Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

استنبول میں پاکستان و افغانستان مذاکرات ناکام، طالبان حکومت کا رویہ مایوس کن قرار

یہ حکومت اپنی بقاء کے لیے جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے اور افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے
استنبول میں پاکستان و افغانستان مذاکرات ناکام، طالبان حکومت کا رویہ مایوس کن قرار

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایک اور دھچکا لگا ہے، جہاں وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے اکتوبر 2025 میں استنبول میں منعقدہ پاک افغان مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کر دیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں تارڑ نے واضح کیا کہ مذاکرات کا بنیادی ایجنڈا افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی روک تھام تھا، مگر افغان فریق نے منطقی اور جائز مطالبات تسلیم کرنے کے باوجود کوئی قابل عمل یقین دہانی نہ دی۔ انہوں نے افغان وفد کی الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کو ناکامی کی جڑ قرار دیا، اور کہا کہ پاکستان مخالف دہشت گردوں کی مسلسل حمایت نے امن کی راہ روک دی۔

تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان سے بارہا بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیمیں جیسے فتنہ الخوارج (TTP) اور فتنہ الہند (BLA) کی سرحد پار کارروائیوں پر احتجاج کیا، اور دوحہ معاہدے کے تحریری وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ رکھا۔ مذاکرات میں پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد پیش کیے، جنہیں میزبان ممالک اور افغان وفد نے تسلیم کیا، مگر عملی اقدامات کی کمی نے بات چیت کو بے نتیجہ بنا دیا۔ تارڑ کا یہ بیان پاکستان کی چار سالہ جانی و مالی قربانیوں کی تلخی کو اجاگر کرتا ہے، جو صبر کی حد پر پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے افغان طالبان حکومت کو افغان عوام کی نمائندہ قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ حکومت اپنی بقاء کے لیے جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے اور افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ وزیر اطلاعات نے قطر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا، جو میزبانی اور مخلصانہ کوششوں میں شامل رہے، اور کہا کہ پاکستان نے ان کی درخواست پر امن کا ایک اور موقع دیا تھا، مگر افغان فریق کی ذمہ داری سے کتراؤ نے ناکامی کو یقینی بنا دیا۔

تارڑ نے پاکستان کی سلامتی کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نیست و نابود کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی، جو مذاکرات کی ناکامی کے بعد دفاعی پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔

دوحہ معاہدہ 2020

افغانستان کی 20 سالہ جنگ کو ختم کرنے کی امید پر مبنی دوحہ معاہدہ، جو 29 فروری 2020 کو قطر کے شہر دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان طے پایا، ایک تاریخی دستاویز ہے جس نے امریکی فوجوں کے انخلا کی راہ ہموار کی اور علاقائی سیاست کو بدل دیا۔ یہ معاہدہ، جسے "افغانستان میں امن لانے کا معاہدہ” (Agreement for Bringing Peace to Afghanistan) کہا جاتا ہے، امریکہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد اور طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی برادر نے دستخط کیا۔ اس کا بنیادی مقصد امریکہ کی فوجی واپسی، دہشت گردی کی روک تھام، قیدیوں کا تبادلہ اور افغانوں کے درمیان اندرونی مذاکرات کا آغاز تھا، مگر اس کی ناکامیوں نے 2021 میں طالبان کی واپسی اور امریکی انخلا کی افراتفری کو جنم دیا۔

معاہدہ امریکہ کی 18 سالہ مہم جوئی کو ختم کرنے کی کوشش تھی، جس میں طالبان نے افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ کرنے کا وعدہ کیا، جبکہ امریکہ نے 1 مئی 2021 تک مکمل انخلا کا اعلان کیا (جو بعد میں 31 اگست تک بڑھا دیا گیا)۔ یہ دستاویز نہ صرف فوجی انخلا بلکہ سیاسی حل کی بنیاد رکھنے کی کوشش تھی، مگر طالبان کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی نے اسے متنازع بنا دیا۔

معاہدے کی کلیدی شقیں

معاہدے کی بنیاد امریکہ-طالبان مذاکرات پر تھی، جو 2018 سے دوحہ میں جاری رہے۔ اس میں امریکہ نے 14 ماہ میں فوجی انخلا کا وعدہ کیا، بشرطیکہ طالبان اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ طالبان نے افغانستان کی سرزمین کو القاعدہ یا دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا یقین دہانی کرائی، جو امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف حملوں کی روک تھام تھی۔

قیدیوں کے تبادلے کی شق کے تحت 5,000 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے اور افغان حکومت کی طرف سے 1,000 قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوا، جو اندرونی افغان مذاکرات کی بنیاد بنا۔ معاہدہ نے طالبان سے تشدد میں کمی اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اور امریکہ نے اندرونی افغان بات چیت (intra-Afghan talks) کا آغاز مارچ 2020 میں کرنے کا اعلان کیا۔ یہ بات چیت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن پر مبنی سیاسی حل کے لیے تھی۔

معاہدہ میں امریکہ نے طالبان کو تسلیم نہ کرنے کا واضح بیان دیا، مگر ان کی حکومت کی حمایت کی شرط رکھی۔ یہ دستاویز 8 کلیدی شقوں پر مشتمل تھی، جن میں فوجی انخلا کی ٹائم لائن، دہشت گردی کی روک تھام، اور افغانوں کے درمیان مذاکرات شامل تھے۔

عوامی رائے

اس بیان نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل جنم دیا، جہاں پاکستانی عوام افغان طالبان کی ذمہ داری سے کتراؤ پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایکس پر #IstanbulTalksFailure ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا "افغان وفد نے شواہد تسلیم کیے مگر عمل نہ کیا، پاکستان کی صبر ختم، اب دفاعی اقدامات ضروری!” دوسرے نے تارڑ کی حمایت کی: "طالبان افغان عوام کی نمائندہ نہیں، جنگی معیشت چلاتی ہے ۔ پاکستان کی سلامتی پہلے!”

کچھ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا "مذاکرات ناکام، اب علاقائی تناؤ بڑھے گا، طالبان کو سبق سکھانا ہوگا۔” مجموعی طور پر، عوامی جذبات پاکستان کی دفاعی پوزیشن کی حمایت میں ہیں، اور لوگ دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کی توقع رکھتے ہیں، خاص طور پر سرحدی علاقوں سے جہاں دہشت گردی کے اثرات براہ راست محسوس ہوتے ہیں

عطاء تارڑ کا بیان استنبول مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کرتا ہے، جو افغان طالبان کی ذمہ داری سے کتراؤ اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کے جائز مطالبات  دہشت گردی کی روک تھام اور شواہد کی تسلیم پر افغان وفد کی ٹال مٹول نے امن کی آخری کوشش کو ناکام بنا دیا، جو پاکستان کی صبر کی حد کو لبریز کر رہا ہے۔ تارڑ کی تنقید کہ طالبان افغان عوام کی نمائندہ نہیں اور جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے، کابل کی حکمت عملی کی تلخی کو اجاگر کرتی ہے۔ عوامی سطح پر، غم و غصہ غالب ہے جو دفاعی عزم کی حمایت کرتا ہے، جو سرحدی سلامتی کو ترجیح دے گا۔ مجموعی طور پر، یہ بیان پاکستان کی سفارتی ناکامی کے بعد دفاعی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے، جو علاقائی تناؤ بڑھا سکتا ہے مگر دہشت گردی کے خاتمے کی طرف لے جائے گا۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں