Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پراپرٹی فائلوں میں بڑے فراڈ کا پردہ فاش، وزیراعظم کے حکم پر سخت کریک ڈاؤن کا آغاز

وزیراعظم کی ہدایت پر اس معاملے کی جامع جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
پراپرٹی فائلوں میں بڑے فراڈ کا پردہ فاش، وزیراعظم کے حکم پر سخت کریک ڈاؤن کا آغاز

اسلام آباد:(رپورٹ ۔فہیم اختر)ملک میں پراپرٹی فائلوں، پلاٹس اور دیگر رئیل اسٹیٹ لین دین میں مبینہ فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر حکومت نے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر اس معاملے کی جامع جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے پراپرٹی فائلوں، پلاٹس، ولاز اور اپارٹمنٹس کی خرید و فروخت کے قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے یہ کمیٹی قائم کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت کو فروغ دینا، فراڈ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کرنا اور سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزیر قانون و انصاف کریں گے، جبکہ چیئرمین ایف بی آر، تمام صوبوں کے سینئر ممبرز بورڈ آف ریونیو، نیب کا گریڈ 21 یا اس سے اوپر کا نمائندہ، چیف کمشنر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کا نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ کمیٹی کو سیکریٹریل معاونت ایف بی آر فراہم کرے گا۔

کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ رئیل اسٹیٹ میں فائل سسٹم کے موجودہ طریقہ کار اور اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے، جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اس کاروبار کے حکومتی ریونیو پر پڑنے والے اثرات کا بھی تجزیہ کرے۔

اس کے علاوہ کمیٹی فائل ہولڈرز اور خریداروں کے حقوق، ڈویلپرز کی جانب سے مبینہ فراڈ، جعلی یا دہری فائلوں کے اجرا، اور ایک ہی جائیداد کو متعدد مرتبہ فروخت کرنے جیسے سنگین معاملات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے گی۔

ٹی او آرز کے تحت کمیٹی متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کی سفارش بھی کرے گی تاکہ پراپرٹی فائلوں کی خرید و فروخت کو ایک واضح، مؤثر اور باضابطہ قانونی فریم ورک کے تحت لایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکسوں کی درست وصولی اور سرمایہ کاروں کے لیے قانونی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

کمیٹی کو اپنے دائرہ اختیار سے متعلق دیگر معاملات کا جائزہ لینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جبکہ اسے ایک ماہ کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق یہ کمیٹی ایک بڑے ہاؤسنگ اسکینڈل کے منظرِ عام پر آنے کے بعد قائم کی گئی ہے، جس میں انکشاف ہوا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی بعض نجی ہاؤسنگ اسکیموں نے مبینہ طور پر زمین کے بغیر 90 ہزار سے زائد پلاٹس فروخت کیے اور سیکڑوں ارب روپے وصول کیے۔

ماہرین کی رائے

معاشی اور رئیل اسٹیٹ ماہرین اس اقدام کو انتہائی بروقت اور ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔

سینئر معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں پراپرٹی فائل سسٹم برسوں سے غیر واضح قانونی حیثیت کے تحت چل رہا تھا، جس کا فائدہ اٹھا کر بعض ڈویلپرز اور ہاؤسنگ اسکیمیں عوام کے اربوں روپے ہڑپ کر لیتی رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فائل سسٹم کو واضح قانونی فریم ورک میں نہ لایا گیا تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا ممکن نہیں۔

ٹیکس ماہرین کے مطابق پراپرٹی سیکٹر میں بے ضابطگیوں کے باعث حکومت کو سالانہ اربوں روپے کے ٹیکس نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے نہ صرف ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا بلکہ معیشت میں دستاویزی نظام کو بھی فروغ ملے گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیب اور ایف بی آر کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ حکومت محض سفارشات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف عملی کارروائی بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں پراپرٹی فائلوں کا نظام طویل عرصے سے ایک غیر رسمی، غیر شفاف اور پیچیدہ کاروبار کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ کاغذی فائلوں کی بنیاد پر جائیدادوں کی خرید و فروخت، بغیر زمین کے پلاٹس کی بکنگ اور ایک ہی پراپرٹی کو متعدد افراد کو فروخت کرنا، ایسے عوامل ہیں جنہوں نے نہ صرف عوام کو نقصان پہنچایا بلکہ ملکی معیشت کو بھی کمزور کیا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں سامنے آنے والا حالیہ ہاؤسنگ اسکینڈل اس نظام کی سنگینی کو واضح کرتا ہے، جہاں ہزاروں افراد نے عمر بھر کی جمع پونجی ایسے منصوبوں میں لگا دی جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔

حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح کمیٹی کا قیام اس بات کا عندیہ ہے کہ اب مسئلے کو وقتی اقدامات کے بجائے ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر کمیٹی کی سفارشات پر سنجیدگی سے عمل ہوا تو یہ اقدام رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم اصل امتحان رپورٹ آنے کے بعد شروع ہوگا، کیونکہ ماضی میں کئی کمیٹیاں سفارشات تک محدود رہیں۔ اگر اس بار قوانین میں ترمیم، سخت نگرانی اور شفاف رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا گیا تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور پراپرٹی مافیا کا اثر کم کیا جا سکے گا۔

یہ اقدام نہ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر بلکہ مجموعی معاشی اصلاحات کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

پراپرٹی فائلوں میں فراڈ کے خلاف حکومتی کارروائی آپ کے خیال میں واقعی مؤثر ثابت ہوگی یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک وقتی اقدام رہ جائے گی؟
👇
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں