Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

عمر بڑھنے پر وقت تیز گزرنے کا احساس، ماہرین نے حیران کن وضاحت پیش کر دی

درمیانی عمر یا بڑھاپے میں اگر مصروفیت ایک جیسی ہو یا فارغ رہیں تو وقت "پَر لگ جاتے ہیں" یہ خیال اب ٹھوس تحقیق کی بنیاد پر ہے۔
Experts offer surprising explanation for feeling that time passes faster as you age

"بچپن میں ایک دن سال جیسا لگتا تھا، اب سال دن جیسے گزر جاتے ہیں ۔ یہ احساس ہر بڑھتی عمر کے شخص کا ہے، اور اب سائنسدان اس راز سے پردہ اٹھانے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ جرنل کمیونیکیشنز بائیولوجی میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی سرگرمیوں میں کمی اور نئے تجربات کی کمی ہی وقت کی تیز رفتاری کا احساس دلاتی ہے۔ کیمبرج سینٹر فار ایجنگ اینڈ نیورو سائنس کے محققین نے ایک پرانی الفریڈ ہچکاک ٹی وی سیریز کی 8 منٹ کی قسط دکھا کر 577 افراد (18 سے 88 سال) کے دماغوں کو fMRI سے اسکین کیا، اور پایا کہ معمر افراد میں نئی دماغی سرگرمیاں بہت کم ہوتی ہیں، جو وقت کے "سکیڑنے” کا باعث بنتی ہیں۔

یہ تحقیق نہ صرف دماغ کی اندرونی گھڑی بلکہ ڈوپامائن، تجربات کی بنیاد پر وقت کا ادراک، اور بچپن کی نئی چیزوں کی کثرت کو بھی جوڑتی ہے۔ جولائی 2024 کی نیواڈا یونیورسٹی کی تحقیق نے بھی ثابت کیا کہ دماغ گھڑیوں کی طرح منٹ بائی منٹ وقت نہیں گنتا، بلکہ واقعات اور سرگرمیوں کی بنیاد پر اس کا احساس دلاتا ہے۔

ہچکاک شو کا تجربہ

محققین نے کیمبرج سینٹر کے طویل عرصے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جہاں 577 افراد نے الفریڈ ہچکاک کی پرانی سیریز دیکھی۔ خاص طور پر 8 منٹ کی ایک قسط منتخب کی گئی، کیونکہ یہ ناظرین میں مخصوص دماغی سرگرمیاں متحرک کرتی ہے – واقعات کو تقسیم کرنا، مختلف زاویوں سے سمجھنا۔ fMRI اسکینز سے پتہ چلا کہ نوجوانوں میں یہ سرگرمیاں تیز اور متنوع ہوتی ہیں، جبکہ معمر افراد میں نئی سرگرمیاں بہت کم ریکارڈ ہوئیں۔

کمپیوٹر الگورتھم کے تجزیے سے واضح ہوا کہ ایک مخصوص عرصے میں دماغی سرگرمیوں کا فقدان ہی وقت کی تیز رفتاری کا احساس دلاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ درمیانی عمر یا بڑھاپے میں اگر مصروفیت ایک جیسی ہو یا فارغ رہیں تو وقت "پَر لگ جاتے ہیں” یہ خیال اب ٹھوس تحقیق کی بنیاد پر ہے۔

دماغ کی اندرونی گھڑی

نیواڈا یونیورسٹی کی جولائی 2024 کی تحقیق نے انکشاف کیا کہ لوگ سمجھتے ہیں دماغ گھڑیوں کی طرح وقت گنتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم وقت کا تعین اپنے تجربات اور واقعات سے کرتے ہیں۔ بیزار یا فارغ ہونے پر وقت سست گزرتا ہے کیونکہ اردگرد کچھ نہیں ہو رہا، جبکہ مصروفیت یا نئی سرگرمیوں میں دماغی سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں اور وقت تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے۔

پچھلی تحقیقات سے پتہ چلا کہ عمر بڑھنے پر دماغ کی اندرونی گھڑی سست ہو جاتی ہے، جو زندگی کو تیز بنا دیتی ہے۔ نئی ادراکی تفصیلات کا تعلق بھی ہے ۔بچپن میں ہر چیز نئی ہوتی ہے، دماغ زیادہ تجزیہ کرتا ہے، وقت سست گزرتا ہے۔ ایک تحقیق میں پایا گیا کہ 20 سال بعد ڈوپامائن کا اخراج کم ہونے لگتا ہے، جو منفرد سرگرمیوں سے خارج ہوتا ہے، اور اس کی کمی وقت کی تیز رفتاری کا احساس دلاتی ہے۔

عوامی رائے

اس تحقیق نے سوشل میڈیا پر جوش پیدا کر دیا، جہاں لوگ اپنے تجربات شیئر کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #TimeFliesWithAge ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "بچپن میں گرمیاں لامتناہی، اب ہفتہ جھپکے میں گزر جاتا  دماغی سرگرمیوں کی کمی!” دوسرے نے مشورہ دیا "نئی چیزیں سیکھیں، سفر کریں، وقت سست ہو جائے گا!”

کچھ نے ڈوپامائن کی کمی پر تبصرہ کیا "20 کے بعد ڈوپامائن کم؟ اب نئی سرگرمیاں شروع!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات حیرت اور اتفاق کے ہیں، اور لوگ نئی چیزیں آزمانے کی توقع رکھتے ہیں تاکہ وقت کو "پکڑ” سکیں۔

یہ تحقیق عمر اور وقت کے ادراک کے درمیان دماغی میکینزم کو کھولتی ہے، جہاں fMRI سے ثابت ہوا کہ معمر افراد میں نئی سرگرمیوں کا فقدان وقت کو "سکیڑ” دیتا ہے۔ ہچکاک شو کا تجربہ دماغ کی واقعات تقسیم کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ نیواڈا کی تحقیق تجربات کی بنیاد پر وقت کا ادراک ثابت کرتی ہے۔ ڈوپامائن کی کمی اور اندرونی گھڑی کی سست رفتار بچپن کی نئی چیزوں سے موازنہ کرتی ہے، جو زندگی کو سست بناتی تھی۔ عوامی سطح پر، یہ تحقیق روزمرہ احساس کی سائنسی توجیہہ ہے، جو نئی سرگرمیاں اپنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ دماغ کی پلاسٹیسٹی کی یاد دہانی ہے – نئی چیزیں سیکھیں تو وقت کو طول دیا جا سکتا ہے، جو بڑھاپے کو مزید پرلطف بنا سکتا ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں