لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے سابق کپتان بابر اعظم کی حالیہ ناکامیوں کو ایک عارضی موڑ قرار دیتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بابر کی تکنیکی بنیاد اتنی مضبوط ہے کہ وہ جلد ہی بڑے اسکورز کی بنیاد رکھیں گے جو ٹیم کی بلے بازی کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ یہ بیان جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ ون ڈے سیریز میں بابر کی کمزور کارکردگی کے بعد سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے تینوں میچوں میں مجموعی طور پر صرف 45 رنز بنائے مگر ہیسن نے ان کی بلے بازی کی جھلکوں کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ان کی گیند پر نظر، مثبت انداز اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت انہیں ایک کلاس بیٹر بناتی ہے جو ٹیم کے لیے امید کی کرن ہے۔ ہیسن کا یہ اعتماد نہ صرف بابر کی ذہنی صحت کو تقویت دے گا بلکہ آنے والی سری لنکا کے خلاف تین ون ڈے میچز میں ان کی کارکردگی کو بوسٹ کرنے کا باعث بھی بنے گا جو 11 نومبر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگی اور پاکستان کی بلے بازوں کی بحالی کی آزمائش ہوگی۔
مائیک ہیسن نے میڈیا سے بات چیت کے دوران بابر اعظم کی حالیہ فارم پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ بابر کی بلے بازی میں کوئی تکنیکی خامی نہیں ہے بلکہ وہ گیند کو اچھی رفتار اور صحیح ٹائمنگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں جو ایک بلے باز کی بنیادی طاقت ہے مگر جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ان کی اوسط 15 اور اسٹرائیک ریٹ 78.94 رہنے کی وجہ سے عوامی سطح پر سوالات اٹھے تھے۔ ہیسن نے واضح کیا کہ یہ کم اسکورز عارضی نوعیت کے ہیں اور بابر ایک بڑے اننگز کے بالکل قریب ہیں جہاں ان کی ٹاپ آف دی آرڈر پوزیشن انہیں ٹیم کی بنیاد بننے کا موقع دیتی ہے۔ انہوں نے بابر کی حالیہ اننگزوں کی تعریف کی اور کہا کہ پہلے میچ میں گیند کی کم اونچائی نے انہیں نقصان پہنچایا جبکہ تیسرے میچ میں انہوں نے دباؤ کو اچھی طرح برداشت کیا اور مثبت شاٹس کھیلے مگر بدقسمتی سے رن آؤٹ کا شکار ہو گئے جو کرکٹ کی غیر یقینی نوعیت کی یاد دلاتا ہے۔ ہیسن کا یہ مؤقف بابر کو یہ پیغام دیتا ہے کہ انہیں ہر اچھے آغاز کو بڑے اسکور میں تبدیل کرنے کی فکر نہ کریں بلکہ اپنی بلے بازی کی لے، گیپ میں شاٹس اور فیصلہ سازی پر توجہ مرکوز رکھیں جو انہیں ایک مستقل مزاج بلے باز بنائے گی۔
ہیسن نے بابر کی ٹی 20 فارمیٹ میں بھی شاندار کارکردگی کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہوں نے اس مختصر فارمیٹ میں بھی کمال کا مظاہرہ کیا ہے جہاں ان کی اسٹرائیک ریٹ اور باؤنڈری ہنٹنگ کی صلاحیت ٹیم کی طاقت ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز میں بھی انہوں نے اچھے آغاز کیے خاص طور پر جب پاکستان نے ابتدائی وکٹیں کھو دی تھیں تو انہوں نے دباؤ کو سنبھالا اور ٹیم کو استحکام دیا جو ایک سینئر بلے باز کی نشانی ہے۔ ہیسن نے یہ بھی کہا کہ بابر کی فارم سے وہ بہت مطمئن ہیں اور ان کی بلے بازی کا انداز، گیند پر ردعمل اور مثبت سوچ واقعی قابلِ ستائش ہے جو انہیں ایک ورلڈ کلاس بیٹر بناتی ہے اور اب صرف ایک بڑے اسکور کی ضرورت ہے جو سری لنکا کے خلاف ان کی اننگزوں میں نظر آئے گا۔ یہ اعتماد کا ووٹ بابر کی ذہنی طاقت کو بحال کرے گا جو حالیہ تنقیدوں سے متاثر ہوئی تھی اور ٹیم مینجمنٹ کی ان پر بھروسہ کی جھلک دکھاتا ہے جو کرکٹ کی دنیا میں ایک بلے باز کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یاد رہے کہ بابر اعظم نے جنوبی افریقہ کے خلاف تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں مجموعی طور پر 45 رنز بنائے جو ان کی حالیہ فارم کی عکاسی کرتے ہیں مگر اس کے باوجود پاکستان نے اپنے ملک میں جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی بار ون ڈے سیریز میں کامیابی حاصل کی جو ٹیم کی مجموعی طاقت کا ثبوت ہے اور بابر کی عدم کارکردگی کے باوجود ان کی شراکت داری نے ٹیم کو فتح کی طرف لے جانے میں مدد دی۔ یہ سیریز پاکستان کی بلے بازی کی کمزوریوں کو بھی اجاگر کرتی ہے جہاں بابر جیسے ستارے کی ناکامی ٹیم پر دباؤ بڑھاتی ہے مگر ہیسن کی مثبت رائے سے یہ واضح ہے کہ ٹیم مینجمنٹ بابر کو ایک کلیدی کھلاڑی سمجھتی ہے جو آنے والے میچز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔
بابر اعظم کی اگلی آزمائش سری لنکا کے خلاف تین ون ڈے میچز کی سیریز ہوگی جو 11 نومبر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگی جہاں انہیں اپنی فارم واپس لانے کا سنہری موقع ملے گا اور ہیسن کی پیش گوئی کے مطابق یہاں ان کی اننگز بڑے اسکورز کی بنیاد رکھیں گی جو پاکستان کی بلے بازی کو نئی جہت دیں گی اور ٹیم کو آئندہ ٹورنامنٹس کے لیے تیار کر دیں گی۔
بابر اعظم کی فارم کی بحالی اور پاکستان کی بلے بازی پر اثرات
یہ بیان مائیک ہیسن کی کوچنگ فلسفہ کی جھلک دکھاتا ہے جو تکنیکی کمزوریوں کی بجائے ذہنی طاقت اور مثبت سوچ پر زور دیتا ہے مگر بابر کی حالیہ ناکامیوں نے ٹیم کی بلے بازی میں عدم استحکام کو اجاگر کیا ہے جہاں ان کی اوسط اور اسٹرائیک ریٹ کی کمی ٹیم کے مجموعی اسکور کو متاثر کر رہی ہے۔ ایک طرف تو ہیسن کا اعتماد بابر کو دباؤ سے آزاد کرے گا اور سری لنکا سیریز میں ان کی واپسی کو تیز کرے گا مگر دوسری طرف یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا بابر کی فارم واقعی عارضی ہے یا تکنیکی مسائل جیسے گیند کی اونچائی پر ردعمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے جو جنوبی افریقہ کے خلاف نظر آئے۔ پاکستان کی سیریز جیت نے ٹیم کی گہرائی کو ثابت کیا ہے مگر بابر جیسے ستارے کی مستقل کارکردگی ٹیم کو عالمی سطح پر چیلنجر بنا سکتی ہے اور ہیسن کی حکمت عملی اگر کامیاب ہوئی تو یہ وائٹ بال کرکٹ میں پاکستان کی بحالی کا آغاز ہوگا جو آنے والے ٹورنامنٹس جیسے چیمپئنز ٹرافی کے لیے امید افزا ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور کرکٹ فورمز پر ایک امید کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں بابر کے فینز ہیسن کی رائے کو ایک بوسٹ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اعتماد بابر کو واپس لے آئے گا اور سری لنکا کے خلاف وہ سنچری مارینگ کریں گے جبکہ تنقید کرنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے اور بابر کو فارم واپس لانے کے لیے نیٹ سیشنز میں محنت کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ ٹیم کی مجموعی جیت کی تعریف کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر فینز میں بابر کی واپسی کی خواہش غالب ہے جو پاکستانی کرکٹ کی روح کو زندہ رکھتی ہے۔
کیا آپ کے خیال میں بابر اعظم جلد اپنی فارم بحال کر پائیں گے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
