Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ملک بھر میں جعلی کال سینٹرز کے گرد گھیرا مزید تنگ، تین سو ملین کی خوردبرد کی تحقیقات جاری

کال سینٹرز پاکستان میں کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں اور اس سال 271 ایف آئی اے افسران کو جرمانہ کیا گیا
ملک بھر میں جعلی کال سینٹرز کے گرد گھیرا مزید تنگ، تین سو ملین کی خوردبرد کی تحقیقات جاری

اسلام آباد (رپورٹ – غلام مرتضیٰ) سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کی سرگرمیوں اور خوردبرد کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ کیس اینٹی کرپشن ونگ کے دائرہ کار میں ہے اور اس میں تیرہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کال سینٹرز پر تین سو ملین روپے کی خوردبرد کا الزام ہے، جبکہ کیس میں پندرہ لاکھ روپے کی رقم ایک سب انسپیکٹر سے وصول کی جا چکی ہے۔ تین ملزمان کی موجودگی نامعلوم ہے، پانچ ضمانت پر ہیں اور تین ایف آئی اے کے پاس ہیں۔

ایف آئی اے نے مزید کہا کہ تحقیقات کے دوران دوسرے محکموں کے افراد بھی اس کیس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ کال سینٹرز پاکستان میں کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں اور اس سال 271 ایف آئی اے افسران کو جرمانہ کیا گیا، جو کل ایف آئی اے کیسز کا 5.8 فیصد بنتا ہے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ کال سینٹرز کا معاملہ سالوں سے جاری ہے۔ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی بتایا تھا کہ گاڑی کی ڈگی میں سامان رکھ کر کال سینٹرز چلائے جا رہے ہیں اور اس میں سرکاری افسران شامل ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیگر ممالک میں یہ کال سینٹرز بند کیے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔

ایف آئی اے حکام نے وضاحت دی کہ این سی سی آئی اے اب ایک علیحدہ ادارہ ہے جو پہلے ایف آئی اے کا حصہ تھا، اور اس کیس کو وفاقی اینٹی کرپشن ایجنسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزارت آئی ٹی کے سیکریٹری نے کہا کہ رجسٹرڈ کال سینٹرز غیر قانونی نہیں، جو کال سینٹرز غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوں وہ قانون کی گرفت میں آتے ہیں۔ پاکستان میں تین ہزار رجسٹرڈ کال سینٹرز ہیں۔

این سی سی آئی اے کے مطابق گزشتہ سال ایک لاکھ پچاس ہزار شکایات سائبر کرائم کے حوالے سے موصول ہوئیں، اور کراچی میں ایک بڑے ریڈ کے دوران متعدد کال سینٹرز پکڑے گئے، جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے نے ریڈ کر کے بہت اچھا کام کیا۔ ٹیکنالوجی تیزی سے بدلتی ہے اور ایجنسی ایک قدم پیچھے رہ جاتی ہے۔ سائبر کرائم میں اب صرف کال سینٹر نہیں بلکہ سوشل میڈیا بھی شامل ہے۔ این سی سی آئی اے سائبر کرائم کے لیے بنایا گیا ہے، اور تحقیقات مکمل ہونے تک وقت درکار ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارے پاک ڈیٹا کام کے سی ای او بریگیڈیئر ریٹائرڈ ذوالفقار نے کمیٹی میں شکایت درج کرائی کہ ان کے خلاف بورڈ اور وزارت کی جانب سے زیادتی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کمپنی کو محنت سے دوسرا نمبر دلایا اور شرپسند عناصر کو نکالا۔

پی ٹی سی ایل بورڈ ممبرز کی تنخواہ اور مراعات کے معاملے پر لاء ایڈوائزر زاہدہ اعوان نے بتایا کہ بورڈ ممبرز کے کوئی اضافی فوائد نہیں ہیں۔

چئیرمین پی ٹی اے میجر جنرل ر حفیظ الرحمان نے کہا کہ ڈسٹرکٹ لیول پر انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے لائسنس دیے جائیں گے، جس سے حکومت کے اخراجات کم ہوں گے۔ انہوں نے سالہا سال سے جمع شدہ یو ایس ایف فنڈ کے استعمال پر بھی بات کی۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق کال سینٹرز پر سخت نگرانی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔ سائبر کرائم میں تیزی سے تبدیلی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کی کارکردگی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ عوام کی شکایات پر فوری کارروائی شفافیت اور اعتماد بڑھانے کے لیے اہم ہے۔

پاکستان میں کال سینٹرز کی غیر قانونی سرگرمیاں سالوں سے جاری ہیں، اور موجودہ تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ صرف چند ریڈز کافی نہیں۔ ٹیکنالوجی میں تیزی سے تبدیلی اور عالمی سطح پر سائبر کرائمز کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی اداروں کو مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ کال سینٹرز کی نگرانی، رجسٹریشن اور ان کی سرگرمیوں کی شفافیت ملکی معیشت اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کے لیے ضروری ہے۔

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

کیا کال سینٹرز کے خلاف سخت کارروائی اور سائبر کرائمز کی نگرانی پاکستان میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو محفوظ بنا سکتی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شئیر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں