Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

27ویں آئینی ترمیم پر پارلیمانی اتفاق، کمیٹی نے متفقہ منظوری دے دی، آج سینیٹ میں پیش ہونے کا امکان

پہلے سیشن میں اراکین نے آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم کی منظوری دی جو فوج کی کمانڈ اور اعلیٰ عہدوں کی تقرریوں سے متعلق ہے
27ویں آئینی ترمیم پر پارلیمانی اتفاق، کمیٹی نے متفقہ منظوری دے دی، آج سینیٹ میں پیش ہونے کا امکان

اسلام آباد: پاکستان کی آئینی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کو شق بہ شق متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جو ملک کے فوجی، عدالتی اور انتظامی ڈھانچے کو بنیاد سے تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ بل آج سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا جہاں اس کی حتمی منظوری کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ منظوری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومتی اتحاد کی اندرونی کوششیں اور اپوزیشن کی شدید مخالفت ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں مگر کمیٹی کے دو سیشنز پر مشتمل طویل اجلاس نے تمام اہم شقوں پر اتفاق رائے پیدا کر دیا ہے جو صوبائی حقوق، وفاقی عدالتیں اور فوجی تقرریوں جیسے حساس امور کو نئی شکل دے گا اور یہ ترمیم وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمانی مراحل میں داخل ہو چکی ہے جو ملک کی سیاسی استحکام کی آزمائش بن سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ اجلاس سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا تھا جو کمیٹی روم نمبر 5 میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت منعقد ہوا اور اس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے ریلوے و خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور عسان اعوان، پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی جو اس عمل کو ایک جامع سیاسی نمائندگی دیتی ہے۔ جے یو آئی نے گزشتہ روز اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا مگر آج ان کا ایک رکن بھی شریک ہوا جو اتحادی جماعتوں کی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جبکہ پی ٹی آئی، ایم ڈبلیو ایم، پی کے میپ اور سنی اتحاد کونسل کے رہنما اجلاس سے دور رہے اور انہوں نے قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاسوں کا بھی بائیکاٹ کیا جو اپوزیشن کی منظم حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس ترمیم کو آئین پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔

کمیٹی کا اجلاس دو سیشنز میں تقسیم تھا جہاں پہلے سیشن میں اراکین نے آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم کی منظوری دی جو فوج کی کمانڈ اور اعلیٰ عہدوں کی تقرریوں سے متعلق ہے اور دیگر مجوزہ تبدیلیوں پر ابتدائی غور کیا گیا جو فوجی افسران کو تاحیات مراعات اور عدالتی استثنیٰ جیسے حقوق دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سیشن کے بعد اجلاس میں ایک مختصر وقفہ دیا گیا جو اراکین کو تفصیلی مشاورت کا موقع فراہم کرتا ہے اور پھر دوسرے سیشن میں دو گھنٹے سے زائد کی بحث کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کو حتمی منظوری مل گئی جو اب کمیٹی رپورٹ کی صورت میں ایوان بالا میں پیش ہوگی اور اس کی منظوری سے ملک کا عدالتی نظام وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی طرف گامزن ہو جائے گا۔

اس اجلاس کی ایک اہم جھلک حکومتی اتحادی جماعتوں کی پیش کی گئی چاروں ترامیم کی رد ہے جو ان کی اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے جہاں ایم کیو ایم کی بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے سے متعلق آرٹیکل 140 اے میں تبدیلی کو مسترد کر دیا گیا جو مقامی خودمختاری کی تحریک کا حصہ تھی اور بلوچستان عوامی پارٹی کی صوبائی نشستوں میں اضافے کی تجویز بھی نظر انداز ہوئی جو بلوچستان کی سیاسی نمائندگی کو بڑھانے کی کوشش تھی۔ اسی طرح مسلم لیگ ق کی ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کی ترمیم اور عوامی نیشنل پارٹی کی خیبر پختونخوا صوبے کا نام تبدیل کرنے کی تجویز بھی مسترد ہوئی جو اتحادیوں کی متنوع مطالبات کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے تنازعات کو جنم دے سکتی ہے مگر کمیٹی نے اکثریتی رائے کی بنیاد پر انہیں خارج کر دیا جو مرکزی حکومت کی حکمت عملی کی کامیابی کی نشاندہی کرتا ہے۔

اجلاس کے اختتام پر سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے تصدیق کی کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظور ہو چکا ہے اور میٹنگ کے دوران سامنے آنے والی کچھ تجاویز کی بنیاد پر مسودے میں معمولی ترامیم کی گئی ہیں جو اس عمل کو ایک متوازن شکل دیتی ہیں اور تمام جماعتوں کو رائے دینے کا موقع ملا ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ تمام شرکاء نے متفقہ طور پر ان ترامیم پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جو ملک کی فلاح کے لیے ایک مثبت قدم ہے اور اس میں آرٹیکل 243 سمیت تمام اہم شقیں شامل ہیں جبکہ کل سینیٹ میں رپورٹ پیش ہونے پر تفصیلات واضح ہو جائیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ سب کچھ متفقہ طور پر طے پایا جو قومی اتحاد کی علامت ہے اور اس کی منظوری سے سیاسی استحکام کو تقویت ملے گی۔

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد آج 27ویں آئینی ترمیم کو سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر یہ کثرت رائے سے منظور ہو جائے گی جو اس بل کو آئین میں شامل کرنے کی آخری رکاوٹ دور کر دے گی اور ملک کی عدالتی اور دفاعی پالیسیوں کو نئی جہت دے گی۔ قبل ازیں 27ویں آئینی ترمیم پر غور کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹیوں کے اجلاس کے دوران مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری سمیت دیگر شقوں پر تفصیلی بحث ہوئی تھی اور کمیٹی نے مجوزہ ڈرافٹ کو حتمی شکل دی تھی جو وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور فوجی عہدوں کی تاحیات مراعات جیسے اقدامات کو قانونی تحفظ دے گی۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پہلے سیشن کے بعد کہا تھا کہ تمام شقوں پر آج میٹنگ ہوگی اور پوری امید ہے کہ اسے حتمی شکل دے دیں گے جہاں ہر جماعت کو رائے دینے کا حق حاصل ہے اور تمام آراء پر غور کیا جائے گا جس کی اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا اور تمام فیصلوں کو ایوان میں پیش کیا جائے گا جبکہ ن لیگ، ایم کیو ایم کی تجاویز کو بھی دیکھا جائے گا اور شام پانچ بجے تک فائنل کر لیا جائے گا۔

 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور اس کے سیاسی و آئینی اثرات

یہ منظوری پاکستان کی آئینی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے جو حکومتی اتحاد کی اندرونی ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے مگر اتحادی ترامیم کی رد سے صوبائی مطالبات کی نظراندازی کا تاثر ملتا ہے جو مستقبل میں تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ ایک طرف تو آرٹیکل 243 کی تبدیلی فوج کی تقرریوں کو مرکزی بنائے گی جو سلامتی کے لیے مفید ہے مگر دوسری طرف وفاقی آئینی عدالت کا قیام سپریم کورٹ کی بالادستی کو کمزور کر سکتا ہے اور صوبائی حقوق کو نظر انداز کرنا 18ویں ترمیم کی روح کے خلاف ہوگا جو اتحاد کی بنیادوں کو کمزور کرے گا۔ ڈپٹی وزیراعظم کی تعریف کے باوجود اپوزیشن کا بائیکاٹ اور احتجاجی مہم اس ترمیم کو متنازع بنا رہی ہے اور اس کی منظوری سینیٹ میں کثرت سے ہو سکتی ہے مگر قومی اسمبلی میں چیلنج ہوگا جو جمہوری عمل کی آزمائش ہے۔ مجموعی طور پر یہ ترمیم استحکام کی طرف اشارہ کرتی ہے مگر اس کی کامیابی صوبائی شمولیت اور اپوزیشن کی ناراضی کو دور کرنے پر منحصر ہوگی ورنہ یہ سیاسی بحران کو گہرا کر سکتی ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک شدید تقسیم کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں حکومتی حامی اسے عدالتی بہتری اور فوجی استحکام کی فتح سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وفاقی آئینی عدالت کیسز کی تیز سماعت کو یقینی بنائے گی اور فوج کی مراعات قومی سلامتی کو مضبوط کریں گی جبکہ اپوزیشن حامی خاص طور پر پی ٹی آئی کے لوگ اسے آئین پر حملہ اور صوبائی حقوق کی لوٹ قرار دے رہے ہیں اور ملک بھر میں احتجاج کی کال دے رہے ہیں کہ یہ ترمیم جمہوریت کو کمزور کرے گی اور 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ صوبائی حلقوں میں غم و غصہ کی لہر ہے جبکہ وفاقی شہروں میں احتیاط کا ماحول ہے اور لوگ امید کر رہے ہیں کہ یہ تبدیلیاں انصاف اور استحکام لائے گی مگر مجموعی طور پر بحث سیاسی توازن کی ضرورت کو اجاگر کر رہی ہے۔

یہ آئینی ترمیم ملکی سیاست اور آئینی نظام کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں