وانا (جنوبی وزیرستان): پاکستان کی قبائلی علاقوں میں تعلیم کی ایک روشن شمع کیڈٹ کالج وانا پر 10 نومبر کو افغان خوارج کے بزدل حملے نے ایک بار پھر دہشت کی تاریک چادر پھیلانے کی کوشش کی مگر پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور قربانیوں نے اسے مکمل طور پر ناکام بنا دیا جہاں کالج کے اندر موجود تقریباً 650 افراد بشمول 525 کیڈٹس اور اساتذہ کو بحفاظت نکال لیا گیا اور تین حملہ آوروں کی تلاش میں کلیئرنس آپریشن آخری خوارج کے خاتمے تک جاری ہے۔ یہ حملہ نہ صرف معصوم قبائلی بچوں کی تعلیم اور مستقبل پر براہ راست حملہ تھا بلکہ پاکستان کی امن و ترقی کی جدوجہد کو چیلنج کرنے کی ایک ناکام سازش بھی تھی جو سیکیورٹی فورسز کی فوری اور جرات مندانہ کارروائی سے بکھر گئی اور کیڈٹس کی جانوں کو محفوظ کر لیا جو فوج کی حفاظتی ڈھال کی زندہ مثال ہے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن اب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے اور وہ مسلسل ٹیلی فون پر ہدایات لے رہے ہیں مگر پاک فوج کی مہارت نے انہیں ایک الگ عمارت میں گھیر لیا ہے جو طلبہ کی رہائش گاہوں سے دور ہے اور کلیئرنس کا عمل بڑی احتیاط سے جاری ہے تاکہ کوئی کیڈٹ کی جان کو خطرہ نہ ہو۔
حملے کا آغاز 10 نومبر کو کیڈٹ کالج وانا کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی کو ٹکرا کر کیا گیا جس سے گیٹ مکمل طور پر منہدم ہو گیا اور قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جو دہشت گردوں کی تباہ کن سوچ کی جھلک دکھاتا ہے مگر پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے ردعمل دیتے ہوئے دو خوارجوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر دیا جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کی ایک زندہ تصویر ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ حملہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الخوارج کی کارروائی تھی جو آرمی پبلک سکول پشاور جیسا المیہ دہرانے کی ناکام کوشش تھی مگر سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو کالج کے انتظامی بلاک میں گھیر لیا جہاں تین افغان خوارج چھپے ہوئے ہیں اور وہ اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں ہیں جو افغانستان سے ہدایات لے رہے ہیں۔ یہ آپریشن کیڈٹس کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے جاری ہے جہاں فورسز کی ٹیمیں عمارت کی کلیئرنس کر رہی ہیں اور ہر قدم پر احتیاط برتی جا رہی ہے تاکہ طلبہ کی زندگیوں کو کوئی خطرہ نہ ہو جو فوج کی انسانی ہمدردی کی جھلک ہے۔
کیڈٹ کالج وانا جو قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کو تعلیم، نظم و ضبط اور قیادت کی تربیت دینے کا مرکز ہے اس حملے سے بری طرح متاثر ہوا مگر سیکیورٹی فورسز کی کارروائی نے اسے محفوظ کر لیا جہاں حملے کے وقت کالج میں 525 کیڈٹس سمیت 650 افراد موجود تھے اور سب کو بحفاظت نکال لیا گیا جو ایک معجزاتی کامیابی ہے۔ کیڈٹس اور اساتذہ نے پاک فوج کی بروقت کارروائی کو خراج تحسین پیش کیا اور ایک 12ویں جماعت کے طالب علم نے کہا کہ میں وزیرستان کے ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور پاک فوج نے ہمارے لیے یہ کیڈٹ کالج بنایا تاکہ ہمیں تعلیم، امن اور ترقی کے مواقع مل سکیں مگر یہ بزدل دہشت گرد ہمیشہ چاہتے تھے کہ وزیرستان کے بچے تعلیم سے محروم رہیں اور اپنی شیطانی سوچ مسلط کریں جو آج پھر ناکام ہو گئی اور ہمیشہ ناکام رہے گی جو قبائلی نوجوانوں کی بہادری اور فوج پر بھروسہ کی عکاسی کرتا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ قبائل سے اور نہ ہی پاکستان کی خوشحالی سے جو ان کی شیطانی فطرت کو بے نقاب کرتا ہے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
حملے کی سی سی ٹی فوٹیج منظر عام پر آ گئی ہے جو دھماکے کی شدت کو ظاہر کرتی ہے جہاں بارود سے بھری گاڑی گیٹ سے ٹکرائی گئی اور مرکزی دروازہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ قریبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا مگر پاک فوج کی فوری کارروائی نے مزید تباہی روک لی۔ یہ فوٹیج حملہ آوروں کی بزدلی کو بھی اجاگر کرتی ہے جو تعلیم کے مرکز کو نشانہ بنا رہے تھے مگر فورسز کی مہارت نے انہیں ناکام بنا دیا اور آپریشن عزم استحکام کے تحت ان خوارجین کو ٹھکانے لگانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جو پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور فورسز کی کارروائی کی تعریف کی ہے جو قومی سطح پر اتحاد کی کال ہے۔
وانا کیڈٹ کالج حملہ اور پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی
یہ حملہ پاکستان کی قبائلی علاقوں میں تعلیم اور ترقی پر دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی بے خوفی کو بے نقاب کرتا ہے جو فتنہ الخوارج جیسی پراکسی گروپوں کی بھارتی اور افغان تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے مگر پاک فوج کی فوری کارروائی نے اسے ناکام بنا دیا جو انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کی کامیابی کی علامت ہے۔ ایک طرف تو 650 افراد کی بحفاظت نکالنے نے فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کو ثابت کیا مگر دوسری طرف تین حملہ آوروں کی باقیات آپریشن کی طوالت کو ظاہر کرتی ہیں جو سرحدی کنٹرول اور انٹیلی جنس کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ کیڈٹس کی تحسین اور بزدل دہشت گردوں کی ناکامی قبائلی علاقوں میں تعلیم کی اہمیت کو واضح کرتی ہے مگر یہ حملہ APS پشاور کی یاد دلاتا ہے جو دہشت کی روک تھام کے لیے علاقائی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ایسے سانحات روکے جائیں جو نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ واقعہ پاکستان کی سلامتی کی نازک صورتحال کو اجاگر کرتا ہے مگر فورسز کا عزم امید کی کرن ہے جو دہشت کے خاتمے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک شدید غم و غصے اور فخر کی لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں پاکستانی صارفین فوج کی کارروائی کی تعریف کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حملہ تعلیم پر حملہ ہے اور فورسز کی بہادری نے بچوں کو بچا لیا جبکہ کچھ لوگ بھارتی مداخلت اور افغان ہینڈلرز پر تنقید کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرحد سخت کی جائے۔ کیڈٹس کی تحسین وائرل ہو رہی ہے جبکہ مجموعی طور پر عوام میں فخر غالب ہے جو قومی اتحاد کی ضرورت کو واضح کر رہا ہے اور لوگ دعا کر رہے ہیں کہ آپریشن کامیاب ہو۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جانے چاہییں؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
