Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

انقرہ کے قریب طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف اور اعلیٰ عسکری حکام جاں بحق

ایمرجنسی لینڈنگ کا سگنل بھیجنے کے بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا
انقرہ کے قریب طیارہ حادثہ، لیبیا کے آرمی چیف اور اعلیٰ عسکری حکام جاں بحق

انقرہ، ترکیہ:لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آنے والے ایک المناک طیارہ حادثے میں لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد علی الحداد سمیت کئی اعلیٰ عسکری حکام جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس حادثے نے لیبیا کی سیاسی اور عسکری قیادت کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ افسوسناک خبر انہیں نہایت دکھ اور رنج کے ساتھ موصول ہوئی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حادثے میں لیفٹیننٹ جنرل محمد علی الحداد اور ان کے ہمراہ موجود وفد کے دیگر ارکان جان کی بازی ہار گئے۔

وزیراعظم کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بری افواج کے چیف آف اسٹاف، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ، آرمی چیف کے مشیر اور میڈیا آفس کے فوٹوگرافر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سانحہ ترکیہ کے سرکاری دورے کے اختتام پر وطن واپسی کے دوران پیش آیا، تاہم حادثے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

عبدالحمید دبیبہ نے اس واقعے کو لیبیا اور اس کی مسلح افواج کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم نے ایسے سپاہی کھو دیے ہیں جنہوں نے خلوص، نظم و ضبط اور قومی جذبے کے ساتھ ملک کی خدمت کی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ، فوجی ساتھیوں اور لیبیا کے عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ لیبیا جانے والا ایک نجی طیارہ، جس میں لیبیا کے آرمی چیف سوار تھے، انقرہ کے ضلع حایمانا میں گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس کا ملبہ تلاش کر لیا گیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق حادثے کے فوری بعد امدادی اور تفتیشی ٹیموں نے موقع پر کارروائی شروع کر دی تھی۔

ترک وزیر داخلہ کے مطابق فالکن 50 طرز کا بزنس جیٹ، جس کا ٹیل نمبر 9H-DFJ تھا، انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 10 منٹ پر طرابلس کے لیے روانہ ہوا تھا۔ پرواز کے تقریباً 42 منٹ بعد، رات 8 بج کر 52 منٹ پر طیارے کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔

علی یرلیکایا نے مزید بتایا کہ طیارے نے انقرہ کے جنوب میں واقع حایمانا کے قریب ایمرجنسی لینڈنگ کا سگنل بھیجا تھا، تاہم ابتدائی سگنل کے بعد طیارے سے کوئی مزید رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی۔

ترک حکام کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر پانچ افراد سوار تھے، جن میں لیبیا کے آرمی چیف محمد علی الحداد بھی شامل تھے۔ ترک نشریاتی اداروں کے مطابق انقرہ کی فضائی حدود میں ایک نجی طیارے سے ریڈیو رابطہ منقطع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس میں لیبیا کے اعلیٰ عسکری حکام موجود ہیں۔

فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق احتیاطی تدابیر کے طور پر ایسن بوغا ایئرپورٹ پر کئی پروازوں کا رخ بھی عارضی طور پر موڑ دیا گیا تھا۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ لیبیا کے چیف آف اسٹاف سرکاری دورے پر انقرہ میں موجود تھے، جہاں انہوں نے اپنے ترک ہم منصب اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان جاری عسکری اور سیکیورٹی تعاون کا حصہ تھا، جو اس المناک حادثے کے باعث سوگ میں تبدیل ہو گیا۔

ماہرین کی رائے

دفاعی اور سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبیا کے آرمی چیف اور اعلیٰ عسکری حکام کی ایک ہی حادثے میں ہلاکت نہ صرف لیبیا بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ان کے مطابق کسی ملک کی عسکری قیادت کا اس طرح اچانک خاتمہ دفاعی تسلسل اور فیصلہ سازی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

ایوی ایشن سیفٹی ماہرین کے مطابق طیارے کی جانب سے ایمرجنسی لینڈنگ کا سگنل بھیجنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دورانِ پرواز کوئی سنگین تکنیکی یا موسمی مسئلہ درپیش آیا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ فالکن 50 جیسے بزنس جیٹس عمومی طور پر محفوظ سمجھے جاتے ہیں، اس لیے حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے فنی تحقیقات نہایت اہم ہوں گی۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق یہ حادثہ لیبیا اور ترکیہ کے درمیان جاری عسکری تعاون کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول لیبیا کے اعلیٰ عسکری حکام کا ترکیہ کے دورے کے بعد اس طرح جان سے ہاتھ دھونا خطے میں جاری سیکیورٹی تعاون پر عارضی اثر ڈال سکتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیادیں اس سے کمزور ہونے کا امکان نہیں۔

انقرہ کے قریب پیش آنے والا یہ طیارہ حادثہ محض ایک فضائی سانحہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی، عسکری اور سفارتی اثرات بھی دور رس ہو سکتے ہیں۔ لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد علی الحداد ملک کی مسلح افواج میں ایک مرکزی حیثیت رکھتے تھے، اور ان کی اچانک ہلاکت لیبیا کی عسکری قیادت کے لیے ایک بڑا خلا چھوڑ گئی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لیبیا داخلی استحکام، ادارہ جاتی تعمیرِ نو اور سیکیورٹی اصلاحات کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اعلیٰ عسکری قیادت کا اس طرح ایک ہی حادثے میں ختم ہو جانا ان کوششوں کو عارضی طور پر متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر فیصلہ سازی اور کمانڈ اسٹرکچر کے حوالے سے۔

دوسری جانب یہ حادثہ فضائی سلامتی کے سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ ایمرجنسی سگنل کے بعد طیارے سے رابطے کا منقطع ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتحال تیزی سے بگڑی۔ تحقیقات سے یہ طے ہو سکے گا کہ حادثہ تکنیکی خرابی، انسانی غلطی یا کسی اور عنصر کا نتیجہ تھا، مگر یہ سانحہ اعلیٰ حکام کے سفر کے دوران حفاظتی انتظامات پر بھی نظرثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

ترکیہ کے لیے بھی یہ واقعہ حساس نوعیت کا ہے، کیونکہ حادثہ اس کی فضائی حدود میں پیش آیا اور لیبیا کے ساتھ اس کے قریبی عسکری و سیکیورٹی تعلقات ہیں۔ شفاف تحقیقات اور مکمل تعاون دونوں ممالک کے لیے اعتماد کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

مجموعی طور پر، یہ سانحہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عالمی سیاست اور دفاعی معاملات میں اچانک پیش آنے والے واقعات کس طرح پورے خطے کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں لیبیا کی عسکری قیادت کی نئی ترتیب، تحقیقات کے نتائج اور دونوں ممالک کے ردِعمل اس حادثے کے حقیقی اثرات کو واضح کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں