Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد امریکا نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں

اس واقعے میں 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کو گرفتار کیا گیا ہے
نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد امریکا نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے نے امریکی سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بڑا اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس کے نزدیک ڈیوٹی پر موجود نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی، جس کے باعث دونوں شدید زخمی ہوئے اور تاحال انتہائی نگہداشت میں ہیں۔ امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اس واقعے میں 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کو گرفتار کیا گیا ہے، جس پر حملے کا براہِ راست الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

فائرنگ کے واقعے نے امریکی اداروں کو الرٹ کر دیا

حملے کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا جبکہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر امیگریشن پالیسیوں کے پہلوؤں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سنگین واقعات کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ پسِ منظر کی جانچ مزید سخت کی جائے۔

امیگریشن درخواستوں کی معطلی

امریکی سِٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس (USCIS) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں واضح کیا کہ افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کو مکمل سیکیورٹی جانچ کے لیے عارضی طور پر روکا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ
“تمام درخواستوں کا جامع سیکیورٹی ریویو کیا جائے گا، جس کے بعد ہی انہیں دوبارہ بحال کرنے سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔”

ایجنسی کے مطابق سیکیورٹی پروٹوکولز، جانچ کے طریقہ کار اور ڈیٹا ویریفکیشن سسٹم کا ازسرِ نو معائنہ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کی پیشگی روک تھام یقینی بنائی جاسکے۔

پس منظر

گزشتہ چند برسوں میں امریکا میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث مختلف مواقع پر امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرنے کے فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے قریب پیش آنے والے تازہ واقعے نے ان خدشات کو مزید شدید کردیا ہے۔

یہ فیصلہ بظاہر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی غرض سے کیا گیا ہے، مگر اس کے تناظر میں کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ افغان شہریوں کی بڑی تعداد پہلے ہی امریکا میں محفوظ مستقبل کی امید لیے امیگریشن درخواستیں دے چکی ہے، اور اچانک کی معطلی سے ان کے لیے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

اگرچہ سیکیورٹی ہر ریاست کی ترجیح ہوتی ہے، لیکن اجتماعی معطلی جیسے اقدامات اُن بے قصور افراد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں جو قانونی راستے سے امریکا آنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی اس معاملے کو سیاسی زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی سخت امیگریشن پالیسیوں کے لیے جانی جاتی ہے

عوامی رائے

◼ متعدد امریکی شہریوں نے فیصلے کو ’’قومی سلامتی کے لیے ضروری‘‘ قرار دیا۔
◼ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے ’’اجتماعی سزا‘‘ اور غیر منصفانہ قدم کہا۔
◼ افغان کمیونٹی نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ افراد متاثر ہوں گے۔
◼ سوشل میڈیا پر اس اقدام پر شدید بحث جاری ہے جس میں دونوں جانب سے سخت مؤقف سامنے آرہے ہیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا امریکا کا یہ اقدام سیکیورٹی کے لیے ضروری تھا
یا یہ فیصلہ ہزاروں بے قصور افغان درخواست گزاروں کے لیے نئی مشکلات پیدا کرے گا؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں