انقرہ، ترکیہ:لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آنے والے ایک المناک طیارہ حادثے میں لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد علی الحداد سمیت کئی اعلیٰ عسکری حکام جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس حادثے نے لیبیا کی سیاسی اور عسکری قیادت کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ افسوسناک خبر انہیں نہایت دکھ اور رنج کے ساتھ موصول ہوئی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حادثے میں لیفٹیننٹ جنرل محمد علی الحداد اور ان کے ہمراہ موجود وفد کے دیگر ارکان جان کی بازی ہار گئے۔
وزیراعظم کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بری افواج کے چیف آف اسٹاف، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ، آرمی چیف کے مشیر اور میڈیا آفس کے فوٹوگرافر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سانحہ ترکیہ کے سرکاری دورے کے اختتام پر وطن واپسی کے دوران پیش آیا، تاہم حادثے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
عبدالحمید دبیبہ نے اس واقعے کو لیبیا اور اس کی مسلح افواج کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم نے ایسے سپاہی کھو دیے ہیں جنہوں نے خلوص، نظم و ضبط اور قومی جذبے کے ساتھ ملک کی خدمت کی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ، فوجی ساتھیوں اور لیبیا کے عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ لیبیا جانے والا ایک نجی طیارہ، جس میں لیبیا کے آرمی چیف سوار تھے، انقرہ کے ضلع حایمانا میں گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس کا ملبہ تلاش کر لیا گیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق حادثے کے فوری بعد امدادی اور تفتیشی ٹیموں نے موقع پر کارروائی شروع کر دی تھی۔
ترک وزیر داخلہ کے مطابق فالکن 50 طرز کا بزنس جیٹ، جس کا ٹیل نمبر 9H-DFJ تھا، انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 10 منٹ پر طرابلس کے لیے روانہ ہوا تھا۔ پرواز کے تقریباً 42 منٹ بعد، رات 8 بج کر 52 منٹ پر طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔
علی یرلیکایا نے مزید بتایا کہ طیارے نے انقرہ کے جنوب میں واقع حایمانا کے قریب ایمرجنسی لینڈنگ کا سگنل بھیجا تھا، تاہم ابتدائی سگنل کے بعد طیارے سے کوئی مزید رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی۔
ترک حکام کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر پانچ افراد سوار تھے، جن میں لیبیا کے آرمی چیف محمد علی الحداد بھی شامل تھے۔ ترک نشریاتی اداروں کے مطابق انقرہ کی فضائی حدود میں ایک نجی طیارے سے ریڈیو رابطہ منقطع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس میں لیبیا کے اعلیٰ عسکری حکام موجود ہیں۔
فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق احتیاطی تدابیر کے طور پر ایسن بوغا ایئرپورٹ پر کئی پروازوں کا رخ بھی عارضی طور پر موڑ دیا گیا تھا۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ لیبیا کے چیف آف اسٹاف سرکاری دورے پر انقرہ میں موجود تھے، جہاں انہوں نے اپنے ترک ہم منصب اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان جاری عسکری اور سیکیورٹی تعاون کا حصہ تھا، جو اس المناک حادثے کے باعث سوگ میں تبدیل ہو گیا۔
