اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی گیارہویں برسی پر اپنے خصوصی پیغام میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے بغیر نہ قوم کو سکون مل سکتا ہے اور نہ ہی اے پی ایس کے ننھے شہدا کو حقیقی انصاف۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم کا دکھ آج بھی تازہ ہے، مگر حوصلہ پہلے سے زیادہ بلند ہے، کیونکہ اس سانحے نے پوری ملت کو متحد کر دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 16 دسمبر 2014 کا المیہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین حادثات میں سے ایک ہے، جس نے ہر دل کو زخمی کیا لیکن قوم کے عزم کو متزلزل نہ کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں، اساتذہ اور بہادر عملے کی قربانیاں ہماری قومی یادداشت کا مستقل حصہ ہیں، اور یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے کہ ان عظیم شہدا کے خون کا قرض ادا کریں۔
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک بار پھر ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات سامنے آرہے ہیں، جہاں سیکیورٹی فورسز اور عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ایس کا سانحہ آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی، اور یہ جنگ اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستان کی سرزمین سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے قائم ہے، اور ریاستی ادارے پوری قوت، جدید حکمتِ عملی اور مربوط کارروائی کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اس عہد کو بھی دہراتے ہوئے کہا کہ قوم کو مایوس نہیں کیا جائے گا، اور ملک و قوم کے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں بھرپور شدت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔
شہباز شریف نے شہدا کے اہلِ خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا صبر، حوصلہ اور استقامت پوری قوم کے لیے مثال ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عنایت کرے۔
خصوصی تجزیہ
سانحۂ اے پی ایس پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جو نہ صرف ہمارے دلوں میں غم کی لکیریں چھوڑ گیا بلکہ قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کا غیر متزلزل پیغام بھی دے گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان اسی عزم کی تازہ یاد دہانی ہے کہ ریاست اور قوم دونوں اس جدوجہد میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
آج بھی ملک کے مختلف خطوں میں دہشت گردی کے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ دشمن ایک نئی شکل اختیار کر چکا ہے، مگر پاکستان کے سیکیورٹی ادارے پہلے سے زیادہ تیار، مضبوط اور منظم نظر آتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور قوم اتنے ہی متحد ہیں جتنے اے پی ایس کے دن کے بعد تھے؟ یہی اتحاد پاکستان کو اس جنگ میں مضبوط بناتا ہے۔
عوامی رائے
عام شہریوں کا کہنا ہے کہ سانحۂ اے پی ایس کو صرف یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ اس مقصد کو پورا کرنا ضروری ہے جس کے لیے معصوم جانیں قربان ہوئیں۔ عوام اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کو مزید مربوط، مؤثر اور شفاف حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
کئی شہریوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حکومت کی موجودہ پالیسی، بہتر سیکیورٹی اقدامات اور سخت عزم مستقبل میں پاکستان کو ایک پرامن ملک بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
آپ کے خیال میں دہشت گردی کے سدباب کے لیے موجودہ حکومتی اقدامات کتنے مؤثر ہیں؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سانحۂ اے پی ایس کا حقیقی انصاف ممکن ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
