم کا مشن، اور تنگ نظری جیسے چیلنجز کی نشاندہی امت کی فکری تربیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو تعلیم کی سرمایہ کاری کو اہمیت دیتی ہے۔ عوامی سطح پر، احترام غالب ہے جو ان کی خدمات کی یاد کرتے ہیں، مگر سیاسی خسارے کی تلخی بھی موجود ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اعلان سیاسی میدان سے تدریسی راہ کی طرف منتقلی ہے، جو امت کی فکری بیداری کی امید جگاتا ہے اور پاکستان کی بہتری کی دعا کو زندہ رکھتا ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں