تہران :(حامد اقبال راؤ)ایران اس وقت شدید سیاسی، معاشی اور سماجی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے خلاف عوامی احتجاج نے ملک گیر صورت اختیار کر لی ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی حکام نے عوامی غصے کو قابو میں رکھنے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے، ٹیلی فون کالز شدید متاثر ہیں اور فضائی سفر معطل ہونے کے باعث درجنوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ان اقدامات کے بعد ایران کا بیرونی دنیا سے رابطہ تقریباً منقطع ہو کر رہ گیا ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاج کے باعث روزمرہ زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ شہری علاقوں میں سڑکیں بند ہیں، کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں جبکہ تعلیمی ادارے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث نہ صرف عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے اداروں کے لیے بھی حالات کی درست تصویر دنیا کے سامنے لانا مشکل ہو گیا ہے۔ ایرانی نیوز ویب سائٹس اور سرکاری میڈیا بھی وقفے وقفے سے ہی اپ ڈیٹس فراہم کر پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے افواہوں اور غیر مصدقہ معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کا مقصد بظاہر احتجاج کو دبانا ہے، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ عوامی غصہ کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں بے پناہ اضافے نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اشیائے خورونوش، ایندھن اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ تنخواہیں جمود کا شکار ہیں جبکہ بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس نے نوجوان طبقے کو خاص طور پر مایوسی اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
28 دسمبر کو مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج ابتدا میں چند شہروں تک محدود تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک پورے ملک میں پھیل گئی۔ تہران، مشہد، اصفہان، شیراز اور دیگر بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے معاشی اصلاحات، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ قیادت نے احتجاج کو بیرونی سازش قرار دیا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے حالیہ بیان میں مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ غیر ملکی طاقتوں، بالخصوص امریکا کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدامنی پھیلانے والے عناصر سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔خامنہ ای نے سخت انداز میں انتباہ کیا کہ تہران کسی بھی ایسے فرد یا گروہ کو برداشت نہیں کرے گا جو غیر ملکی طاقتوں کے لیے کرایہ دار کے طور پر کام کرے۔
سپریم لیڈر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے اندرونی مسائل پر توجہ دیں۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی طویل عرصے سے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور موجودہ احتجاج بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ احتجاج کی اصل وجہ بیرونی مداخلت نہیں بلکہ اندرونی معاشی بدحالی ہے۔ امریکی پابندیوں، عالمی سطح پر تنہائی اور حکومتی پالیسیوں نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تیل کی برآمدات میں کمی، کرنسی کی قدر میں گراوٹ اور مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی کشیدگی اور عسکری تصادم نے بھی ایران کی معاشی صورتحال کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ جنگی اخراجات اور عالمی دباؤ کے باعث حکومت پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی، ایسے میں مہنگائی نے عوامی صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران نے حکومت کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور کر دیا ہے، جس کے باعث عوام اور ریاست کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔
احتجاج کے دوران جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم انٹرنیٹ بندش کے باعث درست اعداد و شمار کا حصول مشکل ہے۔ امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بدامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ تقریباً 2200 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں اور گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکومت سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گرفتاریوں کے باعث جیلیں بھر چکی ہیں اور کئی خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کے بارے میں بے خبری کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھی جا سکتی ہیں، اگرچہ حکام ان کی تصدیق سے گریز کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ایران کی موجودہ صورتحال نے عالمی برادری کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے انٹرنیٹ بند کرنے کے فیصلے نے شفاف معلومات کے بہاؤ کو محدود کر دیا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے مواصلاتی رابطے منقطع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حکام صورتحال کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔
