اسلام آباد (غلام مرتضی):آئندہ برس حج 2026ء کے دوران خدام الحجاج کے فرائض انجام دینے کے لیے اپلائی کرنے والے سرکاری ملازمین نے سلیکشن کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور میرٹ کی خلاف ورزی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شکایات درج کرا دی ہیں۔
سرکاری ملازمین نے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے تحت ہونے والے ٹیسٹ میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف وزیرِ اعظم شکایت پورٹل پر متعدد درخواستیں جمع کرائیں۔ شکایات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فزیکل ٹیسٹ کے بغیر ہی میرٹ لسٹ جاری کر دی گئی، جس کے باعث نئے اور اہل امیدواروں کی حق تلفی ہوئی۔
شکایت کنندگان کے مطابق 20 دسمبر کی شب جیسے ہی رزلٹ پورٹل پر اپلوڈ کیا گیا، اس کے چند ہی منٹ بعد مخصوص امیدواروں کو سلیکشن کے پیغامات موصول ہونا شروع ہو گئے، جس نے پورے عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ خدام الحجاج کے لیے سرکاری ملازمین سے درخواستیں 30 نومبر تک طلب کی گئی تھیں۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ امتحانی مرحلے میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر انہوں نے نہ صرف وزیرِ اعظم شکایت پورٹل بلکہ وفاقی محتسب کو بھی درخواستیں ارسال کی ہیں، جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
ذرائع کے مطابق کامیاب قرار دیے جانے والے امیدواروں کے فزیکل ٹیسٹ بھی ختم کر دیے گئے ہیں، جس پر مزید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال خدام الحجاج میں 70 فیصد پرانے اور 30 فیصد نئے افراد کو شامل کیا جاتا ہے، اور اسی طرح آبادی کے تناسب سے سب صوبوں کو کوٹہ دیا جاتا ہے۔
تاہم امیدواروں کا مطالبہ ہے کہ خدام الحجاج جیسے مقدس اور ذمہ دارانہ فرائض کے لیے سلیکشن کا عمل مکمل شفاف اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی ناانصافی کا تاثر ختم کیا جا سکے۔
ماہرین کی رائے
انتظامی امور اور پبلک سروس سلیکشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خدام الحجاج جیسے حساس اور مذہبی نوعیت کے فریضے کے لیے سلیکشن کے عمل میں شفافیت اور میرٹ انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر انتخابی مرحلے میں فزیکل ٹیسٹ جیسے بنیادی تقاضے نظرانداز کیے جائیں تو یہ پورے نظام کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) جیسے ادارے کا مقصد ہی غیر جانبدارانہ اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانا ہوتا ہے، اس لیے نتائج کے فوری بعد مخصوص امیدواروں کو سلیکشن پیغامات موصول ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر جب بات مذہبی خدمات سے جڑے فرائض کی ہو۔
قانونی ماہرین کے مطابق امیدواروں کی جانب سے وزیرِ اعظم شکایت پورٹل اور وفاقی محتسب سے رجوع کرنا ایک آئینی اور جائز راستہ ہے۔ ان کے بقول اگر شکایات درست ثابت ہوئیں تو متعلقہ اداروں کو نہ صرف نتائج کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا بلکہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی بھی ناگزیر ہو جائے گی۔
خدام الحجاج 2026ء کے لیے سلیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ محض ایک بھرتی کا تنازع نہیں بلکہ یہ ریاستی اداروں میں شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کا امتحان بھی ہے۔ خدام الحجاج کا کردار لاکھوں پاکستانی عازمینِ حج کی سہولت اور رہنمائی سے جڑا ہوتا ہے، اس لیے اس ذمہ داری کے لیے اہل، صحت مند اور تربیت یافتہ افراد کا انتخاب ناگزیر ہے۔
اگر فزیکل ٹیسٹ جیسے لازمی مراحل کو نظرانداز کیا گیا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا انتخاب واقعی اہلیت کی بنیاد پر ہوا یا پہلے سے طے شدہ فہرستوں کے مطابق۔ اسی طرح نتائج کے فوری بعد مخصوص امیدواروں کو پیغامات موصول ہونا شفافیت کے دعوؤں کو کمزور کرتا ہے۔
وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے 70 فیصد پرانے اور 30 فیصد نئے خدام کو شامل کرنے کی وضاحت انتظامی پالیسی کا حصہ ضرور ہو سکتی ہے، تاہم اس پالیسی پر عمل درآمد بھی مکمل میرٹ اور واضح معیار کے تحت ہونا چاہیے۔ اگر نئے امیدواروں کو بغیر کسی معقول وجہ کے نظرانداز کیا گیا تو یہ نہ صرف ناانصافی بلکہ مستقبل میں اہل افراد کی حوصلہ شکنی کا سبب بھی بنے گا۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ سرکاری بھرتیوں اور سلیکشن کے تمام مراحل عوام کے سامنے واضح، قابلِ جانچ اور قابلِ احتساب ہوں۔ اگر شکایات کا بروقت اور شفاف ازالہ نہ کیا گیا تو اس سے نہ صرف خدام الحجاج کے نظام پر سوال اٹھیں گے بلکہ مجموعی طور پر حکومتی اداروں پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، اس تنازع کا حل صرف بیانات میں نہیں بلکہ عملی شفافیت، آزادانہ انکوائری اور میرٹ پر مبنی فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔ یہی طریقہ خدام الحجاج جیسے مقدس فریضے کی عزت اور وقار کو برقرار رکھ سکتا ہے
