Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ایران کے چیف جسٹس کی مظاہرین کو سخت وارننگ، احتجاج 78 شہروں تک پھیل گیا

اسلامی جمہوریہ عوامی احتجاج اور شرپسندی کے درمیان واضح فرق رکھتی ہے۔چیف جسٹس
ایران کے چیف جسٹس کی مظاہرین کو سخت وارننگ، احتجاج 78 شہروں تک پھیل گیا

تہران:(آفتاب )ایران میں شدید معاشی بحران کے باعث جاری پرتشدد احتجاج کے تناظر میں چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے فسادی عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کے جائز مطالبات کو سنا جائے گا، تاہم تخریب کاری، بدامنی اور تشدد میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا۔

ایرانی عدلیہ سے وابستہ میزان نیوز ایجنسی کے مطابق غلام حسین محسنی ایجئی نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی پراسیکیوٹرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ قانون پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن قوتیں ملک میں افراتفری پھیلانے کی سازش کر رہی ہیں، تاہم اسلامی جمہوریہ عوامی احتجاج اور شرپسندی کے درمیان واضح فرق رکھتی ہے۔

دوسری جانب مہنگائی، بے روزگاری اور ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ کے خلاف مظاہرے نویں روز بھی جاری ہیں، جو اب ملک کے 78 شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ مظاہرین میں طلبہ کی بڑی تعداد بھی شامل ہو گئی ہے، جبکہ کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران اب تک 20 سے زائد مظاہرین ہلاک، 50 سے زیادہ زخمی جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بعض شہروں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس اور فائرنگ کے استعمال کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

احتجاجی لہر کو کم کرنے کے لیے ایرانی حکومت نے ایک مالی ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر شہری کو آئندہ چار ماہ تک ماہانہ تقریباً 7 ڈالر کا الاؤنس فراہم کیا جائے گا، جو ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے کریڈٹ کی صورت میں دیا جائے گا۔

اس موقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ عوام کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں گے، تاہم بیرونی سازشوں اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور انہیں سختی سے کچل دیا جائے گا۔

ماہرین کی رائے

عالمی امور کے ماہرین کے مطابق ایران کو اس وقت بیک وقت معاشی، سیاسی اور سماجی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پرامن مظاہرین اور تشدد پسند عناصر میں فرق کرنے کا اعلان ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم زمینی حقائق میں یہ فرق واضح رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف مالی الاؤنس جیسے اقدامات عوامی غصے کو وقتی طور پر تو کم کر سکتے ہیں، مگر مہنگائی، کرنسی کی گراوٹ اور بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل حل کیے بغیر احتجاجی لہر کو مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوگا۔

ایران میں جاری احتجاج محض معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ عوامی اعتماد، حکومتی پالیسیوں اور عالمی پابندیوں کے مجموعی اثرات کا نتیجہ بنتے جا رہے ہیں۔ 78 شہروں تک احتجاج کا پھیل جانا اس بات کی علامت ہے کہ عوامی بے چینی ایک منظم اور وسیع شکل اختیار کر چکی ہے۔

حکومت ایک طرف سخت عدالتی کارروائیوں کا عندیہ دے رہی ہے، تو دوسری جانب ریلیف پیکج کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ دوہرا طرزِعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانی قیادت صورتحال کی سنگینی کو محسوس کر رہی ہے۔

تاہم اگر طاقت کے استعمال میں اضافہ ہوا تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے داخلی استحکام اور علاقائی صورتحال دونوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ حکومت اصلاحات کے ذریعے صورتحال سنبھال پاتی ہے یا تصادم کا راستہ مزید پیچیدہ بحران کو جنم دیتا ہے۔

 اپنی رائے

ایران میں جاری احتجاج اور حکومت کے سخت مؤقف کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا یہ اقدامات حالات بہتر بنا سکیں گے یا بحران مزید بڑھے گا؟
👇 کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں