اسلام آباد کی دفاعی راہداریوں سے ایک ایسا بیان گونج اٹھا ہے جو پاکستان کی سلامتی کی پالیسی کو نئی جہت دیتا ہے، جہاں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے افغان طالبان رجیم کو واضح پیغام دیا کہ ضرورت پڑنے پر اسے شکست دے کر دنیا کیلیے مثال قائم کی جا سکتی ہے۔ استنبول مذاکرات کی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم مسلسل برادر ممالک سے بات چیت کی درخواست کرتی رہی، اور پاکستان نے امن کی خاطر ان کی پیشکش قبول کی، مگر بعض افغان حکام کے زہریلے بیانات رجیم کے اندر انتشار اور دھوکے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ پاکستان کو طالبان کو ختم کرنے یا غاروں میں دھکیلنے کی ضرورت نہیں، مگر اگر حالات مجبور کریں تو تورا بورا جیسے مقامات پر انہیں شکست دے کر عالمی سطح پر سبق سکھایا جا سکتا ہے جو اقوام عالم کے لیے دلچسپ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم اپنی قابض حکمرانی اور جنگی معیشت کو بچانے کے لیے افغانستان کو ایک اور تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے، جو افسوسناک ہے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ طالبان حکام اپنی کمزوری اور جنگی دعووں کی حقیقت جانتے ہوئے طبل جنگ بجا رہے ہیں تاکہ بگڑتی ساکھ بچائیں، مگر پاکستان کا عزم اور حوصلہ غلط اندازہ لگایا گیا ہے۔ اگر رجیم لڑنے کی کوشش کرے گی تو دنیا دیکھ لے گی کہ ان کی دھمکیاں محض دکھاوا ہیں، اور پاکستان کسی دہشت گردانہ یا خودکش حملے کو برداشت نہیں کرے گا – جواب سخت اور کڑوا ہوگا۔ خواجہ آصف نے رجیم کو اپنے انجام کا حساب رکھنے کی تنبیہ کی، کیونکہ پاکستان کی صلاحیتوں کو آزمانا ان کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوگا۔
انہوں نے "سلطنتوں کا قبرستان” والے تصور کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود کو کسی سلطنت کے طور پر نہیں دیکھتا۔ ان کے مطابق، آج کا افغانستان طالبان کی پالیسیوں کے باعث اپنے ہی لوگوں کے لیے ایک قبرستان بن چکا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ خطہ ہمیشہ سے بڑی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ جو عناصر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کریں گے، انہیں سخت جواب دیا جائے گا۔ افغان حکام سے بھی انہوں نے اپیل کی کہ وہ اپنے عوام کو غیر ضروری تنازعات میں نہ جھونکیں۔
افغانستان کی جنگی معیشت
افغانستان کی معیشت، جو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک جنگی ساخت اختیار کر چکی ہے، تنازعات، اسمگلنگ اور غیر رسمی ذرائع پر انحصار کرتی ہے، جہاں عوام کی غربت اور معاشی سکڑاؤ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ تین سالہ طالبان راج میں، معیشت کی بنیاد جنگی معیشت پر قائم ہے جو دہشت گردی، منشیات کی تجارت (حالانکہ پاپی کی کاشت پر پابندی سے اربوں کا نقصان ہوا)، معدنی وسائل کی اسمگلنگ، اور محدود ٹیکس وصولی پر مبنی ہے۔ امریکہ کی مداخلت کے خاتمے کے بعد، طالبان کی حکمرانی نے کرپشن کو کم کیا اور ٹیکس آمدنی بڑھائی، مگر مجموعی GDP اور فی کس آمدنی میں شدید کمی آئی، جو عوام کو شدید غربت اور بے روزگاری کی دلدل میں دھکیل رہی ہے۔ یہ معیشت نہ صرف طالبان کی بقاء کا ذریعہ ہے بلکہ افغان عوام کو غیر ضروری تنازعات میں جھونک رہی ہے، جو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
طالبان کی پاپی کی کاشت پر پابندی نے سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جو دیہی علاقوں کی آمدنی کا بڑا حصہ تھی، جبکہ کرپشن میں کمی سے ٹیکس وصولی بڑھی مگر مجموعی معیشت رکاوٹ کا شکار ہے۔ یہ جنگی معیشت، جو ماضی میں نیٹو سپلائی لائنز اور وارلارڈز کی کمپنیوں پر مبنی تھی، اب طالبان کی قابض حکمرانی کی بقاء کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جو افغانستان کو سلطنتوں کا قبرستان بنانے کی بجائے اپنے لوگوں کے لیے قبرستان بنا رہی ہے۔
طالبان راج میں معیشت کی ساخت
طالبان کے اقتدار کے تین سال بعد، افغانستان کی معیشت ایک رکاوٹ اور کمزور حالت میں ہے، جہاں 18 ماہ کی شدید سکڑاؤ کے بعد استحکام کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ طالبان نے کرپشن کم کر کے ٹیکس اور ریونیو بڑھایا، مگر مجموعی GDP اور فی کس آمدنی میں کمی آئی، جو متوسط دولت اور معاشی سرگرمی کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ جنگی معیشت منشیات کی تجارت (پاپی پابندی سے پہلے)، معدنی وسائل کی اسمگلنگ، اور غیر رسمی ذرائع پر انحصار کرتی ہے، جو طالبان کی بقاء کو یقینی بناتی ہے مگر عوام کو غربت کی دلدل میں دھکیلتی ہے۔
ماضی میں نیٹو سپلائی لائنز اور وارلارڈز کی کمپنیاں جنگی معیشت کا حصہ تھیں، جو طالبان کے خلاف لڑتی تھیں، مگر اب طالبان کی حکمرانی میں یہ ساخت تبدیل ہو گئی ہے، جہاں تنازعات کی بقاء پر انحصار ہے۔ طالبان کی پاپی پابندی نے دیہی آمدنی کو ایک ارب ڈالر سالانہ کم کیا، جو معیشت کی کمزوری کو بڑھاتی ہے، جبکہ وسیع غربت اور سماجی پابندیوں کے باوجود طالبان اقتدار میں مضبوط ہیں۔
عوامی رائے
اس بیان نے سوشل میڈیا پر فوری ردعمل جنم دیا، جہاں پاکستانی عوام وزیر دفاع کی پوزیشن کی حمایت میں آ گئے اور طالبان رجیم کی تنقید کر رہے ہیں۔ ایکس پر #KhawajaAsifWarning ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "تورا بورا جیسی مثال قائم کرو، طالبان کو سبق سکھاؤ پاکستان کا عزم ناقابل شکست!” دوسرے نے کہا”طالبان کی جنگی معیشت اور دھوکہ افشا ہوا، پاکستان کی سلامتی پہلے!”
افغان اور علاقائی حلقوں میں بھی بحث ہے، جہاں کچھ لوگ رجیم کی کمزوری تسلیم کر رہے ہیں "افغانستان کو تباہ نہ کرو، پاکستان سے ٹکراؤ مہنگا!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات پاکستان کی دفاعی پوزیشن کی حمایت میں ہیں، اور لوگ سخت اقدامات کی توقع رکھتے ہیں، جو سرحدی سلامتی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
خواجہ آصف کا بیان استنبول مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جو طالبان رجیم کی ذمہ داری سے کتراؤ اور جنگی معیشت پر تنقید کرتا ہے۔ تورا بورا جیسی شکست کی تنبیہ رجیم کو آزمانے کی مہنگی قیمت کی نشاندہی کرتی ہے، جو پاکستان کی صلاحیتوں اور عزم کی طاقت کو واضح کرتی ہے۔ انتشار اور دھوکے کی بات رجیم کی اندرونی کمزوری کو اجاگر کرتی ہے، جو افغان عوام کو تنازعے میں دھکیلنے کی کوشش کو روکنے کی اپیل ہے۔ عوامی سطح پر، حمایت غالب ہے جو پاکستان کی سلامتی کی ترجیح کو تسلیم کرتی ہے، جو دہشت گردی کے خلاف سخت موقف کی توقع رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ بیان سفارتی ناکامی کے بعد دفاعی تیاری کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو علاقائی استحکام کی حفاظت کرے گا مگر تناؤ بڑھا سکتا ہے۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔
