لاہور :پاکستانی شوبز کی دنیا میں اپنی منفرد اداکاری اور جاندار انداز سے دل جیتنے والے حمزہ علی عباسی نے حال ہی میں ایک ایسا انکشاف کیا ہے جو نہ صرف ان کی ذاتی جدوجہد کی ایک گہری جھلک دکھاتا ہے بلکہ خاندانی محبت اور ایمانی طاقت کی ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ہر سننے والے کے دل کو چھو جائے گی۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اداکار نے اپنے بچپن کے ان تاریک دنوں کا ذکر کیا جہاں ایک سنگین بیماری نے ان کی ننھی سی زندگی کو داؤ پر لگا دیا تھا اور ان کی والدہ کی آنکھوں کی نم دعائیں ہی ان کی شفا کا سبب بنیں جو آج بھی ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ رکھنے کی ایک زندہ مثال ہے۔
انٹرویو کا پس منظر
حمزہ علی عباسی کا یہ انکشاف ایک مقبول ٹاک شو کے دوران سامنے آیا جہاں میزبان نے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کئی دلچسپ سوالات کیے اور ان کے جوابات نے ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ انٹرویو کے مختلف کلپس تیزی سے سوشل میڈیا کی زینت بن گئے جہاں لاکھوں فالوورز نے انہیں شیئر کیا اور کمنٹس کی بھرمار ہو گئی جو اداکار کی جرات مندانہ شخصیت اور خاندانی رشتوں کی گہرائی کی تعریف سے بھرپور تھیں۔ یہ کلپس نہ صرف حمزہ کی شہرت میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ ان کی جدوجہد کی کہانی کو ایک نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں جو انہیں ایک عام انسان کے طور پر دیکھتی ہے نہ کہ صرف اسکرین کے ہیرو کے طور پر۔
بچپن کی بیماری کا تفصیلی بیان
اداکار نے میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کی عمر محض آٹھ سے بارہ سال کے درمیان تھی جب انہیں nephritis نامی گردوں کی ایک انتہائی سنگین بیماری نے گھیر لیا تھا جو بغیر کسی واضح وجہ کے گردوں کو ناکام کرنے لگتی ہے اور اس وقت کی تکلیف کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب اور خوفناک دور تھا جہاں ہر لمحہ ایک امتحان کی طرح گزر رہا تھا۔ nephritis کی یہ حالت جسم کے اندرونی نظام کو شدید متاثر کرتی ہے جہاں سوجن، درد اور کمزوری جیسے مسائل روزمرہ کی زندگی کو اجیرن بنا دیتے ہیں اور حمزہ نے بتایا کہ اس دوران ان کی صحت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ ڈاکٹروں نے بھی صورتحال کو نازک قرار دیا تھا جو ایک بچے کے لیے ناقابل برداشت تھا۔
یہ بیماری نہ صرف جسمانی طور پر تباہ کن تھی بلکہ خاندان پر بھی ایک بھاری جذباتی بوجھ ڈال رہی تھی جہاں ہر رات روتے روتے گزرتی تھی اور والدین کی پریشانی کی انتہا نہ ہوتی تھی۔ حمزہ نے اپنے الفاظوں میں اس درد کو اس طرح بیان کیا کہ یہ ایسا تھا جیسے زندگی کا ہر پل ایک جنگ ہو اور اس جنگ میں وہ اکیلا نہ تھے بلکہ ان کی ماں کی دعائیں ان کا ڈھال بنیں جو اللہ کی رحمت کو بلانے کا واحد ذریعہ تھیں۔
والدہ کی دعاؤں کی طاقت
اس مشکل گھڑی میں حمزہ کی والدہ نے اپنے بیٹے کی شفا کے لیے اللہ کے سامنے سر جھکا لیا اور جائے نماز بچھا کر راتوں کو روتے روتے دعائیں مانگیں جو ایک ماں کی بے لوث محبت کی سب سے خوبصورت تصویر تھی۔ اداکار نے جذباتی لہجے میں بتایا کہ ان کی ماں کی آنکھوں سے گرنے والے ہر قطرے میں ان کی زندگی کی امید چھپی تھی اور شکر الحمدللہ اللہ نے ان کی تسبیح قبول فرمائی اور مجھے مکمل شفا عطا کی جو آج بھی ان کے لیے ایک سبق ہے کہ ایمان کی طاقت ہر بیماری پر فتح حاصل کر سکتی ہے۔ یہ لمحات حمزہ کی زندگی کا وہ موڑ بنے جہاں انہوں نے نہ صرف جسمانی صحت واپس پائی بلکہ روحانی طور پر بھی مضبوط ہو گئے اور آج بھی وہ اپنے فینز کو یہی پیغام دیتے ہیں کہ اللہ پر بھروسہ رکھو تو کوئی مشکل ناقابل حل نہیں رہتی۔
کیریئر کی ابتدائی جدوجہد
انٹرویو کے دوران حمزہ نے اپنے کیریئر کی ابتدائی کہانی بھی سنائی جہاں ان کی والدہ سے ایک شرط لگی تھی کہ اگر وہ سی ایس ایس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آگے نوکری نہیں کریں گے اور خوش قسمتی سے وہ اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے جو ان کی محنت کی فتح تھی۔ کچھ عرصہ انہوں نے سرکاری محکمے میں ٹریننگ بھی حاصل کی اور پولیس میں بھرتی ہو گئے جہاں ان کی قابلیت نے سب کو متاثر کیا لیکن ان کا دل ہمیشہ سے اداکاری کے میدان میں تھا۔ والدہ نے بہت اصرار کیا کہ نوکری کو جاری رکھیں جو ایک ماں کی فکرمندی کی عکاسی کرتی تھی لیکن حمزہ نے اپنے خوابوں کی خاطر انہیں منا لیا اور شو بیز کی طرف قدم بڑھایا جو آج انہیں ایک کامیاب اسٹار بنا چکا ہے۔
یہ فیصلہ حمزہ کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا کیونکہ سرکاری نوکری کی استحکام کو چھوڑنا آسان نہ تھا لیکن ان کی لگن اور والدہ کی حمایت نے انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچا دیا جہاں آج وہ ڈراموں اور فلموں میں اپنا جادو جگاتے ہیں۔
عوامی ردعمل
حمزہ کے اس انکشاف نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا جہاں فینز نے ان کی ہمت اور والدہ کی دعاؤں کی تعریف میں لکھا کہ یہ کہانی ہر مشکل میں لڑنے کی ترغیب دیتی ہے اور ایک صارف نے کہا کہ حمزہ بھائی آپ کی جدوجہد دیکھ کر لگتا ہے کہ اللہ کے بندے کتنے مضبوط ہوتے ہیں۔ دوسرے نے والدہ کی محبت کو سراہتے ہوئے لکھا کہ ماں کی دعا تو پتھر کو بھی موم بنا دیتی ہے شکر ہے اللہ نے شفا دی۔ کچھ فینز نے کیریئر کی کہانی پر بھی ردعمل دیا کہ سی ایس ایس چھوڑ کر اداکاری کا فیصلہ جرأت کا کام تھا اور آج آپ کی کامیابی اس کی گواہی ہے۔ یہ سب کمنٹس حمزہ کی مقبولیت کو ظاہر کرتے ہیں جو ایک اداکار سے بڑھ کر ایک متاثر کن شخصیت بن چکے ہیں۔
جدوجہد کی کہانیاں جو زندگی کو سکھاتی ہیں اور عوامی جذبات کی جھلک
حمزہ علی عباسی کا یہ انکشاف نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کی ایک گہری تہہ کھولتا ہے بلکہ یہ بتاتا ہے کہ شوبز کی چمک دمک کے پیچھے کئی درد اور جدوجہدیں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اللہ پر یقین اور خاندانی مدد ہر طوفان کو سہارا دے سکتی ہے۔ nephritis جیسی بیماری کا سامنا کرنا ایک بچے کے لیے امتحان تو تھا لیکن والدہ کی دعاؤں نے اسے ایک سبق میں بدل دیا جو آج ہزاروں لوگوں کو متاثر کر رہا ہے اور کیریئر کی طرف منتقلی نے ثابت کیا کہ خوابوں کی پیروی ہمیشہ کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے چاہے رکاوٹیں کتنی ہی ہوں۔ عوامی رائے میں ایک اتفاق پایا جاتا ہے جہاں سوشل میڈیا پر لوگ لکھتے ہیں کہ حمزہ کی کہانی نے ہمیں امید دی ہے کہ بیماریاں بھی اللہ کی رحمت سے ختم ہو جاتی ہیں اور ایک فین نے کہا کہ ماں کی روئیں اللہ تک ضرور پہنچتی ہیں یہ دیکھ کر ایمان مزید مضبوط ہو گیا جبکہ دوسرے نے کیریئر کی کہانی کو سراہا کہ نوکری چھوڑنے کا فیصلہ بہادری تھی اور آج آپ کا مقام اس کی ثمر ہے۔ یہ جذبات حمزہ کی شخصیت کی گہرائی کو اجاگر کرتے ہیں جو نہ صرف تفریح دیتی ہے بلکہ زندگی کے سبق بھی سکھاتی ہے اور اگر ایسی کہانیاں سامنے آتی رہیں تو شوبز زیادہ انسانی اور متاثر کن بن جائے گا۔
