تحریر: سحر ارشد
ایک وقت تھا جب میں پورے یقین سے یہ سمجھتی تھی کہ لڑکے وقتی دوستی یا پسند کے لیے چاہے کسی بھی مزاج اور طرزِ زندگی کی لڑکی کو چُن لیں، مگر جب بات شریکِ حیات کی آتی ہے تو وہ ہمیشہ ایک ایسی لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں جو باپردہ ہو، باحیا ہو اور جس کی زندگی میں غیر محرموں کی مداخلت نہ رہی ہو۔ میرے نزدیک یہ ایک فطری بات تھی، کیونکہ شادی محض ایک رشتہ نہیں بلکہ زندگی بھر کی ذمہ داری، اعتماد اور سکون کا نام ہے۔ مگر یہ سوچ اس وقت کی تھی جب میں نے عملی طور پر رشتہ سازی کے میدان میں قدم نہیں رکھا تھا۔
جب میں نے “ایورلاسٹنگ” میں بطور ایکسپرٹ شمولیت اختیار کی اور حقیقت سے واسطہ پڑا تو میرے کئی تصورات ریزہ ریزہ ہو گئے۔ میں نے دیکھا کہ یہاں تو معاملہ بالکل الٹ ہے۔ وہ لڑکیاں جو شرعی پردے کی پابند ہیں، جو اپنی زندگی کو حدود میں رکھتی ہیں، جو غیر ضروری میل جول اور نمائش سے دور رہتی ہیں، وہ ترجیح بننے کے بجائے اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہیں۔ یہ مشاہدہ میرے لیے حیران کن بھی تھا اور تکلیف دہ بھی۔
عام طور پر لڑکوں اور ان کے گھر والوں کی جانب سے ایک ہی اعتراض سننے کو ملتا ہے کہ “آج کے دور میں اتنا سخت پردہ کون کرتا ہے؟” یا پھر یہ کہ “ہمیں ایسی لڑکی نہیں چاہیے جو بس اپنے کمرے تک محدود ہو کر رہ جائے۔” ان جملوں کو سن کر بارہا میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ آخر پردہ کب قید بن گیا؟ اور آزادی کی تعریف کب بے لگامی سے جڑ گئی؟
میں نے شعوری طور پر یہ کوشش کی کہ ایسی باپردہ لڑکیوں کی پروفائلز ان گھرانوں میں بھیجوں جہاں مشترکہ خاندانی نظام کا دباؤ نہ ہو، جہاں جیٹھ یا دیور جیسے رشتے موجود نہ ہوں، تاکہ نامحرم کا مسئلہ سرے سے پیدا ہی نہ ہو اور لڑکی باوقار انداز میں گھر سنبھال سکے۔ مگر افسوس کہ وہاں بھی زیادہ تر لڑکوں نے کسی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ کبھی وجہ “سوچ کا فرق” بنی، کبھی “مزاج کا نہ ملنا”، اور کبھی بغیر کسی ٹھوس جواز کے خاموشی اختیار کر لی گئی۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ وہ تھا جب میں نے ایسے لڑکوں کا رویہ دیکھا جو بظاہر دین داری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ شرعی داڑھی، سادہ لباس، مذہبی گفتگو—سب کچھ موجود تھا۔ لیکن جب ان کے سامنے بہترین سیرت، مضبوط کردار اور مکمل پردے والی لڑکیوں کی پروفائلز رکھی گئیں تو انہوں نے بھی انہیں نظر انداز کر دیا۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ پسند یا ناپسند کا حق کسی سے چھینا جائے، سوال یہ ہے کہ اگر دین دار کہلانے والے مرد بھی دین کی بنیاد پر زندگی گزارنے والی عورت کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں تو پھر وہ چاہتے کیا ہیں؟
اس سفر میں ایک حقیقت مجھ پر پوری شدت سے آشکار ہوئی کہ مسئلہ رشتوں کی کمی کا نہیں، بلکہ ظرف کی کمی کا ہے۔ مسئلہ ترجیحات کے بگڑنے کا ہے۔ ہم نے شادی جیسے مقدس بندھن کو بھی ایک مارکیٹ بنا دیا ہے، جہاں ہر چیز “پرفیکٹ پیکج” کی صورت میں چاہیے۔ شکل، خاندان، کیریئر، آزادی، ماڈرن انداز—سب کچھ ایک ہی فرد میں جمع دیکھنا چاہتے ہیں، اور اگر کہیں کوئی کمی نظر آئے تو فوراً انکار کر دیا جاتا ہے۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کامل صرف اللہ کی ذات ہے۔ انسان تو بہرحال خامیوں کا مجموعہ ہے۔ کوئی کم گو ہے تو کوئی زیادہ حساس، کوئی حد سے زیادہ ذمہ دار ہے تو کوئی قدرے بے فکر۔ مگر ہم ان معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر ایسے رشتے ٹھکرا دیتے ہیں جو ہمارے گھروں میں سکون، استحکام اور برکت لا سکتے ہیں۔ ہم “پرفیکشن” کی تلاش میں ان ہیروں کو کھو دیتے ہیں جو ہمارے ہاتھ میں آ سکتے تھے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پردے کو اکثر پسماندگی اور تنگ نظری کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، حالانکہ پردہ دراصل عورت کی طاقت، خود داری اور خود اختیاریت کی علامت ہے۔ باپردہ عورت کمزور نہیں ہوتی، وہ اپنی حدود میں مضبوط ہوتی ہے۔ وہ گھر کو بھی سنبھال سکتی ہے، رشتوں کو بھی، اور اگر موقع ملے تو معاشرے میں مثبت کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔
شادی میں اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ سامنے والا انسان کیسا ہے؟ اس کی تربیت، اخلاق، صبر، برداشت اور ذمہ داری کا احساس کیسا ہے؟ مگر بدقسمتی سے ہم ان بنیادی سوالات کے بجائے سطحی معیار کو فوقیت دینے لگے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ رشتے بنتے کم اور ٹوٹتے زیادہ ہیں، شادیاں کم اور شکایتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔
“ایورلاسٹنگ” کے اس سفر نے مجھے یہ سکھایا کہ ہمیں خود سے ایمانداری کے ساتھ یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم واقعی چاہتے کیا ہیں؟ کیا ہم ایک پرسکون اور بابرکت زندگی چاہتے ہیں یا صرف ایک دکھاوے کی تصویر؟ کیا ہمیں کردار چاہیے یا صرف ظاہری کشش؟
اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو یہ خلا بڑھتا جائے گا۔ لڑکیاں اپنی قدروں کے ساتھ اکیلی رہ جائیں گی اور لڑکے شکایت کرتے رہیں گے کہ “اچھی لڑکیاں نہیں ملتیں”، حالانکہ سچ یہ ہے کہ اچھی لڑکیاں موجود ہیں، بس ہماری نظر کا زاویہ درست نہیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پردے، سادگی اور حیا کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں نعمت سمجھیں۔ کیونکہ یہی وہ اوصاف ہیں جو گھروں کو گھر بناتے ہیں، اور رشتوں کو محض معاہدہ نہیں بلکہ عبادت بنا دیتے ہیں۔
