Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاکستانی نژاد امریکی شہری کی گرفتاری،دفترِ خارجہ نے باضابطہ ردعمل جاری کر دیا

ڈیلاویئر واقعے پر پاکستان کی وضاحت، گرفتاری کے بعد قومیت کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمی دور
پاکستانی نژاد امریکی شہری کی گرفتاری،دفترِ خارجہ نے باضابطہ ردعمل جاری کر دیا

اسلام آباد : امریکا میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور مبینہ حملے کی تیاری کے الزام میں گرفتار ہونے والے لقمان خان کے معاملے پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنا باضابطہ ردعمل جاری کرتے ہوئے قومیت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی وضاحت کر دی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکا میں زیر حراست آنے والا شخص پاکستانی شہری نہیں بلکہ افغانستان کا رہائشی ہے اور اسے غلط طور پر پاکستانی نژاد قرار دیا جا رہا تھا۔

دفتر خارجہ کی وضاحت

ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ لقمان خان افغان شہری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم اگرچہ بطور مہاجر کچھ عرصہ پاکستان میں مقیم رہا تاہم اس کی زندگی کا بڑا حصہ امریکا میں گزرا ہے اور اس کا پاکستان کی شہریت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں اُسے پاکستانی نژاد امریکی شہری قرار دیا گیا جس سے پاکستان کا نام غیر ضروری طور پر جوڑا گیا، جبکہ اصل حقائق اس کے برعکس ہیں۔

گرفتاری کی کارروائی

یاد رہے کہ امریکی شہر ڈیلاویئر میں 25 سالہ لقمان خان کو 24 نومبر کی شب اس وقت گرفتار کیا گیا جب پولیس نے مشتبہ سرگرمیوں کی بنا پر کینبی پارک ویسٹ کے علاقے میں ایک ٹرک کو روکا۔ پولیس حکام کے مطابق گاڑی کو روکنے کے بعد ملزم کو باہر آنے کے احکامات دیے گئے مگر اس نے عملدرآمد کرنے سے انکار کرتے ہوئے مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں پولیس نے صورتحال پر قابو پا کر اسے حراست میں لے لیا۔

تفتیش میں کیا برآمد ہوا؟

پولیس کی جانب سے گاڑی کی تلاشی لینے پر ایک پستول اور متعدد میگزین کے علاوہ ایسی دستاویزات برآمد ہوئیں جو مبینہ طور پر کسی حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق تھیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق کاغذات میں یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے پولیس اسٹیشن کا خاکہ شامل تھا جس پر داخلی اور خارجی راستوں کی نشان دہی موجود تھی جبکہ ایک پولیس افسر کا نام بھی تحریر کیا گیا تھا، جسے ممکنہ ہدف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی خدشات

امریکی پولیس نے اس معاملے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی کی بدولت کسی ممکنہ سنگین واقعے کو ٹالا جا سکا۔ حکام نے یونیورسٹی کے گرد و نواح میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ ملزم کے روابط اور مقاصد کے بارے میں مکمل تصویر سامنے لائی جا سکے۔

غلط فہمی اور اس کے اثرات

گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد ابتدائی رپورٹس میں ملزم کو پاکستانی نژاد کہنے سے پاکستان کی ساکھ کو غیرضروری طور پر نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔ اسی تناظر میں دفتر خارجہ کی فوری وضاحت نے اس غلط فہمی کو دور کر دیا اور واضح کر دیا کہ اس کیس میں کسی پاکستانی شہری کا براہِ راست تعلق نہیں ہے۔

عالمی تناظر

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات میں قومیت سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات بعض اوقات سیاسی اور سفارتی سطح پر حساس صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی لیے ایسے معاملات میں سرکاری تفتیش کے نتائج سامنے آنے سے پہلے قیاس آرائیوں سے گریز ضروری سمجھا جاتا ہے۔

لقمان خان کی گرفتاری اور اس کے بعد قومیت سے متعلق غلط رپورٹس نے ایک بار پھر ذمہ دار صحافت اور معلومات کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ کسی بھی واقعے کو جلد بازی میں مخصوص قوم یا ملک سے جوڑنا نہ صرف عوامی رائے کو گمراہ کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ دفتر خارجہ کی بروقت وضاحت نے پاکستان پر لگنے والی بے جا نسبت کا خاتمہ کر دیا، تاہم یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مستند ذرائع کے بغیر خبریں شائع کرنے کی روایت کو روکنا ضروری ہے۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر دفتر خارجہ کے بیان کو سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ایسی حساس خبروں میں قومیت یا شناخت کے حوالے سے تصدیق کے بغیر رپورٹنگ نہیں ہونی چاہیے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دار خبر رسانی کسی بھی ملک کی عالمی ساکھ کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور میڈیا اداروں کو اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس کرنا چاہیے۔

آپ کی رائے؟

کیا قومی و عالمی سطح پر حساس نوعیت کی خبریں شائع کرنے سے پہلے میڈیا کیلئے مزید سخت تصدیقی ضابطے مقرر کیے جانے چاہئیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں