Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

بچوں کا اسکرین ٹائم اتنا بھی بُرا نہیں! نئی تحقیق نے عام تاثر بدل دیا

بچوں کا اسکرین ٹائم اتنا بھی بُرا نہیں! نئی تحقیق نے عام تاثر بدل دیا

ایڈیلیڈ:آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے بچوں اور نوجوانوں کے اسکرین ٹائم سے متعلق برسوں سے قائم منفی تاثر کو چیلنج کر دیا ہے۔ نتائج کے مطابق مخصوص ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال بچوں کی صحت، خوراک اور جسمانی سرگرمیوں پر مثبت اثرات ڈال سکتا ہے، جو والدین کے لیے ایک حیران کن انکشاف ہے۔

تحقیق نے نئی بحث چھیڑ دی

یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے محققین نے 18 سال سے کم عمر 1 لاکھ 33 ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔
یہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا تجزیہ تھا، جس میں اسکرین ٹائم کے مختلف استعمالات — جیسے ہیلتھ ایپس، فٹنس ٹریکرز اور آن لائن پروگرامز — کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج کے مطابق وہ بچے جو صحت سے متعلق ڈیجیٹل ٹولز استعمال کر رہے تھے:

  • روزانہ 10 سے 20 منٹ زیادہ جسمانی سرگرمی کرتے پائے گئے

  • ان میں بیٹھے رہنے کی عادت میں 20 سے 25 منٹ تک کمی دیکھی گئی

  • خوراک میں نمایاں بہتری سامنے آئی

  • پھل، سبزیوں اور کم چکنائی والے کھانوں کا استعمال بڑھا

یہ نتائج اس تاثر کے برعکس ہیں کہ اسکرین ٹائم بچوں میں صرف سستی، تنہائی یا غیر صحت مند طرزِ زندگی کا سبب بنتا ہے۔

وزن اور جسمانی تبدیلیاں 

تحقیق کے مطابق وزن میں ڈرامائی کمی تو نہیں ہوئی، لیکن:

  • بچے اور نوجوان مجموعی طور پر صحت مند وزن کی جانب گامزن ہوئے

  • جسمانی چربی میں مستقل کمی دیکھی گئی

  • جسمانی سرگرمی ایک مستقل عادت بنتی گئی

البتہ نیند کے حوالے سے واضح بہتری سامنے نہیں آئی، یعنی اسکرین ٹائم کا براہ راست سونے کے اوقات پر کوئی خاص مثبت یا منفی اثر ثابت نہ ہو سکا۔

اسکرین ٹائم ہمیشہ نقصان دہ؟ نئی تحقیق نے زاویہ بدل دیا

یہ تحقیق اس عمومی خیال کے برعکس ہے جس کے مطابق اسکرین کا استعمال بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔
اس نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر اسکرین ٹائم کو ہدفی، صحت مند اور منظم طریقے سے استعمال کیا جائے تو:

  • یہ بچوں کی صحت بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے

  • جسمانی سرگرمی بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

  • غیر صحت مند کھانوں کی لت کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے

  • طرزِ زندگی کو منظم بنانے میں معاون ہے

محققین کا کہنا ہے کہ والدین اگر بچوں کے اسکرین ٹائم کو مثبت ٹولز کی طرف موڑ دیں تو حیران کن نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق اس دور میں نہایت اہم ہے جہاں والدین اسکرین ٹائم کو بچوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
اگرچہ بے تحاشا اسکرین کا استعمال ذہنی اور جسمانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے، لیکن یہ تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ اصل مسئلہ اسکرین نہیں، بلکہ اسکرین کے استعمال کا طریقہ ہے۔

ڈیجیٹل ایپس اور صحت سے متعلق پروگرام بچوں کو جسمانی سرگرمیوں کی ترغیب دیتے ہیں، انہیں مناسب خوراک اپنانے میں مدد دیتے ہیں اور غیر صحت مند طرزِ زندگی سے دور رکھتے ہیں۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بچوں کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تاہم اسکرین ٹائم کا مثبت استعمال پیرنٹل گائیڈنس، توازن، اور نگرانی کا تقاضا کرتا ہے۔
اگر والدین اندھا دھند اسکرین ٹائم مہیا کریں تو نقصان بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کا ڈھنگ سے استعمال ہو تو فائدے کہیں زیادہ ہیں۔

عوامی رائے

◼ بہت سے والدین نے تحقیق کو “حوصلہ افزا” قرار دیا اور کہا کہ اس سے ان کا نظریہ تبدیل ہوا ہے۔
◼ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر اسکرین ٹائم صحت مند سرگرمیوں کی طرف موڑا جائے تو نتائج واقعی مثبت آ سکتے ہیں۔
◼ کئی لوگوں نے خبردار کیا کہ ہر قسم کا اسکرین ٹائم مفید نہیں ہوتا، اس لیے نگرانی ضروری ہے۔
◼ نوجوانوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کو آخرکار مثبت پہلو سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بچوں کا اسکرین ٹائم درست رہنمائی کے ساتھ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں