بالی ووڈ کے نامور ہدایت کار اور پروڈیوسر کرن جوہر نے ماضی کی ایک یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب وہ سپر اسٹار سلمان خان کی وینٹی وین میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے۔
کرن جوہر، جو ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ اور ’کبھی خوشی کبھی غم‘ جیسی یادگار فلموں کے خالق ہیں، نے یہ دلچسپ واقعہ اپنے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں شیئر کیا۔ پوڈکاسٹ کے اس ایپی سوڈ میں نیتی موہن، شکتی موہن اور مکتی موہن مہمان تھیں، جہاں بالی ووڈ کی شادیوں اور سنگیت کی تیاریوں پر گفتگو ہو رہی تھی۔
اسی دوران کرن جوہر ماضی میں لوٹ گئے اور اپنی پہلی ہدایت کاری فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے مشہور گانے ’ساجن جی گھر آئے‘ کی شوٹنگ کا قصہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سلمان خان کے ساتھ ان کی پہلی فلم تھی اور چونکہ سلمان اس وقت بھی بالی ووڈ کے بڑے اسٹار تھے، اس لیے وہ خاصے گھبرائے ہوئے تھے۔
کرن جوہر کے مطابق شوٹنگ کے پہلے دن جب وہ سلمان خان کی وینٹی وین میں داخل ہوئے تو سلمان ٹی شرٹ اور جینز میں ملبوس تھے۔ کرن نے انہیں بتایا کہ یہ گانا ایک شاندار اور بڑے سیٹ پر فلمایا جائے گا۔ اس پر سلمان خان نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ اگر دولہا پہلی بار جینز اور ٹی شرٹ میں آئے تو یہ ایک نیا اور اسٹائلش آئیڈیا ہوگا، اور وہ اس میں اپنا سوَیگ لے آئیں گے۔
یہ بات سن کر کرن جوہر سخت پریشان ہو گئے۔ ان کے ذہن میں شاندار سیٹ، دلہن کے روپ میں کاجول کا لہنگا اور شادی کا روایتی منظر گھومنے لگا۔ ایسے میں دلہا اگر جینز اور ٹی شرٹ میں آ جاتا تو سارا تصور بکھر سکتا تھا۔
جہاں سلمان خان اپنے فیصلے پر پُراعتماد تھے، وہیں کرن جوہر دباؤ کا شکار ہو گئے۔ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور سلمان خان کے سامنے ہی ان کی وینٹی وین میں رو پڑے۔ کرن کے آنسو دیکھ کر سلمان خان نے فوراً اپنا فیصلہ بدلا اور سوٹ پہن کر شوٹنگ پر آنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
کرن جوہر نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ یہ لمحہ ان کے لیے ناقابلِ فراموش ہے، کیونکہ اسی دن انہیں احساس ہوا کہ فلم سازی میں تخلیقی اختلافات کے باوجود اعتماد اور سمجھوتا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’ساجن جی گھر آئے‘ آج بھی بالی ووڈ کے یادگار شادی گانوں میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کی رائے
فلمی ناقدین اور بالی ووڈ انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے سیٹ پر پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک جذباتی لمحہ نہیں بلکہ تخلیقی عمل کی اصل روح کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی فلم میں ہدایت کار کا وژن بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور اگر اس وژن پر سمجھوتہ کیا جائے تو پوری فلم کا تاثر متاثر ہو سکتا ہے۔
سینئر فلم کریٹکس کے مطابق سلمان خان کا انداز ہمیشہ تجرباتی اور نیا رہا ہے، تاہم شادی جیسے روایتی سین میں کرن جوہر کا کلاسیکل تصور ہی فلم کی کامیابی کی بنیاد بنا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دلہا جینز اور ٹی شرٹ میں دکھایا جاتا تو شاید گانے کی وہ رومانویت اور تہذیبی خوبصورتی قائم نہ رہتی جو آج ناظرین کو متاثر کرتی ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ کرن جوہر کا دباؤ میں آ جانا ان کے نئے ہدایت کار ہونے کا فطری ردِعمل تھا، لیکن اسی حساسیت نے ان کی فلموں کو جذباتی گہرائی بخشی۔ ان کے نزدیک یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ بڑے اسٹارز اور نئے ہدایت کاروں کے درمیان مکالمہ اور باہمی سمجھوتا ہی یادگار سین تخلیق کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو کسی فلم کو محض ایک پروجیکٹ کے بجائے تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہیں، اور ’ساجن جی گھر آئے‘ اس کی روشن مثال ہے، جو آج بھی شادی بیاہ کی تقریبات میں خاص مقام رکھتا ہے۔
ریاست نیوز کے سینئر صحافی راو حامد کا کہنا ہے کہ کرن جوہر اور سلمان خان کے درمیان یہ واقعہ فلم سازی کی دنیا میں تخلیقی کشمکش کی ایک واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق، بڑے اسٹارز کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ ایک چیلنج ہوتا ہے، خاص طور پر جب فلم کے روایتی اور جذباتی مناظر کو نئے انداز یا اسٹائل کے ساتھ پیش کرنے کی بات آتی ہے۔
راو حامد کے مطابق کرن جوہر کا وینٹی وین میں رونا محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک ہدایت کار کی حساسیت اور کامل تخلیق کے لیے ان کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ لمحہ بتاتا ہے کہ فلم میں ہر چھوٹا سا منظر اور ہر کردار کا لباس، ماحول اور اسٹائل مجموعی تاثر پر اثر انداز ہوتا ہے، اور ہدایت کار کی فکر ہی فلم کو یادگار بناتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سلمان خان جیسے سپر اسٹار کی تخلیقی آزادی اور کرن جوہر کے کلاسیکل وژن کے درمیان یہ توازن، بالی ووڈ کی کامیاب فلمیں بنانے کا راز ہے۔ اسی تعامل اور باہمی سمجھوتے نے ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کو نہ صرف بلاک بسٹر بنایا بلکہ شادی اور رومانوی گانوں کے معیار کو بھی بلند کیا۔
راو حامد کے مطابق یہ واقعہ فلمی صنعت کے نوجوان ہدایت کاروں کے لیے ایک سبق ہے کہ جذبات اور پیشہ ورانہ وژن کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے، ورنہ تخلیقی عمل متاثر ہو سکتا ہے، اور یادگار لمحات پیدا نہیں ہوتے۔
