لاہو:ر ( حامد اقبال راؤ )قیدی 804‘ سے منسوب گانا گانے پر قوال فراز خان کے خلاف درج مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں ملزم نے عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے۔
سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی ایک میوزیکل و ثقافتی تقریب کے دوران متنازع گانا گانے کے الزام میں قوال فراز خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ عبوری ضمانت کے لیے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے قوال فراز خان کی درخواست پر 13 جنوری تک عبوری ضمانت منظور کر لی۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر قوال فراز خان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں پہلے سے معلوم ہوتا کہ اس گانے کے باعث قانونی کارروائی ہو سکتی ہے تو وہ کبھی یہ کلام پیش نہ کرتے۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ گانا حاضرین کی فرمائش پر گایا تھا، تاہم اس کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیر اہتمام تاریخی شالیمار باغ میں ’میوزک اینڈ کلچرل نائٹ‘ کے عنوان سے ایک ثقافتی تقریب منعقد کی گئی، جس میں قوال فراز خان اور ان کے ہمنواؤں نے قوالی پیش کی۔ پروگرام کے دوران اڈیالہ جیل کے قیدی نمبر 804 سے منسوب ایک گانا گانے پر انتظامیہ نے اعتراض کیا اور بعد ازاں قوال کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
یہ مقدمہ انچارج شالیمار باغ ضمیر کی مدعیت میں تھانہ شالیمار (باغبانپورہ) لاہور میں درج کیا گیا، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق شالیمار باغ میں منعقد ہونے والا پروگرام ’چاندنی راتوں‘ کے نام سے خالصتاً ثقافتی نوعیت کا تھا، جس کا مقصد موسیقی، ثقافت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا، اور اس میں کسی بھی قسم کے سیاسی مواد یا نعرے بازی کی اجازت نہیں تھی۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تین فروری کو ہونے والی قوالی نائٹ کے دوران قوال فراز خان اور ان کے ساتھیوں نے دانستہ طور پر بغیر اجازت ایک سیاسی نوعیت کا اشتعال انگیز نغمہ گایا، جس کے بول ’جیل اڈیالہ قیدی 804‘ تھے۔ انتظامیہ نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر گانا بند کروا دیا۔
ایف آئی آر کے مطابق اس گانے کے نتیجے میں عوامی مجمع میں جوش و اشتعال پیدا ہوا، امن عامہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا اور تقریب کے غیر سیاسی و ثقافتی مقصد کو نقصان پہنچا۔ مزید کہا گیا کہ اس عمل سے ایک سرکاری ادارے کی غیرجانبداری، وقار اور ساکھ مجروح ہوئی۔
ایف آئی آر میں قوال فراز خان کے اس اقدام کو غیر ذمہ دارانہ، قابلِ مذمت اور قانونی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عوام کو اشتعال دلانے، عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے اور ریاستی ادارے کو متنازع بنانے کے مترادف ہے، جو کہ قابلِ تعزیر جرم ہے۔
دوسری جانب قوال فراز خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں بلکہ محض حاضرین کی فرمائش پر گانا پیش کیا، تاہم اس کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ شالیمار باغ میں ہونے والی یہ تقریب عوام کے لیے کھلی تھی، اور اس واقعے کے بعد ثقافتی تقریبات کے ضابطۂ اخلاق، اظہارِ فن کی آزادی اور انتظامی حدود سے متعلق نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق عوامی مقامات پر منعقد ہونے والی ثقافتی تقریبات میں طے شدہ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی تقریب کو غیر سیاسی قرار دیا جائے تو اس میں کسی بھی سیاسی مواد کی اجازت دینا انتظامیہ اور منتظمین دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔
فن و ثقافت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ فنکار کی نیت اور پس منظر کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ اگر کوئی کلام سامعین کی فرمائش پر اور بغیر اشتعال انگیز مقصد کے پیش کیا گیا ہو تو اسے فوجداری کارروائی کا جواز بنانا حساس معاملہ ہے۔
ریاست نیوز اردو کےسینیئر تجزیہ نگار حامد اقبال راؤ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک گانے یا قوالی تک محدود نہیں بلکہ یہ اظہارِ رائے، فن کی آزادی اور ریاستی نظم و ضبط کے درمیان توازن کا سوال بن چکا ہے۔ ایک طرف ریاستی ادارے عوامی تقریبات کو غیر سیاسی رکھنے کے پابند ہیں، تو دوسری جانب فنکاروں کا مؤقف ہے کہ فن کو مکمل طور پر سیاسی تناظر سے الگ کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ثقافتی پروگراموں کے لیے واضح اور شفاف قواعد کی ضرورت ہے تاکہ نہ فنکار قانونی الجھنوں کا شکار ہوں اور نہ ہی انتظامیہ کو عوامی نظم و ضبط کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ اگر ایسی حدود واضح نہ ہوئیں تو مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
عوامی رائے
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔
کچھ صارفین قوال کے خلاف کارروائی کو اظہارِ فن پر قدغن قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ سرکاری ثقافتی تقریبات میں سیاسی مواد پیش کرنا نامناسب ہے۔
اس معاملے پر آپ کی کیا رائے ہے؟
کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
