Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

امریکا سے 200 بھارتی شہری ملک بدر، خطرناک گینگسٹر انمول بشنوئی بھی فہرست میں شامل

انمول نے اپریل 2022 میں جعلی پاسپورٹ کے ذریعے بھارت سے فرار اختیار کیا تھا
امریکا سے 200 بھارتی شہری ملک بدر، خطرناک گینگسٹر انمول بشنوئی بھی فہرست میں شامل

نئی دہلی :امریکا نے ایک بڑے آپریشن میں 200 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کر دیا، جن میں سب سے خطرناک نام بدنامِ زمانہ گینگسٹر انمول بشنوئی کا ہے۔ لارنس بشنوئی گینگ کا دایاں بازو سمجھے جانے والے انمول کو سابق بھارتی وزیر بابا صدیق کے قتل اور اداکار سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ جیسے ہائی پروفائل کیسز میں مرکزی ملزم مانا جا رہا ہے۔

200 افراد کی واپسی، ایک نام نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

تفصیلات کے مطابق امریکا نے غیرقانونی طور پر مقیم متعدد افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 200 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے، جن میں انتہائی مطلوب اور بدنامِ زمانہ گینگسٹر انمول بشنوئی بھی شامل ہے۔ امریکی حکام کے فیصلے نے بھارت کے اندر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہلچل پیدا کر دی ہے کیونکہ ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں خطرناک مجرم، فرار ملزم اور جرائم پیشہ عناصر شامل ہیں۔

عالمی خبر ایجنسی کے مطابق امریکہ نے جن بھارتیوں کو واپس بھیجا ہے ان میں دو ایسے فراری شامل ہیں جو ریاست پنجاب میں سنگین مقدمات میں مطلوب تھے، جبکہ 197 وہ افراد ہیں جو امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم تھے۔ ان سب کے درمیان سب سے زیادہ توجہ انمول بشنوئی نے حاصل کی ہے، جو بھارت میں کئی دہائیوں سے سرگرم خوفناک گینگ کا حصہ رہا ہے۔

انمول بشنوئی، گرفتار گینگ لیڈر لارنس بشنوئی کا چھوٹا بھائی ہے اور اس کے خلاف بھارت میں سنگین نوعیت کے جرائم کے مقدمات درج ہیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ انمول بشنوئی پر سابق بھارتی وزیر بابا صدیق کے قتل کے علاوہ معروف اداکار سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کے مقدمات بھی موجود ہیں، جنہوں نے پورے ملک میں شدید خوف و ہراس پھیلایا تھا۔

بھارتی خفیہ ذرائع کے مطابق انمول نے اپریل 2022 میں جعلی پاسپورٹ کے ذریعے بھارت سے فرار اختیار کیا تھا۔ اس فرار کے چند ہفتوں بعد، 29 مئی کو مشہور گلوکار سدھو موسے والا کا قتل ہوا، جس کے بارے میں بھی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی اسی گینگ نے بیرونِ ملک بیٹھ کر کی تھی۔

تفتیشی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ انمول امریکا اور کینیڈا کے درمیان جعلی روسی دستاویزات کے ذریعے سفر کر کے اپنی لوکیشن چھپاتا رہا۔ وہ مسلسل جگہ تبدیل کرتا رہا جب تک کہ امریکی حکام نے اسے ٹریک کر کے حراست میں نہیں لے لیا۔

تحقیقات کے مطابق انمول بشنوئی بیرون ملک بیٹھ کر اپنی گینگ کو اینکرپٹڈ کمیونیکیشن چینلز کے ذریعے ہدایات جاری کرتا رہا اور متعدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں بھی براہ راست ملوث رہا۔

امریکی ڈی پورٹ ایکشن کے بعد اب بھارتی سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انمول کو کس طرح تحویل میں لیا جائے، کیونکہ اس کے خلاف کئی صوبوں میں درجنوں مقدمات زیرِ تفتیش ہیں، اور اسے بھارت کے سب سے خطرناک گینگسٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔

امریکا کی جانب سے 200 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب غیرقانونی رہائش اور جرائم میں ملوث غیر ملکیوں کے خلاف سخت اور مربوط پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
انمول بشنوئی کی ڈی پورٹیشن بھارت کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ وہ کئی سالوں سے قانون کی گرفت سے باہر تھا اور بیرون ملک بیٹھ کر بھارت میں مجرمانہ سرگرمیاں چلا رہا تھا۔

یہ اقدام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عالمی سطح پر مجرموں کیلئے ’’محفوظ پناہ گاہ‘‘ کا تصور کمزور پڑ رہا ہے۔ اب مختلف ممالک مل کر ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں بڑھا رہے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر جرائم کے نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔

عوامی رائے

◼ بہت سے لوگ اسے امریکا کے سخت امیگریشن اقدامات کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس میں جرائم پیشہ افراد کی کوئی گنجائش نہیں۔
◼ بھارتی عوام میں اس فیصلے کے بعد ملا جلا ردعمل ہے—کچھ لوگ اسے ایک بڑی کامیابی کہہ رہے ہیں جبکہ کچھ اسے بھارتی نظامِ قانون کے لیے چیلنج سمجھ رہے ہیں۔
◼ سوشل میڈیا پر کئی صارفین کا کہنا ہے کہ انمول جیسے خطرناک عناصر کی واپسی بھارت کی اندرونی سلامتی کے لیے ایک نیا امتحان ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا امریکا کا یہ فیصلہ درست ہے؟
کیا انمول بشنوئی جیسے بڑے مجرموں کی ملک بدری بھارت کے لیے مثبت ثابت ہوگی یا خطرناک؟

اپنی رائے کمنٹ میں بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں