اسلام آباد : الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان کو بطور چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار کے بعد ملکی سیاست میں ایک بڑی اور فیصلہ کن پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت عملی طور پر ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ پہلے ہی رجسٹریشن سے محرومی کے باعث پارٹی انتخابی عمل سے باہر ہو چکی تھی، تاہم اب الیکشن کمیشن کے تازہ فیصلے نے پی ٹی آئی کو مکمل طور پر غیر مؤثر اور غیر فعال سیاسی قوت بنا دیا ہے۔
باخبر سیاسی و پارلیمانی ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی قیادت کو تسلیم نہ کیے جانے سے تحریک انصاف کوملنے والی وہ محدود آئینی شناخت بھی ختم ہوگئی جو اب تک اس کے وجود کو برقرار رکھے ہوئے تھی۔
حکومت کا مؤقف اور قانونی حکمت عملی
ذرائع کے مطابق ماضی قریب میں حکومت پی ٹی آئی کے غیر رجسٹرڈ ہونے کے باوجود اسے باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دینے کے لیے کسی فوری یا سنجیدہ کارروائی کے حق میں نہیں تھی۔ تاہم الیکشن کمیشن کا حالیہ اقدام جو پارٹی کی صدارت یا قیادت کو تسلیم کرنے سے انکار پر مبنی ہے، اس قانونی خلا کو پُر کر رہا ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی اب تک مکمل پابندی سے بچی ہوئی تھی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب جب پارٹی کو نہ رجسٹرڈ سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل رہی ہے اور نہ قیادت کو قانونی شناخت، تو تحریک انصاف عملی طور پر سیاست کے مرکزی دھارے سے کٹ چکی ہے۔
سینیٹ میں بھی زوال
انتہائی باخبر پارلیمانی ذرائع نے بتایا ہے کہ آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے متعدد سینیٹرز نے باضابطہ طور پر تحریک انصاف سے وابستگی ترک کر دی ہے۔ ان ارکان کے واپس ہٹنے کے بعد ایوانِ بالا میں پی ٹی آئی سب سے کم تعداد رکھنے والی جماعت بن چکی ہے، جس نے پارٹی کی پارلیمانی طاقت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
اب سینیٹ میں اس جماعت کا سیاسی اثر نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے اور قانون سازی یا ایوانی سیاست میں اس کا کوئی موثر کردار باقی نہیں رہا۔
اڈیالہ جیل کے گرد سکیورٹی سخت
اسی دوران پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کی حوالات کے باعث اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیر کے روز سے ہی پولیس اہلکاروں کی خطیر نفری تعینات کی جا چکی ہے جس میں بوقتِ ضرورت مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حفاظتی دستوں کی درست تعداد کو صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے۔
مزید یہ کہ پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کے دستوں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے جو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری کارروائی کیلئے تیار رہیں گے۔
تین پرت سکیورٹی نظام
جیل انتظامیہ نے اڈیالہ کے اطراف مستقل بنیادوں پر تین سطحی سکیورٹی نظام نافذ کر دیا ہے:
-
پہلے ناکے پر ہی غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند
-
دوسرے مرحلے میں صرف اجازت یافتہ افراد کی جانچ
-
تیسرے مرحلے پر ناموں کی فہرست سے تصدیق کے بعد ہی جیل تک رسائی
اب صرف وہ افراد آگے جانے کے اہل ہوں گے جن کے نام باقاعدہ فہرست میں جیل انتظامیہ کی جانب سے منظور شدہ ہوں گے۔
طبی سہولیات سے متعلق صورتحال
جیل حکام کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی۔ تمام دستیاب سہولیات بدستور بحال ہیں۔
البتہ ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور کے نجی اسپتال سے ڈاکٹروں کی ٹیم بلوانے کی درخواست منظور ہونے کا امکان کم ہے۔ جیل انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی طبی ضرورت کی صورت میں:
-
دن میں تین مرتبہ جیل کے تُحقق ڈاکٹرز معائنہ کریں گے
-
اسلام آباد اور راولپنڈی کے مستند اسپتالوں سے ماہر ڈاکٹر بھی بلائے جا سکتے ہیں
-
تاہم تمام طبی معائنے جیل کے چیف میڈیکل افسر کی سفارش سے مشروط ہوں گے
الیکشن کمیشن کی طرف سے پارٹی قیادت کی عدم منظوری نے تحریک انصاف کی سیاسی بنیاد کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ رجسٹریشن سے محرومی، سینیٹ میں ارکان کی علیحدگی، اور قیادت کے قانونی انکار کے بعد پی ٹی آئی اب ایک فعال سیاسی جماعت کے طور پر موجود نہیں رہی۔ یہ صورتحال ملکی سیاست میں ایک غیر معمولی موڑ ہے جس نے طاقت کے سیاسی توازن کو بھرپور طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
عوامی رائے
عوام کی آراء اس معاملے پر تقسیم نظر آتی ہیں۔ بعض حلقے اسے قانون کی بالادستی کا مظہر قرار دے رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے حامی اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر شدید بحث جاری ہے جہاں ایک طبقہ نظام کی مضبوطی کا جشن مناتا دکھائی دیتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ سیاسی اختلاف کے لیے محدود ہوتی فضا پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔
آپ کی رائے؟
کیا تحریک انصاف کا عملی طور پر سیاسی منظرنامے سے نکلنا ملکی جمہوریت کیلئے مثبت پیش رفت ہے یا یہ سیاسی تنوع کے خاتمے کی طرف خطرناک قدم ہے؟
