رحیم یار خان (خصوصی رپورٹ – غلام مرتضیٰ) صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں ایک انتہائی نایاب اور پیچیدہ سرجری کامیابی سے مکمل ہوئی ہے۔ پانچ سالہ بچے کے سینے سے ‘بغیر سر والا بچہ’ (فیٹس ان فیٹو) کو جراحی کے ذریعے نکال دیا گیا۔ یہ سرجری پیر کے روز ڈاکٹر سلطان اویسی کی سربراہی میں انجام پائی۔
بی بی سی اردو کے مطابق ڈاکٹر سلطان اویسی نے بتایا کہ نکلایا گیا یہ ‘فیٹس’ بچے کے دل کی مرکزی شریان کے بالکل قریب موجود تھا۔ اس میں کئی اعضا مکمل طور پر بن چکے تھے، جن میں ریڑھ کی ہڈی، دانت، بال اور دیگر جسمانی اعضا شامل تھے۔ اس کا وزن تقریباً ایک کلوگرام تھا۔
ڈاکٹر نے وضاحت کی کہ یہ ‘فیٹس ان فیٹو’ (Fetus in Fetu) کا کیس تھا، جس میں ایک جڑواں بچہ دوسرے کے اندر ہی رہ جاتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ عام طور پر ایسے کیسز میں یہ چیز پیٹ کے اندر پائی جاتی ہے، مگر یہ کیس سینے میں موجود ہونے کی وجہ سے اپنی نوعیت کا منفرد اور انتہائی نایاب تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بچے میں یہ غیر معمولی نشوونما پانچ سال تک چھپی رہی اور تشخیص نہ ہو سکی۔ سرجری کے بعد بچے کی حالت مستحکم ہے اور وہ صحت یابی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔
پاکستان کی نایاب اور تاریخی سرجریاں: طبی معجزات کی چند روشن مثالیں
2. دو جڑواں بچوں کا الگ الگ سرجری (کراچی، 2019)
کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں دنیا کی پہلی مکمل طور پر الگ الگ جڑواں بچیوں (Conjoined Twins) کی سرجری کی گئی۔ یہ بچیاں سر سے جڑی ہوئی تھیں اور ایک ہی دماغ کا حصہ شیئر کر رہی تھیں۔ ۵۰ گھنٹے سے زائد کی سرجری کے بعد دونوں بچیاں زندہ بچ گئیں۔ یہ سرجری پاکستان کی طبی تاریخ کا سنگِ میل ہے۔
3. پاکستان میں پہلی کامیاب دل کی پیوند کاری (لاہور، 2000)
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) لاہور میں ڈاکٹر حمید شیخ کی سربراہی میں پاکستان کی پہلی دل کی پیوند کاری کامیابی سے مکمل ہوئی۔ مریض کی عمر ۴۵ سال تھی اور یہ آپریشن اس وقت پاکستان میں ایک بڑا طبی معجزہ سمجھا گیا۔
4. دنیا کی سب سے بڑی ٹیومر نکالنے کی سرجری (کراچی، 2018)
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماہرین نے ایک خاتون کے پیٹ سے ۵۲ کلوگرام کا ٹیومر (دنیا کی سب سے بڑی رپورٹڈ ٹیومر) نکالا۔ یہ سرجری ۶ گھنٹے سے زائد چلی اور خاتون مکمل صحت یاب ہو گئی۔
5. پاکستان میں پہلی کامیاب جگر کی پیوند کاری (کراچی، 2011)
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) میں ڈاکٹر عادل ڈاکٹر کی ٹیم نے پاکستان کی پہلی زندہ عطیہ دہندہ سے جگر کی پیوند کاری کامیابی سے کی۔ یہ سرجری اس وقت ملک میں ایک بڑی کامیابی تھی۔
6. دو دماغوں والے بچے کی پیچیدہ سرجری (لاہور، 2023)
Children Hospital لاہور میں ایک بچے کے دماغ میں دو دماغی نشوونما (Craniopagus Parasiticus) کا کیس آیا جہاں ایک غیر فعال دماغی حصہ نکالا گیا۔ یہ سرجری بھی پاکستان کی نایاب طبی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔
ماہرین کی رائے
پاکستان کے معروف پیڈیاٹرک سرجن اور فیٹس ان فیٹو کے ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ایسے کیسز کی تعداد ۲۰۰ سے بھی کم رپورٹ ہوئے ہیں۔ سینے میں موجود ہونے کا یہ کیس پاکستان اور جنوبی ایشیا میں پہلا دستاویزی کیس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں جلد تشخیص بہت مشکل ہوتی ہے کیونکہ علامات عام طور پر بہت دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔
ریاست نیوز اردو کے صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھاکہ یہ سرجری پاکستانی طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی صلاحیت کا ایک روشن مثال ہے۔ شیخ زید ہسپتال جیسے ادارے میں اس سطح کی پیچیدہ سرجری کا کامیاب ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں جدید طب کے شعبے میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے۔
فیٹس ان فیٹو ایک انتہائی نایاب حالت ہے جس میں ایک جڑواں دوسرے کے اندر ہی ترقی کرتا ہے۔ اس کیس کی منفردیت یہ ہے کہ یہ سینے میں تھا، جہاں دل اور پھیپھڑوں کے قریب ہونے کی وجہ سے آپریشن کی خطرات بہت زیادہ تھے۔ ڈاکٹر سلطان اویسی اور ان کی ٹیم کی مہارت اور ہمت قابلِ تحسین ہے۔
سرجریاں پاکستانی ڈاکٹروں کی قابلیت اور ہسپتالوں کی ترقی کا ثبوت ہیں۔ رحیم یار خان کی تازہ سرجری سے لے کر آغا خان کی جڑواں بچیوں کی الگ کرنے والی سرجری تک، یہ سب کامیابیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان میں نایاب بیماریوں پر قابو پانے کی صلاحیت موجود ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نجی اور سرکاری سطح پر نایاب بیماریوں کے لیے خصوصی مراکز قائم کرے، تحقیق کو فروغ دے اور ڈاکٹروں کو بین الاقوامی تربیت دے تاکہ یہ کامیابیاں روزمرہ کی بات بن جائیں۔ یہ نہ صرف مریضوں کی جان بچائیں گی بلکہ پاکستان کو عالمی طبی نقشے پر ایک نمایاں مقام دیں گی۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں نایاب بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے مزید تحقیق اور جدید آلات کی ضرورت ہے۔ ایسے کیسز میں جلد تشخیص جان بچا سکتی ہے۔
آپ کو یہ انوکھی سرجری کیسے لگی؟ کیا پاکستان میں نایاب طبی کیسز پر مزید توجہ کی ضرورت ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!
