اگر بچے کا پیٹ بھرا ہوا ہے اور پیمپر بھی صاف ہے، لیکن وہ پھر بھی روتا رہتا ہے تو یہ ایک عام صورتحال ہے، مگر بعض اوقات اس کے پیچھے کچھ سنجیدہ وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جن پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
بچے کے بغیر کسی ظاہری وجہ کے رونے کے پیچھے مختلف عوامل ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات دودھ پیتے وقت بچہ ہوا نگل لیتا ہے، جس سے پیٹ پھول سکتا ہے یا اس میں مروڑ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں بچے کو ڈکار دلانا اور ہلکے سے پیٹ سہلانا مفید ثابت ہوتا ہے۔ کبھی کبھی رونے کی وجہ نیند کی کمی بھی ہوتی ہے۔ بچہ تھکا ہوا ہوتا ہے لیکن سو نہیں پاتا، اور شور یا روشنی اس کی نیند میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔
2 ہفتے سے 4 ماہ کے بچوں میں بعض اوقات کولک کے باعث مخصوص اوقات میں شدید رونا شروع ہو جاتا ہے، جو بغیر واضح وجہ کے ہوتا ہے۔ موسم کے لحاظ سے غیر مناسب کپڑے بھی بچے کے رونے کا سبب بن سکتے ہیں، کیونکہ بہت زیادہ گرم یا سرد کپڑے پسینہ یا سردی پیدا کر سکتے ہیں اور بچے کو تکلیف ہو سکتی ہے۔
بعض اوقات بچے کا رونا صرف والدین کی قربت کی طلب کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ گود میں لینے سے اکثر بچہ فوراً پرسکون ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تنگ کپڑے، خارش کرنے والے لیبل یا کسی اور جسمانی تکلیف کی وجہ سے بھی بچہ بے چین ہو سکتا ہے۔ دانت نکلنے کی شروعات میں مسوڑھوں میں خارش یا درد بچے کے رونے کی ایک اور عام وجہ ہے۔
کبھی کبھار رونے کے پیچھے بیماری یا جسمانی درد بھی ہو سکتا ہے، جیسے کہ کان کا درد، بخار یا کسی انفیکشن کی موجودگی۔ ایسے معاملات میں رونا معمولی نہیں بلکہ علامات کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
اگر رونا غیر معمولی شدت کا ہو، بچے کو بخار ہو، قے یا اسہال شروع ہو جائے، دودھ پینے سے انکار ہو، بچہ سست یا کمزور لگے یا رونا مسلسل کئی گھنٹے بند نہ ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے تاکہ بچے کی صحت یقینی بنائی جا سکے۔
ماہرین کی رائے
پیدائش اور بچوں کی صحت کے ماہرین کے مطابق بچے کا رونا اکثر ان کی بنیادی ضروریات یا جسمانی تکلیف کا اظہار ہوتا ہے
پیدائش اور نوزائیدہ اسپیشلسٹ کا کہنا ہے کہ بچے کا رونا اکثر کولک، گیس یا تھکن کی وجہ سے ہوتا ہے اور گود میں لینے یا ہلکا سا پیٹ سہلانے سے آرام آ سکتا ہے
بچوں کے ماہر امراض اطفال کے مطابق اگر رونا مسلسل شدید ہو یا بخار، قے، اسہال، دودھ پینے سے انکار جیسی علامات کے ساتھ ہو تو فوری طبی مداخلت ضروری ہے
نفسیاتی ماہرین بتاتے ہیں کہ بچے کو ماں باپ کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اپنی پریشانی یا تنہائی کو رونے کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں، والدین کی قربت فوری سکون فراہم کرتی ہے
بچے کا رونا والدین کے لیے کبھی کبھار الجھن پیدا کرتا ہے لیکن یہ ایک قدرتی مواصلاتی طریقہ ہے
ابتدائی عمر میں بچے اپنی ضروریات اور جسمانی تکلیف کو رونے کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں
اکثر والدین آسان وجوہات جیسے کولک، گیس یا نیند کی کمی کو دیکھ کر رونے کو قابو میں لا سکتے ہیں
تاہم اگر رونا شدید یا مسلسل ہو یا ساتھ میں بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مداخلت ضروری ہے
ماہرین کے مطابق والدین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ رونے کی وجہ معمولی ہے یا سنگین تاکہ بچے کی صحت اور آرام پر فوری توجہ دی جا سکے
🗣️ اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں
آپ کے تجربے کے مطابق بچے کے رونے کا سب سے مؤثر حل کیا ہے
