امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے جوہری تنصیبات کی تعمیر یا جوہری پروگرام کو دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش کی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
فلوریڈا میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں جن کے مطابق ایران ایک بار پھر جوہری تنصیبات تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکا فوری کارروائی کی حمایت کرے گا اور ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے ہی کسی معاہدے پر آ جانا چاہیے تھا، تاہم بعض اوقات ایسے مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے جوہری پروگرام بحال کرنے کی کوشش کی تو امریکا کو اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے حوالے سے امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پانچ اہم امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہونے کی امید ہے جبکہ غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل بھی آئندہ دنوں میں آغاز پا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اسرائیل کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا سخت بیان ایران پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق امریکا اس وقت جوہری پھیلاؤ کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی کے موڈ میں نہیں اور ایران کو واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ طاقت کا استعمال ایک حقیقی آپشن ہے۔
ایٹمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران واقعی جوہری تنصیبات کی تعمیر دوبارہ شروع کر رہا ہے تو یہ خطے کے لیے نہایت خطرناک پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے مشرقِ وسطیٰ میں اسلحے کی دوڑ اور عسکری تصادم کے خدشات بڑھ جائیں گے۔
سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کا یہ نیا مرحلہ عالمی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ اور غزہ کی صورتحال پہلے ہی عالمی طاقتوں کو تقسیم کیے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے تازہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو کسی بھی صورت آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتا۔ ’’قیامت برپا کر دیں گے‘‘ جیسے الفاظ محض بیانات نہیں بلکہ طاقت کے استعمال کی کھلی دھمکی ہیں، جو سفارت کاری کے بجائے دباؤ اور deterrence کی پالیسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی ناکامی کے بعد صورتحال ایک بار پھر تصادم کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اگر ایران واقعی جوہری تنصیبات کی تعمیر کی طرف بڑھ رہا ہے تو امریکا اور اسرائیل کا ردِعمل شدید ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی مکمل حمایت، غزہ کی تعمیر نو کے اعلانات اور یوکرین جنگ پر تشویش یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا اس وقت بیک وقت کئی عالمی محاذوں پر سرگرم ہے۔ یہی کثیرالجہتی دباؤ عالمی سلامتی کے لیے ایک نازک مرحلہ پیدا کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران سے متعلق امریکی بیانات محض ایک ملک کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ جوہری پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، چاہے اس کی قیمت عالمی کشیدگی میں اضافے کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
اپنی رائے
امریکی صدر کی ایران کو دی جانے والی سخت دھمکی نے عالمی سیاست میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
کیا آپ کے خیال میں اس قسم کے بیانات ایران کو مذاکرات پر لائیں گے یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے تنازع کی طرف بڑھ رہا ہے؟
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں۔
