Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سردیوں میں ہونٹ کیوں پھٹتے ہیں؟ وجہ اور مؤثر علاج جان لیں

ہونٹوں کے پھٹنے سے بچنے کے لیے متوازن غذا کا استعمال سب سے ضروری ہے۔ماہرین
سردیوں میں ہونٹ کیوں پھٹتے ہیں؟ وجہ اور مؤثر علاج جان لیں

سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ہونٹوں کا پھٹ جانا ایک عام مسئلہ بن جاتا ہے، لیکن ماہرینِ صحت کے مطابق یہ محض موسم کی تبدیلی یا پانی کی کمی کا معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے انسانی جسم میں موجود وٹامنز اور منرلز کی کمی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سردیوں میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر لیتا ہے جس کے باعث شہریوں کو تکلیف، جلن، خون رسنے اور زخم بننے جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن بی کمپلیکس کی کمی خصوصاً بی ٹو، بی تھری، بی سکس اور بی بارہ کا فقدان ہونٹوں کو غیر معمولی حد تک خشک کر دیتا ہے اور ان کے کناروں پر تکلیف دہ دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ طبی اصطلاح میں اس کیفیت کو اینگولر کیلائٹس کہا جاتا ہے۔ اسی طرح وٹامن سی کی کمی جلد کی مضبوطی کو کم کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں ہونٹ کمزور ہو کر پھٹنے لگتے ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق آئرن اور زنک کی کمی بھی ہونٹوں کے نہ بھرنے اور بار بار پھٹنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ خواتین، انیمیا کے شکار افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے لوگ اس مسئلے کی زیادہ لپیٹ میں آتے ہیں۔

اتراکھنڈ کی ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر آشا سکلانی کے مطابق جب جسم میں وٹامن بی ۱۲ کی کمی بڑھ جاتی ہے تو ہونٹوں پر شدید خشکی پیدا ہوتی ہے، جلد سخت ہو جاتی ہے اور اس میں نمایاں دراڑیں نمودار ہونے لگتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ وٹامن خون کے سرخ خلیات کی تیاری کے لیے نہایت ضروری ہے اور اس کی کمی خون کی کمی، بے حسی، اعصاب میں جھنجھناہٹ اور یادداشت کی کمزوری کا بھی باعث بنتی ہے۔

ماہرینِ صحت نے واضح کیا ہے کہ ہونٹوں کے پھٹنے سے بچنے کے لیے متوازن غذا کا استعمال سب سے ضروری ہے۔ دودھ، دہی، انڈے، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں، کینو، لیموں اور دیگر کھٹے پھل وٹامنز کی کمی پوری کرتے ہیں، جبکہ کلیجی، گوشت، چنے اور خشک میوہ جات آئرن اور زنک کے بہترین ذرائع ہیں جو ہونٹوں کی صحت میں فوری بہتری پیدا کرتے ہیں۔

علاج کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وٹامن بی کمپلیکس ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔ دن میں کئی مرتبہ لپ بام یا پیٹرولیم جیلی لگانے سے ہونٹوں کی نمی برقرار رہتی ہے، جبکہ ہونٹوں کو بار بار زبان سے گیلا کرنے کی عادت فوراً چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ یہ عمل جلد کو مزید خشک کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کی مناسب مقدار پینا بھی نہایت ضروری ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہونٹوں کے کناروں پر شدید درد، جلن یا سفید تہہ نظر آئے تو یہ فنگل انفیکشن کی علامت ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں خود علاج کے بجائے فوراً کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ مسئلہ پیچیدہ نہ ہو۔

سردیوں میں ہونٹ پھٹنا ایک ایسا مسئلہ ہے جسے عام طور پر لوگ معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسم میں وٹامنز اور منرلز کی کمی اس مسئلے کو مسلسل بڑھاتی رہتی ہے۔ یہ رپورٹ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ غذا اور پانی کا استعمال ہماری جلد کی بیرونی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر لوگ بروقت اس مسئلے کو سمجھیں اور مناسب غذائی عادات اپنائیں تو ہونٹوں کی تکلیف، جلن اور زخموں سے بچا جا سکتا ہے۔

عوامی رائے

بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ سردیوں میں ہونٹ پھٹنے کا مسئلہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ لوگ اسے بیماری سمجھنے کے بجائے موسم کا حصہ سمجھ کر برداشت کرتے رہتے ہیں۔ کچھ افراد کے مطابق وٹامنز کی کمی پوری ہونے کے بعد ہونٹوں کی حالت میں واضح بہتری آتی ہے، جبکہ کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ گھریلو نسخوں کے بجائے ڈاکٹرز کی ہدایات زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اگر اس بارے میں بروقت آگاہی دی جائے تو موسمِ سرما میں ہزاروں لوگ اس تکلیف سے بچ سکتے ہیں۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا آپ کے خیال میں ہونٹوں کے پھٹنے کی اصل وجہ وٹامنز کی کمی ہے یا موسم کی شدت؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں