Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پنجاب بڑی تباہی سے محفوظ، بھارتی ایجنسی ’را‘ کے 12 دہشت گرد گرفتار

حساس مقامات کی تصاویر، ویڈیوز اور لوکیشن ڈیٹا برآمد، اسلحہ اور بارودی مواد ضبط
پنجاب بڑی تباہی سے محفوظ، بھارتی ایجنسی ’را‘ کے 12 دہشت گرد گرفتار

لاہور / فیصل آباد / بہاولپور:پنجاب ایک بڑی ممکنہ تباہی سے بچ گیا ہے جب انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر صوبے کے مختلف شہروں میں کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک 12 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، آئی ای ڈیز، ڈیٹونیٹر، بارودی مواد، موبائل فونز اور نقد رقوم بھی تحویل میں لے لی گئیں۔

سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کے مطابق زیرِ حراست افراد کے قبضے سے حساس سرکاری و نجی مقامات اور اہم اداروں کی تصاویر، ویڈیوز اور لوکیشن ڈیٹا برآمد ہوا ہے، جس میں پنجاب کے مختلف علاقوں کے مدارس اور عوامی اجتماعات کے مقامات بھی شامل ہیں۔ ان شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد عناصر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی منظم منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

تین شہروں میں مربوط کارروائیاں

ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی نے کارروائیاں لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور میں بیک وقت انجام دیں۔

لاہور سے گرفتار دہشت گرد:

  • سکھ دیپ سنگھ

  • عظمت

  • فیضان

  • نبیل

  • ابرار

  • عثمان

  • سرفراز

فیصل آباد سے گرفتار دہشت گرد:

  • دانش

بہاولپور سے گرفتار ملزمان

  • رجب

  • ہاشم

  • ثاقب

  • عارف

تمام گرفتار دہشت گردوں پر الزام ہے کہ وہ بھارت سے چلنے والے شدت پسند نیٹ ورک فتنہ الہندوستان سے منسلک تھے اور ملکی سلامتی کے خلاف تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

دہشت پھیلانے کا منصوبہ

سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق فیصل آباد سے گرفتار دہشت گردوں کا مقصد صوبے میں خوف و ہراس پھیلانا، مذہبی منافرت کو ہوا دینا اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا تھا۔ اسی منصوبے کے تحت عوامی مقامات اور مذہبی مراکز کی خفیہ ریکارڈنگ اور لوکیشن میپنگ کی جارہی تھی تاکہ بڑے حملوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

فیس بک نیٹ ورک سے گرفتاری

ترجمان نے انکشاف کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی دہشت گردوں کو ہدایات فراہم کی جا رہی تھیں۔ سی ٹی ڈی نے ‘عادل’ نامی ایک فیس بک آئی ڈی کی نشاندہی کی، جو بھارت سے آپریٹ ہو رہی تھی اور دہشت گردوں سے براہِ راست رابطے میں تھی۔ اسی ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے دہشت گرد سیل کا سراغ لگا کر انہیں حراست میں لیا گیا۔

مذہبی تبدیلی کا انکشاف

حکام کے مطابق گرفتار دہشت گردوں میں سے سکھ دیپ سنگھ پیدائشی طور پر مسیحی تھا جس نے چند عرصہ قبل مذہب تبدیل کیا تھا، اور بعد ازاں شدت پسند نیٹ ورک کا حصہ بن گیا تھا۔

بھارتی فنڈنگ کا انکشاف

سی ٹی ڈی پنجاب نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی را سے بھاری مالی مدد فراہم کی جا رہی تھی جس کے ذریعے اسلحہ کی خریداری، نقل و حرکت اور تخریبی سرگرمیوں کے تمام اخراجات پورے کیے جاتے تھے۔

برآمد ہونے والا اسلحہ اور ممنوعہ سامان

کارروائی کے دوران درج ذیل خطرناک سازوسامان ضبط کیا گیا:

  • آئی ای ڈی بم

  • 7 ڈیٹونیٹر

  • 2 حفاظتی فیوز وائر (کل لمبائی 102 فٹ)

  • متعدد موبائل فونز

  • بڑی مقدار میں نقد رقم

  • جدید اسلحہ

قانونی کارروائی

سی ٹی ڈی پنجاب نے تمام گرفتار دہشت گردوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے ہیں جبکہ نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

یہ آپریشن پنجاب میں دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو بروقت ناکام بنانے کا نتیجہ ہے، جس سے صوبہ ایک المناک سانحے سے محفوظ رہا۔ بھارت سے منسلک نیٹ ورکس کی جانب سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریکونیسنس اور منصوبہ بندی جدید دہشت گردی کی نئی شکل کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسے واقعات سیکیورٹی اداروں کے لئے ایک وارننگ ہیں کہ سائبر اسپیس میں جاری خطرات کو بھی روایتی دہشت گردی کے برابر سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

عوامی ردعمل

عوامی سطح پر سی ٹی ڈی پنجاب کی کارروائی کو سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی سیکیورٹی اداروں کی تعریف کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل صفایا یقینی بنایا جائے۔

آپ کی رائے؟

کیا دہشت گردی کے خلاف ایسی بروقت کارروائیاں پاکستان کو مؤثر طور پر محفوظ بنا سکتی ہیں اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے خطرات پر مزید قابو پایا جا سکتا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں