Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

انسان نے کتوں سے پہلے کون سا جانور پالا؟ حیران کن سائنسی انکشاف

سویڈن سے ملنے والی حیران کن دریافت نے تاریخ بدل دی
انسان نے کتوں سے پہلے کون سا جانور پالا؟ حیران کن سائنسی انکشاف

کراچی (رپورٹ۔غلام مرتضی)ایک نئی سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ انسانوں نے کتوں کو پالنے سے ہزاروں سال پہلے بھیڑیوں کو گھریلو جانور کے طور پر اپنایا تھا۔ یہ حیران کن شواہد سوئیڈن کے ایک جزیرے میں دریافت ہونے والی قدیم باقیات سے سامنے آئے ہیں، جو انسانی تہذیب اور جانوروں کے تعلق کی تاریخ پر نئی روشنی ڈالتے ہیں۔

اسٹاک ہوم یونیورسٹی سے وابستہ محققین کے مطابق سوئیڈن کے ایک جزیرے میں واقع اسٹورا فورور نامی غار سے قبل از تاریخ بھیڑیوں کی باقیات دریافت ہوئی ہیں، جو تقریباً 3 ہزار سے 5 ہزار سال قدیم ہیں۔ یہ دریافت ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ غار میں پتھر اور کانسی کے ادوار سے تعلق رکھنے والے شواہد ملے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور کے انسان بھیڑیوں کو بڑے پیمانے پر استعمال کرتے تھے۔ یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھیڑیے صرف شکار کے جانور نہیں تھے بلکہ ممکنہ طور پر انسانوں کے ساتھ رہتے اور ان کے زیرِ اثر تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس جزیرے پر یہ غار واقع ہے، اس کا رقبہ محض 2.5 مربع کلومیٹر ہے اور وہاں کسی مقامی زمینی مملیے کے آثار نہیں ملے۔ اس وجہ سے محققین کا خیال ہے کہ وہاں رہنے والے انسان بھیڑیوں کو باقاعدہ طور پر پال کر رکھتے تھے، کیونکہ وہ جانور قدرتی طور پر اس محدود علاقے میں موجود نہیں ہو سکتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بات طے ہے کہ کتے قدیم پتھر کے دور میں بھیڑیوں ہی سے ارتقا پذیر ہوئے، تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ بھیڑیوں کو سب سے پہلے کہاں اور کس طرح انسانوں نے پالا۔ یہ نئی دریافت اس تاریخی پہیلی کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

یہ تحقیق انسان اور جانور کے تعلق کی ابتدائی تاریخ پر نئی روشنی ڈالتی ہے اور اس تصور کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ انسانی تہذیب کی تشکیل میں بھیڑیوں نے کتوں سے پہلے ایک اہم کردار ادا کیا۔

ماہرین کی رائے

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق سوئیڈن کے جزیرے اسٹورا فورور میں ملنے والی قبل از تاریخ باقیات اس بات کی مضبوط دلیل ہیں کہ انسانوں اور بھیڑیوں کے درمیان تعلق کتوں کے باقاعدہ ظہور سے بھی کہیں پہلے قائم ہو چکا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود رقبے والے جزیرے میں بھیڑیوں کی موجودگی محض قدرتی ہجرت کا نتیجہ نہیں ہو سکتی بلکہ یہ انسانوں کی جانب سے انہیں پالنے کا واضح ثبوت ہے۔

حیاتیاتی ارتقا کے ماہرین کے نزدیک یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ کتے براہِ راست پالتو جانور کے طور پر نہیں بلکہ پہلے بھیڑیوں کے ساتھ انسانی تعلق کے نتیجے میں بتدریج وجود میں آئے۔ ان کے مطابق انسانوں نے ابتدا میں بھیڑیوں کو شکار، تحفظ اور سماجی رفاقت کے لیے اپنایا ہوگا۔

اسٹاک ہوم یونیورسٹی سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ یہ شواہد انسانی تہذیب کے ابتدائی دور میں جانوروں کے استعمال اور ان سے تعلق کی نوعیت کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق انسانی تاریخ کے ایک بنیادی سوال کا نیا جواب پیش کرتی ہے۔ اب تک عام تصور یہی تھا کہ کتا پہلا جانور تھا جسے انسان نے پالا، مگر سوئیڈن سے ملنے والی 3 ہزار سے 5 ہزار سال قدیم بھیڑیوں کی باقیات اس مفروضے کو چیلنج کرتی ہیں۔

اسٹورا فورور نامی غار میں ملنے والے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ پتھر اور کانسی کے دور میں بھیڑیوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ جزیرے کا صرف 2.5 مربع کلومیٹر رقبہ اور دیگر زمینی ممالیہ کی عدم موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بھیڑیوں کو وہاں انسان باقاعدہ طور پر لے کر آئے اور پالا گیا۔

یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھیڑیے انسانوں کے لیے صرف جانور نہیں بلکہ سماجی ساتھی اور حفاظتی معاون تھے، جس نے بعد میں کتے کی شکل اختیار کی۔ اس تحقیق سے انسانی سماجی ارتقا، جانوروں سے تعلق اور ابتدائی تہذیب کی تشکیل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

یوں یہ دریافت نہ صرف جانوروں کی گھریلو تاریخ بلکہ انسان کے ارتقائی سفر میں بھیڑیے کے کردار کو ازسرِنو اجاگر کرتی ہے۔

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

کیا آپ کے خیال میں بھیڑیوں کے ساتھ انسانی تعلق نے کتے کی پیدائش میں بنیادی کردار ادا کیا؟
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں