Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

معرکۂ حق کے بعد پاکستانی طیاروں کے آرڈرز میں اضافہ، چھ ماہ میں آئی ایم ایف سے نجات ممکن، خواجہ آصف

طالبان کسی بھی شکل میں قابلِ اعتماد نہیں، بھارت سے گٹھ جوڑ موجود ہے، وزیر دفاع
معرکۂ حق کے بعد پاکستانی طیاروں کے آرڈرز میں اضافہ، چھ ماہ میں آئی ایم ایف سے نجات ممکن، خواجہ آصف

اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مئی 2025ء کے پاک بھارت تنازع میں پاکستانی فضائیہ کی غیر معمولی اور فیصلہ کن کارکردگی کے بعد دنیا بھر سے پاکستانی دفاعی ساز و سامان، بالخصوص طیاروں کے بڑے پیمانے پر آرڈرز موصول ہو رہے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ مئی کے تنازع میں پاکستانی طیاروں نے اپنی تکنیکی برتری اور عملی صلاحیت ثابت کر دی، جس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی صنعت پر اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے طیارے عملی طور پر مکمل طور پر ٹیسٹ ہو چکے ہیں، اور اب اتنے زیادہ آرڈرز سامنے آ رہے ہیں کہ اگر یہ معاہدے پایۂ تکمیل تک پہنچ گئے تو ممکن ہے کہ آنے والے چھ ماہ میں پاکستان کو آئی ایم ایف کی مالی امداد کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

خواجہ آصف کے مطابق یہ آرڈرز نہ صرف پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا عالمی اعتراف ہیں بلکہ مئی میں حاصل ہونے والی کامیابی نے ملک کی ساکھ اور وقار میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔

بھارت کو دوٹوک پیغام

وزیر دفاع نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ

“اگر بھارت نے دوبارہ کوئی مہم جوئی کی تو اسے بنیانِ مرصوص جیسے سخت اور فیصلہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مئی میں بھارت بری طرح ناکام ہوا، جس کے بعد نہ صرف مودی حکومت بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ کو بھی شدید دھچکا لگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ تنازع کے دوران بھارت نے امریکا اور چین سے رابطے کیے، تاہم پاکستان نے بروقت اور درست فیصلوں کے ذریعے میدان میں برتری ثابت کی۔

طالبان پر کڑی تنقید

افغان طالبان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے واضح الفاظ میں کہا کہ طالبان کسی بھی صورت قابلِ اعتماد نہیں، چاہے وہ کسی بھی فرنچائز یا نام کے تحت ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے بھارت سے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور ان پر اعتماد کرنا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کی واپسی سے متعلق پیش گوئیاں پہلے ہی کی جا چکی تھیں، جن کی حمایت اس وقت کی پی ٹی آئی قیادت بھی کر رہی تھی۔

خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید

خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کی شناخت کو مسخ کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے عناصر کو دوبارہ پنپنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ“پی ٹی آئی کے دور حکومت میں خیبر پختونخوا کو شدید نقصان پہنچایا گیا، اور آج بھی طالبان کو سہولت فراہم کرنے والے عناصر حکومتی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔”

پاکستانی افواج سے متعلق دوٹوک مؤقف

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دنیا کی مضبوط ترین افواج میں شمار ہوتی ہیں اور یہاں کسی بیرونی طاقت کے لیے وینزویلا طرز کا کوئی آپریشن ممکن نہیں۔

ماہرین کی رائے

دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق اگر پاکستانی دفاعی صنعت کو ملنے والے آرڈرز بروقت اور شفاف انداز میں مکمل کیے گئے تو یہ پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے ایک نئے اور مستحکم ذریعے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی برآمدات میں اضافہ نہ صرف آئی ایم ایف پر انحصار کم کر سکتا ہے بلکہ صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مئی 2025ء کا پاک بھارت تنازع محض ایک عسکری جھڑپ نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا عالمی امتحان بھی ثابت ہوا۔ پاکستانی فضائیہ کی مؤثر حکمتِ عملی نے جہاں دشمن کو پسپا کیا، وہیں عالمی مارکیٹ میں پاکستانی دفاعی مصنوعات کی مانگ کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان آرڈرز سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے سیاسی استحکام، صنعتی نظم و ضبط اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی ناگزیر ہوگی۔ اگر یہ مواقع درست سمت میں استعمال کیے گئے تو پاکستان واقعی معاشی خود مختاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھا سکتا ہے۔

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں