سڈنی :ایشیز 2025-26 کے پہلے ٹیسٹ سے ٹھیک دو روز قبل کرکٹ دنیا میں زلزلہ آ گیا۔ آسٹریلیا کے لیجنڈری فاسٹ بولر اور عالمی کپ جیتنے والے ہیرو گلین میگرا کو قومی براڈکاسٹر ABC نے ریڈیو کمنٹری پینل سے فوری طور پر الگ کر دیا۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی میگرا کے ایک آن لائن جوئے کی کمپنی سے تعلق کی وجہ سے کی گئی، جو ادارے کی سخت گیر پالیسی کی صریح خلاف ورزی ہے۔
باہمی رضامندی یا مجبوری؟
تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں لیجنڈری فاسٹ بولر گلین میگرا کو ایشیز سیریز شروع ہونے سے صرف 48 گھنٹے قبل ریڈیو کمنٹری پینل سے اچانک الگ کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف شائقین کے لیے حیران کن ثابت ہوا بلکہ کرکٹ حلقوں میں بحث کا نیا دروازہ بھی کھول گیا ہے۔
آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی براڈکاسٹر نے میگرا کے ساتھ اپنا کمرشل تعاون ختم کرکے انہیں کمنٹری ٹیم سے ہٹا دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ادارے نے واضح کیا کہ میگرا کا آن لائن جوئے کی ایک کمپنی کے ساتھ تعلق ادارے کی پالیسی سے متصادم ہے۔
میڈیا کے مطابق ادارے کے سخت اصول کے تحت کوئی بھی ملازم یا نمائندہ کسی بھی ایسی کمپنی سے وابستہ نہیں ہوسکتا جو جوا یا بیٹنگ انڈسٹری سے تعلق رکھتی ہو۔ میگرا کی فاؤنڈیشن کی اسپانسرشپ میں اسی نوعیت کی ایک کمپنی شامل ہونے کے باعث ان پر براہِ راست یہ پالیسی لاگو کر دی گئی۔
براڈکاسٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ ادارہ اور گلین میگرا ’’باہمی اتفاق رائے‘‘ سے ایک دوسرے سے الگ ہوئے ہیں، تاہم اس اچانک فیصلے نے ایشیز سے قبل ماحول کو خاصا گرم کر دیا ہے، کیونکہ میگرا ایک بار پھر اس بڑے ایونٹ میں تجزیہ کار کی حیثیت سے نمایاں کردار ادا کرنے والے تھے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب قومی براڈکاسٹر نے اپنی پالیسی پر سختی سے عمل کیا ہو۔ اس سے قبل 2022 میں سابق فاسٹ بولر میچل جانسن کو بھی اسی قانون کے باعث کمنٹری کے فرائض سے الگ کیا گیا تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ادارہ اس معاملے میں کسی بھی شہرت یافتہ شخصیت کے لیے استثنیٰ فراہم نہیں کرتا۔
یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ آسٹریلیا کا قومی براڈکاسٹر اپنے اصولوں پر کسی بھی سطح پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ بڑے نام، شہرت یا سابقہ خدمات کسی چیز کو پالیسی سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔
گلین میگرا جیسی شخصیت کو ایشیز سے محض دو دن پہلے ہٹانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ عالمی سطح پر اپنی شفافیت اور اخلاقی پالیسی کو برقرار رکھنے کا خواہش مند ہے، چاہے اس کے لیے اسے اچانک اور غیر مقبول فیصلے ہی کیوں نہ کرنا پڑیں۔
دوسری طرف یہ معاملہ اس بحث کو بھی جنم دے رہا ہے کہ آیا کسی فاؤنڈیشن کی اسپانسرشپ کو ذاتی مفاد سے جوڑ کر کیریئر کے مواقع محدود کرنا درست ہے یا نہیں۔
عوامی رائے
◼ بہت سے شائقین اس فیصلے کو غیر متوقع اور غیر ضروری قرار دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میگرا کرکٹ کی دنیا کا معتبر نام ہیں اور ان کا کردار کمنٹری میں پروفیشنل ہی رہا ہے۔
◼ کچھ لوگ براڈکاسٹر کی پالیسی کی تعریف کر رہے ہیں کہ اصول سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔
◼ جبکہ ایک طبقہ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ اگر میگرا کا تعلق صرف فاؤنڈیشن کے ذریعے تھا تو کیا اسے ’’تضادِ مفاد‘‘ تصور کرنا مناسب ہے؟
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا ایسے بڑے ناموں کو پالیسی کے تحت فوراً ہٹایا جانا درست ہے؟
کیا فاؤنڈیشن کی اسپانسرشپ بھی ذاتی تعلق تصور ہوتی ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
