Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

بولڈ ڈانس مناظر کے ساتھ علی ظفر کا نیا البم ’’روشنی‘‘ ریلیز

15 برس بعد واپسی، 12 گانوں پر مشتمل منفرد میوزیکل سفر
بولڈ ڈانس مناظر کے ساتھ علی ظفر کا نیا البم ’’روشنی‘‘ ریلیز

نامور گلوکار اور اداکار علی ظفر نے پندرہ سال کے طویل وقفے کے بعد اپنا چوتھا میوزک البم ’’روشنی‘‘ شائقین کے لیے پیش کر دیا ہے، جو ریلیز ہوتے ہی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ بولڈ ڈانس مناظر، جدید موسیقی اور گہرے جذباتی رنگ اس البم کو علی ظفر کے ماضی کے کام سے مختلف اور نمایاں بناتے ہیں۔

’’روشنی‘‘ میں مجموعی طور پر 12 گانے شامل کیے گئے ہیں، جن میں علی ظفر نے مختلف موسیقی کے معروف ناموں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ البم میں السٹیر الون، طلحہ انجم، ڈی جے شاہ رخ اور علی حیدر کے ساتھ مشترکہ پراجیکٹس شامل ہیں، جس کے باعث یہ البم مختلف میوزیکل انداز اور آوازوں کا ایک خوبصورت امتزاج بن کر سامنے آیا ہے۔

البم کی ٹریک لسٹ میں رُکسانا، 5 اسٹار، ماماسیٹا (السٹیر الون کے ساتھ)، سانولی سلونی (السٹیر الون کے ساتھ)، روشنی، شدت، بے قراری سی، ڈھونڈتا ہوں، تیرے بن میں، چل دل میرے (طلحہ انجم کے ساتھ)، میرا پیار (ڈی جے شاہ رخ کے ساتھ) اور ظالم نظروں سے (علی حیدر کے ساتھ) شامل ہیں، جو محبت، جذبات، خود احتسابی اور زندگی کے مختلف رنگوں کو موسیقی کے قالب میں ڈھالتے ہیں۔

اپنے آرٹسٹ نوٹ میں علی ظفر نے ’’روشنی‘‘ کو روشنی اور سائے کے درمیان سفر قرار دیا ہے، جس میں انسان کے اندرونی تضادات، جذباتی اتار چڑھاؤ اور خود سے مکالمے کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کے مطابق یہ البم محض گانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ذاتی اور فکری تجربہ ہے۔

البم کی ریلیز کے ساتھ ہی گانے ’’رُکسانا‘‘ کی میوزک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے، جو امریکا کے شہر لاس اینجلس میں فلمائی گئی۔ ویڈیو میں جدید، سینماٹک مناظر اور دلکش کوریوگرافی کے ذریعے گانے کی دھن اور بولوں کو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے، جسے مداحوں کی جانب سے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔

علی ظفر کی یہ میوزیکل واپسی نہ صرف ان کے مداحوں کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے بلکہ پاکستانی میوزک انڈسٹری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کی رائے

موسیقی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ علی ظفر کا نیا البم ’’روشنی‘‘ پاکستانی پاپ میوزک میں ایک جرات مندانہ اور جدید تجربہ ہے۔ ماہرین کے مطابق 15 سال کے وقفے کے بعد واپسی کرنا کسی بھی آرٹسٹ کے لیے ایک بڑا رسک ہوتا ہے، تاہم علی ظفر نے اس رسک کو تخلیقی انداز میں قبول کیا ہے۔

میوزک انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق البم میں مختلف فنکاروں کے ساتھ تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ علی ظفر بدلتے ہوئے میوزیکل رجحانات کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ انہیں اپنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ السٹیر الون اور طلحہ انجم جیسے فنکاروں کے ساتھ اشتراک کو نوجوان نسل سے جڑنے کی ایک کامیاب کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

کچھ ناقدین نے البم میں شامل بولڈ ڈانس مناظر کو ایک اسٹریٹجک فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق عالمی موسیقی مارکیٹ میں بصری اظہار (visual storytelling) اب اتنا ہی اہم ہو چکا ہے جتنا خود موسیقی، اور علی ظفر نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے کام کو عالمی معیار کے قریب لانے کی کوشش کی ہے۔

تاہم بعض موسیقی کے ماہرین کا خیال ہے کہ بولڈ ویژولز پر ضرورت سے زیادہ توجہ اصل میوزیکل گہرائی سے توجہ ہٹا سکتی ہے، اور یہی نکتہ ’’روشنی‘‘ پر تنقید کا سبب بھی بن رہا ہے۔

علی ظفر کا البم ’’روشنی‘‘ محض ایک میوزک ریلیز نہیں بلکہ ایک آرٹسٹک ری اسٹیٹمنٹ ہے۔ پندرہ سال بعد البم کی صورت میں واپسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ علی ظفر نے وقت کے ساتھ خود کو نئے میوزیکل رجحانات اور سامعین کی ترجیحات کے مطابق ڈھالا ہے۔ اس البم میں روایتی پاپ، جدید الیکٹرانک ساؤنڈ، ہپ ہاپ اور رومانوی رنگ ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

البم کا مرکزی خیال، جیسا کہ علی ظفر نے خود بیان کیا، روشنی اور سائے کے درمیان سفر ہے۔ یہی تضاد نہ صرف گانوں کے بولوں میں جھلکتا ہے بلکہ میوزک ویڈیوز کے ویژول ٹریٹمنٹ میں بھی نمایاں ہے۔ ’’رُکسانا‘‘ کی ویڈیو اس بات کی مثال ہے کہ علی ظفر موسیقی کو صرف سننے نہیں بلکہ دیکھنے کا تجربہ بھی بنانا چاہتے ہیں۔

بولڈ ڈانس مناظر پر ہونے والی بحث دراصل پاکستانی شوبز میں ایک پرانا مگر حساس موضوع ہے۔ ایک طبقہ اسے فنکارانہ آزادی اور عالمی معیار سے ہم آہنگی سمجھتا ہے، جب کہ دوسرا طبقہ اسے ثقافتی حدود کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ ’’روشنی‘‘ نے اسی تقسیم کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ’’روشنی‘‘ علی ظفر کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ البم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی موسیقی اب صرف مقامی سامعین تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی پلیٹ فارم پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگرچہ ہر تجربہ سب کو مطمئن نہیں کر سکتا، مگر ’’روشنی‘‘ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ علی ظفر اب بھی موسیقی کی دنیا میں خود کو نئے انداز سے پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں