Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

نوبیل نہ ملنے پر امریکی صدر کا لہجہ بدل گیا، یورپ کو دوبارہ دھمکی

نوبیل امن انعام کا فیصلہ ناروے کی حکومت نہیں بلکہ ایک آزاد نوبیل کمیٹی کرتی ہے۔ناروے حکومت
نوبیل نہ ملنے پر امریکی صدر کا لہجہ بدل گیا، یورپ کو دوبارہ دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ خود کو صرف امن کے فیصلوں تک محدود نہیں سمجھتے۔ انہوں نے گرین لینڈ پر مکمل امریکی کنٹرول کا مطالبہ دہراتے ہوئے یورپ اور نیٹو پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا۔ ٹرمپ کے اس سخت مؤقف کو ماہرین عالمی سیاست میں نئی کشیدگی اور امریکا کی یکطرفہ حکمتِ عملی سے جوڑ رہے ہیں، جس سے یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

نوبیل امن انعام نہ ملنے پر مایوسی

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِ اعظم یوناس گار اسٹورے کو لکھے گئے خط میں کہا کہ آٹھ جنگیں روکنے کے باوجود انہیں نوبیل امن انعام نہیں ملا، جس پر وہ مایوس ہیں۔ اس خط میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اب صرف امن کے نقطہ نظر سے فیصلے کرنے کے پابند نہیں رہے۔

گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ

صدر ٹرمپ نے خط میں دوبارہ زور دیا کہ عالمی سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکا کو گرین لینڈ پر مکمل اختیار حاصل نہ ہو۔ انہوں نے ڈنمارک پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہ گرین لینڈ کو روس یا چین سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے اور کہا کہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کے ملکیتی حق کے واضح شواہد موجود نہیں۔

نیٹو پر دباؤ اور امریکی خدمات کا دعویٰ

ٹرمپ نے نیٹو کو ہدایت کی کہ وہ امریکا کے لیے عملی اقدامات کرے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے نیٹو کے لیے کسی بھی دوسرے رہنما سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔

ناروے کا جواب

ناروے کے وزیرِ اعظم یوناس گار اسٹورے نے جواب میں کہا کہ نوبیل امن انعام کا فیصلہ ناروے کی حکومت نہیں بلکہ ایک آزاد نوبیل کمیٹی کرتی ہے۔

پچھلا موقف اور دھمکیاں

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے بھی گرین لینڈ خریدنے کے خواہاں رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے یورپی ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

ماہرین کی رائے

ماہرین بین الاقوامی تعلقات کے مطابق، ٹرمپ کا یہ رویہ عالمی سیاست میں امریکا کی یکطرفہ پالیسی اور علاقائی بالادستی کی ترجمانی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کا مطالبہ شمالی یورپ اور شمالی اوقیانوس کے ممالک کے لیے غیر معمولی چیلنج ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ کا نوبیل نہ ملنے پر سخت لہجہ اختیار کرنا سیاسی طاقت کا مظاہرہ ہے، لیکن اس سے عالمی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ریاست نیوز کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق، ٹرمپ کا لہجہ بدلنا محض ذاتی مایوسی نہیں بلکہ ایک سیاسی اشارہ بھی ہے کہ امریکا اب عالمی فیصلوں میں خود کو واحد حکمران تصور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، گرین لینڈ پر دوبارہ امریکی کنٹرول کے مطالبے سے شمالی یورپ میں امریکی اثرورسوخ کے لیے کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور نیٹو میں اتحادی ممالک کے ساتھ تناؤ بڑھ سکتا ہے۔

غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ واقعہ عالمی سیاست میں امریکا کی یکطرفہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی، اور شمالی اوقیانوس پر غلبہ کے طویل مدتی منصوبوں کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی سلامتی پر اثرات

ماہرین اور صحافیوں کے مطابق، ٹرمپ کا موقف عالمی سطح پر کشیدگی بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات میں۔ گرین لینڈ کے معاملے پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں شمالی یورپ میں امریکا کے اثر و رسوخ کی سیاست کو اجاگر کرتی ہیں، جبکہ نوبیل امن انعام نہ ملنے کی مایوسی نے ٹرمپ کے طرز عمل میں سختی پیدا کی ہے۔

میری رائے / کمنٹ

میری رائے میں، ٹرمپ کا لہجہ بدلنا اور گرین لینڈ پر دوبارہ امریکی کنٹرول کا مطالبہ عالمی سیاست میں غیر متوقع کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ نوبیل نہ ملنے پر ان کی سخت پالیسی نہ صرف شمالی یورپ بلکہ نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی طاقتیں جب ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں تو بین الاقوامی تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں