Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سوشل میڈیا خیر و شر دونوں کا ذریعہ بن سکتا ہے، ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہے،ڈاکٹر محمد طاہر القادری

احترام، برداشت اور ذمہ داری سے ہی مثبت ڈیجیٹل کلچر تشکیل پا سکتا ہے
سوشل میڈیا خیر و شر دونوں کا ذریعہ بن سکتا ہے، ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہے،ڈاکٹر محمد طاہر القادری

لاہور: (فہیم اختر )تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا ایک نہایت طاقتور ذریعۂ اظہار ہے، جو خیر اور شر دونوں کے فروغ کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اس کا استعمال اعلیٰ اخلاقی اقدار، سچائی اور ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔

وہ گزشتہ روز منہاج یوتھ لیگ کے ذمہ داران سے گفتگو کر رہے تھے، جہاں انہوں نے سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اس کے اخلاقی تقاضوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا رائے عامہ کی تشکیل، تعلیم، دعوت اور اصلاحِ معاشرہ کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اگر اسے مثبت، تعمیری اور بامقصد انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ علم، شعور اور امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی استعمال معاشرتی بگاڑ، نفرت اور انتشار کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو کسی بھی خبر یا معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی اچھی طرح تصدیق کر لینی چاہیے، کیونکہ جعلی خبروں اور منفی پراپیگنڈے کے اثرات صرف افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ دینِ اسلام ہمیں سچ بولنے، امانتداری اور دوسروں کی عزت و آبرو کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے، اور یہی اصول سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی پوری طرح لاگو ہوتے ہیں۔

نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو وقت کے ضیاع، کردار کشی اور بے مقصد بحث و مباحثے کے بجائے علم، تحقیق، کردار سازی اور مثبت مکالمے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل اخلاقیات کا فروغ آج کے دور کی ایک اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر شائستگی، برداشت اور احترام کو فروغ دینا ہی ایک مہذب اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔ اختلافِ رائے کو مہذب انداز میں پیش کرنا اور نفرت انگیز رویوں سے اجتناب کرنا ہر فرد کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ماہرین کی رائے

ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کے مطابق ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی گفتگو موجودہ دور کے ایک سنگین مسئلے کی درست نشاندہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے معلومات کو تیز تو بنا دیا ہے، مگر اخلاقی اقدار کے بغیر یہ طاقت خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق نفرت انگیز مواد اور غیر مصدقہ خبروں کی بھرمار ذہنی دباؤ، بے چینی اور معاشرتی تقسیم میں اضافہ کر رہی ہے، جس کا سدِباب صرف ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں سے ممکن ہے۔

ریاست نیوز اردو کے سینیئر رپورٹر فہیم اختر کا  تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کے ڈیجیٹل دنیا میں آزادیٔ اظہار ایک بڑی نعمت ہے، مگر آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا کو اکثر غیر سنجیدہ، منفی اور ذاتی حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے معاشرتی ہم آہنگی متاثرہورہی ہے۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی جانب سے ڈیجیٹل اخلاقیات پر زور دراصل ایک اصلاحی پیغام ہے، جو نوجوان نسل کو مثبت سمت میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر سوشل میڈیا کو علم، مکالمے اور اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ معاشرتی بہتری کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

آج کی ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اخلاق، برداشت اور احترام کو فروغ دیا جائے تاکہ سوشل میڈیا نفرت نہیں بلکہ امن اور شعور کا وسیلہ بنے۔

💬 اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اخلاقیات اور برداشت کے فروغ سے معاشرتی رویے بہتر ہو سکتے ہیں؟
یا سوشل میڈیا پر ضابطہ اخلاق کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے؟

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں