واشنگٹن: ا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے ڈرامائی انداز میں پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور انہیں "ایک عظیم فائٹر” قرار دیا، جبکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی کے تنازعے میں اپنی ذاتی مداخلت کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا کہ ان کی ایک کال نے ممکنہ جوہری جنگ کو روک دیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایک عوامی تقریب میں سامنے آیا، جہاں انہوں نے تجارتی دباؤ کو ہتھیار بنا کر خطے کو امن کی طرف موڑنے کی کہانی سنائی، جو اب عالمی میڈیا کی سرخیوں میں چھائی ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی قیادت سے براہ راست رابطے میں تھے، اور انہیں خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ جاری رہی تو امریکا کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔ "میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے جا رہا تھا۔ مودی سے میری بہت اچھی دوستی ہے، میں ان کا احترام کرتا ہوں، وہ ایک قاتل ہے اور بہت سخت ہے، اسی طرح پاکستان کا وزیر اعظم بھی بہترین انسان ہے۔ ان کے پاس ایک فیلڈ مارشل ہے جو بہت زبردست فائٹر ہے،” ٹرمپ نے کہا، جیسے وہ ایک ہالی ووڈ فلم کی اسکرپٹ کی طرح بیان کر رہے ہوں۔
انہوں نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا”مجھے اطلاع ملی کہ سات طیارے مار گرائے گئے ہیں، دونوں ممالک جو ایٹمی طاقت رکھتے ہیں ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ میں نے مودی کو فون کیا اور کہا کہ ہم آپ سے کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتے اگر آپ جنگ چھیڑ رہے ہیں۔ پھر میں نے پاکستان سے رابطہ کیا اور انہیں بھی یہی بات کہی۔ دونوں کا جواب تھا کہ ہمیں لڑنے دیں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ واقعی سخت لوگ ہیں۔” ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں مزید کہا "میں نے مودی سے کہا، آپ تو بہت اچھے نظر آتے ہیں، لیکن لگتا ہے آپ واقعی سخت مزاج ہیں۔ مودی نے کہا، نہیں، ہم لڑیں گے۔ لیکن صرف دو دن بعد دونوں ملکوں نے مجھے فون کر کے بتایا کہ وہ سمجھ گئے ہیں اور لڑائی ختم ہو گئی۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے؟”
ٹرمپ نے اپنے سابق مخالف جو بائیڈن پر بھی طنزیہ حملہ کیا "آپ سوچتے ہیں کہ بائیڈن ایسا کر سکتا تھا؟ میرا نہیں خیال!” یہ بیان ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران ان کی سفارتی ‘کامیابیوں’ کی ایک اور قسط ہے، جو ان کی انتخابی مہم کا حصہ بن چکا ہے۔
تنازعے کا پس منظر
یہ دعویٰ مئی 2025 کی اس مختصر مگر شدید فوجی جھڑپ کی بنیاد پر ہے، جہاں بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں آپریشن سندور شروع کیا اور پاکستان و پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد کیمپوں پر حملے کیے۔ چار دن کی ہوائی اور میزائل جھڑپوں میں دونوں طرف سے دعوؤں کا سلسلہ چلا، پاکستان نے چھ بھارتی طیاروں (بشمول رافیل) مار گرانے کا اعلان کیا، جبکہ بھارت نے خاموشی اختیار کی۔ 10 مئی کو جنگ بندی کا اعلان ہوا، جسے بھارت نے دو طرفہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا، مگر ٹرمپ نے اسے اپنی ذاتی مداخلت کا کریڈٹ دیا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے جون میں وائٹ ہاؤس میں عاصم منیر سے ملاقات کے دوران بھی اسے دہرایا، جہاں منیر نے مبینہ طور پر ان کی تعریف کی کہ انہوں نے "لاکھوں جانیں بچائیں”۔
عالمی ردعمل
ٹرمپ کا یہ بیان فوری طور پر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ انڈین میڈیا نے اسے "ٹرمپ کی پرانی کہانی کا نیا ورژن” کہا، جبکہ پاکستانی حلقوں میں اسے خوش آئند سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کی تائید کرتا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اب تک خاموشی اختیار کی ہے، مگر نجی طور پر اسے "امریکی فنتازی” قرار دیا جا رہا ہے۔
عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا
سوشل میڈیا پر #TrumpPraisesAsim اور #NuclearCrisisAverted ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک طالب علم نے لکھا: "ٹرمپ نے عاصم منیر کو ‘عظیم فائٹر’ کہا، پاکستان کا فخر!” دہلی کی ایک خاتون نے تنقید کی: "ٹرمپ بس ڈرامہ کر رہے ہیں، ہماری فوج نے خود فیصلہ کیا، نہ کہ تجارتی دھمکی سے!” ممبئی کے ایک کاروباری نے مذاق اڑایا: "سات طیارے ‘خوبصورت’ تھے، ٹرمپ کی تعریف میں! مگر جنگ تو رک گئی۔” کئی صارفین نے بائیڈن پر طنز کیا، جبکہ پاکستانی فینز نے منیر کی تعریف میں ویڈیوز شیئر کیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ان کی سفارتی حکمت عملی کی جھلک ہے، جہاں تجارت کو ہتھیار بنا کر تنازعات کو حل کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ مئی کا تنازعہ واقعی جوہری خطرے کا شکار تھا، اور ٹرمپ کی کالز نے ممکنہ طور پر دباؤ بڑھایا، جیسا کہ ان کی جون کی منیر سے ملاقات میں منیر کی مبینہ تعریف سے ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم، اعدادوشمار میں تضاد اور بھارت کی تردید سے واضح ہے کہ یہ صرف امریکی ورژن ہے۔ پاکستان کے لیے یہ سفارتی فتح ہے، جو منیر کی عالمی ساکھ بڑھاتی ہے، جبکہ بھارت کو ‘سخت’ لیکن ‘کنٹرولڈ’ دکھایا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر، یہ امریکی مداخلت کی روایت کو زندہ کرتا ہے، جو خطے کی خودمختاری کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اگر ٹرمپ نے واقعی کچھ روکا تو یہ اچھا ہے، مگر حقیقت میں سفارت کاری کا کریڈٹ کئی فریقوں کا ہوتا ہے – نہ کہ ایک شخص کا۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں
