Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

امریکا اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ کیوں پڑی؟ فنانشل ٹائمز کی چشم کشا رپورٹ

مودی حکومت کی پالیسیاں واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث بن گئیں
امریکا اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ کیوں پڑی؟ فنانشل ٹائمز کی چشم کشا رپورٹ

اسلام آباد (رضا طاہر )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات غیر معمولی سردمہری کا شکار ہو گئے ہیں، جسے ماہرین دونوں ممالک کے روابط کی بدترین سطح قرار دے رہے ہیں۔

معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری نے بھارت کی معیشت، خارجہ پالیسی اور طاقتور کاروباری حلقوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندوتوا پر مبنی داخلی پالیسیوں اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو کمزور کیا۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان بھارت کے بااثر ارب پتیوں کو اٹھانا پڑا، جو بھاری سرمایہ کاری اور لابنگ کے باوجود امریکا میں مطلوبہ تجارتی اور قانونی سہولتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارتی کاروباری شخصیات نے امریکی لابنگ فرموں پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے، مگر اس کے باوجود امریکی پالیسی سازی یا عدالتی نظام پر کوئی نمایاں اثر ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ گوتم اڈانی کے خلاف امریکا میں جاری قانونی مقدمات اس حقیقت کی واضح مثال ہیں کہ ذاتی تعلقات اور سیاسی قربت امریکی قانونی ترجیحات کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور بھارت کے بعض پالیسی فیصلوں کے باعث امریکا اب بھارت کو ایسا قابلِ اعتماد اتحادی نہیں سمجھتا جو علاقائی معاملات کو مؤثر انداز میں سنبھال سکے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان ٹیرف تنازع کے دوران رابطوں کا فقدان بھی اس سرد مہری کو ظاہر کرتا ہے۔

صورتحال کو بھارت کے لیے مزید پیچیدہ بناتے ہوئے امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا، جسے تجزیہ کار بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر بھارت امریکا کے ساتھ اختلافی رویہ برقرار رکھتا ہے تو اسے مستقبل میں سخت معاشی اور قانونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ روس سے تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری پر امریکی ناراضی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کے اشارے اس بات کی علامت ہیں کہ واشنگٹن اب بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کو پہلے جیسی نرمی سے قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکیش امبانی جیسے بڑے کاروباری گروپس نے روسی تیل کی ریفائننگ سے اربوں ڈالر منافع کمایا، تاہم یہی پالیسی امریکا کے ساتھ بڑھتے اختلافات کی ایک بڑی وجہ بن گئی۔ اگرچہ امریکا ماضی میں بھارت کو چین کے مقابل ایک اہم شراکت دار سمجھتا رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں بھارت کا رویہ واشنگٹن کے لیے بتدریج تشویش کا سبب بنتا جا رہا ہے۔

حالیہ بھارت پاکستان کشیدگی اور خطے میں بڑھتے تصادم کے خدشات نے بھی امریکا کے بھارت سے متعلق شکوک کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک نازک موڑ پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکا اور بھارت کے تعلقات میں سردمہری کی بنیادی وجہ بھارت کی داخلی سیاست اور متضاد خارجہ پالیسی ہے۔
سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کسی بھی اتحادی سے ادارہ جاتی استحکام، پالیسی تسلسل اور علاقائی ذمہ داری کی توقع رکھتا ہے، جو حالیہ برسوں میں بھارت میں کمزور پڑتی دکھائی دی۔

معاشی ماہرین کے مطابق روسی تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری اور اس سے حاصل ہونے والے منافع نے امریکا کو ناراض کیا، جبکہ بھارتی مصنوعات پر ممکنہ سخت ٹیرف اس ناراضی کا عملی اظہار ہو سکتے ہیں۔

یہ رپورٹ محض سفارتی تعلقات میں سردمہری کی کہانی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی ترجیحات میں تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ امریکا ایک ایسے اتحادی کی تلاش میں ہے جو نہ صرف چین کے مقابل توازن قائم کرے بلکہ علاقائی استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کرے۔

بھارت کی جانب سے روس کے ساتھ قریبی معاشی روابط، اندرونی مذہبی شدت پسندی اور ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی نے امریکا کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے ساتھ امریکا کے روابط میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن جنوبی ایشیا میں متبادل شراکت داریوں پر غور کر رہا ہے۔ اگر بھارت نے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو اسے نہ صرف سفارتی تنہائی بلکہ معاشی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یوں فنانشل ٹائمز کی رپورٹ بھارت کے لیے ایک واضح انتباہ سمجھی جا رہی ہے کہ عالمی سیاست میں صرف معاشی طاقت نہیں بلکہ ذمہ دارانہ رویہ بھی اہم ہوتا ہے۔

 اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

کیا آپ کے خیال میں امریکا کا بھارت سے فاصلہ بڑھانا خطے میں طاقت کا توازن بدل دے گا؟
یا یہ وقتی سفارتی دباؤ ہے جو مستقبل میں کم ہو سکتا ہے؟

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں