لاہور (خصوصی رپورٹ فہیم اختر)دنیا کے امیر ترین اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب لانے والی شخصیات میں شمار ہونے والے ایلون مسک نے اپنے ایمان اور عقیدے کے حوالے سے ایسا انکشاف کیا ہے جس نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک پوڈ کاسٹ گفتگو کے دوران انہوں نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا کہ برسوں تک خود کو ملحد سمجھنے کے باوجود اب انہیں یقین ہوگیا ہے کہ خدا کا وجود ہے۔
یہ گفتگو اُس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی جب میزبان کیٹی ملر نے مسک سے مذہب اور خدا کے متعلق براہِ راست سوال کیا۔ مسک نے بغیر جھجک کے بتایا کہ ایک زمانہ تھا جب وہ مذہب اور خدا کو محض انسانی فطرت کا حصّہ سمجھتے تھے، لیکن اب اُن کے نظریات بدل چکے ہیں۔ ان کے مطابق کائنات، فزکس، زندگی کے پیچیدہ نظام اور نئی خلائی ٹیکنالوجیز پر کام کرتے ہوئے انہیں یہ احساس ہوا کہ یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔
مسک نے کہا کہ "میں نے طویل عرصہ خدا کے وجود کا انکار کیا، لیکن اب میری سمجھ میں آگیا ہے کہ اس کائنات کا ایک عظیم خالق ضرور ہے۔ کوئی ایسی ہستی ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے، کیونکہ یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوسکتا۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ برس ہی مسک نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ خود کو "کلچرل کرسچن” سمجھتے ہیں۔یعنی وہ مذہبی طور پر نہیں بلکہ اپنے ماحول کی وجہ سے مسیحی روایت کا حصہ ہیں۔ اُس وقت انہوں نے واضح انداز میں بتایا تھا کہ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتے۔ تاہم ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور کائناتی اصولوں پر گزشتہ چند سال میں کی جانے والی گہری مشاہدات نے ان کے نظریات کو تبدیل کر دیا۔
اپنے تازہ بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ فکری تبدیلی کسی مذہبی تعلیم یا دباؤ کا نتیجہ نہیں، بلکہ خود اُن کے تجربات اور مشاہدات نے انہیں اس نتیجے تک پہنچایا ہے کہ اس عظیم کائنات کے پیچھے ایک منظم، باشعور اور طاقتور ہستی موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک جیسے شخص، جو سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید تحقیق کے سب سے بڑے نمائندہ سمجھے جاتے ہیں، اُن کی جانب سے خدا کے وجود کی تصدیق عالمی سطح پر ایک بڑی فکری تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
مسک کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ اسپیس ایکس، نیورالنک اور دیگر خلائی منصوبوں میں ایسے تجربات کر رہے ہیں جو انسانی دماغ، زندگی، اور مستقبل کی سائنسی سمت کو نئے سوالات کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ایلون مسک کا یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان جتنا زیادہ علم، ٹیکنالوجی اور کائناتی حقائق کے اندر ڈوبتا جاتا ہے، اتنا ہی زیادہ اسے کسی عظیم خالق کے نظام کی پیچیدگی محسوس ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ایک سائنسی ذہن کے اندر پیدا ہونے والے سوالات کی علامت ہے بلکہ اس بات کی بھی کہ ٹیکنالوجی کبھی بھی روحانی حقیقت کا متبادل نہیں بن سکتی۔
مسک کی جانب سے خدا کے وجود پر یقین کا اظہار درحقیقت اس عالمی مکالمے کو مضبوط کرتا ہے کہ سائنس اور ایمان ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
عوامی رائے
◼ بڑی تعداد میں صارفین نے حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آخرکار ایک سائنسی لیجنڈ نے حقیقت کا اعتراف کر لیا۔”
◼ کچھ لوگوں نے اسے روحانی سفر کا آغاز قرار دیا اور کہا کہ شاید مستقبل میں مسک اپنے نظریات مزید واضح کریں۔
◼ چند افراد نے شکوک ظاہر کیے کہ ممکن ہے مسک کا یہ بیان کسی فلسفیانہ سوچ کا نتیجہ ہو نہ کہ مذہبی تبدیلی۔
◼ مجموعی طور پر سوشل میڈیا پر ردعمل مثبت رہا اور صارفین نے اس فیصلے کو "زندگی کی فطری حقیقت کا اعتراف” قرار دیا۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا ایلون مسک کا خدا کے وجود پر ایمان لانا دنیا کے سائنسی مباحث کو بدل سکتا ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!
