لاہور/مظفرگڑھ : شدید سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جہاں بیشتر رفاہی تنظیمیں اپنے امدادی مراکز ختم کر چکی تھیں، وہاں المصطفےٰ ویلفیئر سوسائٹی پاکستان نے خدمتِ انسانیت کی ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے مصطفائی خیمہ کمپلیکس کا سلسلہ نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس میں مزید وسعت بھی پیدا کی۔ دو سے ڈھائی ماہ قبل منظور کیے گئے ان منصوبوں میں خیموں کے ساتھ کئی اہم سہولیات شامل کی گئیں جنہوں نے بے گھر خاندانوں کے لیے زندگی کا نیا سہارا فراہم کیا۔
مرکزی نائب صدر ڈاکٹر طارق محمود احمد کے مطابق ابتدائی تنقید اور مایوسی کے باوجود تنظیم نے مصطفائی خیمہ کمپلیکس، مصطفائی لنگر، کمیونٹی اسکول و مدرسہ، دستکاری اسکول، مسجد اور واش رومز جیسے منصوبوں کی منظوری دی، جن پر اب تک پانچ ملین سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے۔
مظفرگڑھ اور علی پور میں امدادی سرگرمیوں کا تسلسل
سیلاب سے بدترین متاثر ہونے والے علاقوں خصوصاً بستی خدائی موڑ اور علی پور میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی درجنوں خاندانوں کے لیے حفاظتی سامان کی فوری فراہمی ضروری ہو گئی تھی۔ اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے المصطفےٰ ویلفیئر سوسائٹی نے
-
بستر، کمبل اور گرم ملبوسات
-
سردی سے بچاؤ کے لحاف
-
خواتین کیلئے تربیتی وسائل
سینکڑوں گھرانوں میں تقسیم کیے۔ تنظیم نے اس خدمت کو صرف امداد تک محدود نہیں رکھا بلکہ خاندانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ہنر مندی کے پروگرام بھی جاری رکھے۔

تھیم پارک لاہور میں تقسیمِ امداد کی خصوصی تقریب
مصطفائی خیمہ کمپلیکس، تھیم پارک لاہور میں امدادی سرگرمیوں کی تکمیل کے سلسلے میں ایک خوبصورت تقریب منعقد کی گئی جس میں مقامی رضاکاروں اور انجمن طلباء اسلام کے نمائندوں نے خصوصی شرکت کی۔
اس تقریب میں
-
سینکڑوں متاثرین میں بستر اور گرم کپڑے تقسیم کیے گئے
-
دستکاری اسکول سے تربیت مکمل کرنے والی پانچ بچیوں کو سلائی مشینیں عطیہ کی گئیں
-
پراجیکٹ میں کام کرنے والے رضاکاروں، اساتذہ اور قاری صاحبان کو انعامات اور ضرورت کے مطابق کپڑے پیش کیے گئے
بچوں کے چہروں پر خوشی کے رنگ
تقریب کا سب سے دلکش منظر وہ تھا جب مصطفائی کمیونٹی اسکول میں زیر تعلیم بچوں میں اسکول بیگز اور تحائف تقسیم کیے گئے۔ تحائف ملتے ہی بچوں کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے، اور پورا ماحول مسرت سے بھر گیا۔ منتظمین کے مطابق یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس منصوبے کے حقیقی مقاصد کو واضح کر دیا۔
مصطفائی لنگر اور مستقل امدادی نظام کا اعلان
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر طارق محمود احمد سمیت مرکزی قیادت نے سیلاب متاثرین میں مصطفائی لنگر تقسیم کیا۔
اس موقع پر مرکزی جنرل سیکریٹری خواجہ صفدر امین نے اعلان کیا کہ
"مصطفےٰ ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کی جانب سے لنگر اور امدادی تقسیم کا یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا، تاکہ ہر ضرورت مند فرد تک سہولت پہنچائی جا سکے۔”
علامہ ممتاز ربانی کی دعائے خیر کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی، جس میں رضاکاروں اور معاونین کی سلامتی اور کامیابی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔
مصطفائی خیمہ کمپلیکس کا یہ ماڈل پاکستان میں آفت زدہ آبادیوں کی بحالی کے بہترین عملی نمونوں میں سے ایک ہے۔ جہاں دیگر ادارے اپنے کام سمیٹ چکے تھے، وہاں اس تنظیم نے نہ صرف امداد جاری رکھی بلکہ تعلیم، ہنرمندی، کھانے اور رہائش کے مستقل منصوبے شروع کیے۔ نوجوان رضاکاروں کی شمولیت، خواتین کی ہنرمندانہ تربیت، اور بچوں کیلئے تعلیمی امداد اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ صرف وقتی ریلیف نہیں بلکہ معاشرتی بحالی کی ایک جامع کوشش ہے۔ ایسی کوششیں قومی سطح پر پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
عوامی رائے
لوگوں کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ایسے رفاہی منصوبے امید کا چراغ ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو محض خیموں کی نہیں، مستقل معاونت اور باعزت روزگار کی ضرورت ہے جو اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ بہت سے افراد نے رضاکارانہ خدمات میں شامل ہونے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
آپ کی رائے؟
کیا پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ایسے پائیدار منصوبے مزید علاقوں میں شروع ہونے چاہئیں؟

