Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی پر امریکی قرارداد، پاکستان سمیت اہم مسلم ممالک نے حمایت کر دی

یہ منصوبہ غزہ میں عبوری حکومتی ڈھانچہ "بورڈ آف پیس" قائم کرے گا جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کریں گے
غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی پر امریکی قرارداد، پاکستان سمیت اہم مسلم ممالک نے حمایت کر دی

نیویارک: مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی راہ ہموار کرنے کی ایک نئی امید جاگ اٹھی ہے جہاں پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، اردن اور ترکیہ سمیت اہم مسلم ممالک نے امریکہ کی پیش کردہ نئی قرارداد کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے جو غزہ میں کمزور جنگ بندی کو مستحکم کرنے، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور ایک جامع امن لائحہ عمل کی بنیاد رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے جاری مشترکہ بیان میں ان ممالک نے واضح کیا کہ یہ قرارداد 29 ستمبر کو سامنے آنے والے 20 نکاتی امن منصوبے کا تسلسل ہے جس کی شرم الشیخ میں توثیق ہو چکی ہے اور اس کی منظوری فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ایک مستقل ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے گی جو خطے میں امن و استحکام کی نئی صبح کا پیغام ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سلامتی کونسل میں امریکی مسودہ زیر غور ہے اور روس نے ایک علیحدہ قرارداد پیش کر کے اسے چیلنج کیا ہے مگر مسلم ممالک کی مشترکہ حمایت نے امریکی کوششوں کو نئی طاقت دے دی ہے جو غزہ کی تباہی کے بعد امن کی بحالی کی عالمی جدوجہد کی ایک اہم کڑی بن گئی ہے۔

مشترکہ بیان میں پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، اردن، ترکیہ اور امریکہ نے زور دیا کہ سلامتی کونسل میں زیر غور یہ قرارداد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان نہ صرف امن بلکہ پورے خطے میں دیرپا استحکام کا راستہ کھول سکتی ہے اور اس کی منظوری عالمی اتفاق رائے کی ضرورت ہے جو فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کو یقینی بنائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ منصوبہ غزہ میں عبوری حکومتی ڈھانچہ "بورڈ آف پیس” قائم کرے گا جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کریں گے اور ایک عارضی عالمی فورس غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر فعال کرے گی، شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے گی اور امدادی رسائی کو محفوظ بنائے گی جو دو سالہ مینڈیٹ پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی مشن نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جاری کمزور جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے اس مسودے کی فوری منظوری ضروری ہے جو صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو عملی شکل دے گا اور شرم الشیخ میں 20 سے زائد ممالک کی حمایت حاصل کر چکا ہے۔ امریکہ نے اکتوبر کے وسط سے خطے کے متعدد ممالک کے ساتھ مسودہ تیار کرنا شروع کیا تھا اور نومبر کے آغاز میں نیویارک میں مذاکرات کیے گئے تاکہ ایک مشترکہ طریقہ کار اپنایا جا سکے جو غزہ کو دوبارہ پرامن اور محفوظ بنا سکے۔

یہ قرارداد غزہ میں امن بحالی کے لیے ایک جامع لائحہ عمل پیش کرتی ہے جو بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، غیر ریاستی گروہوں کی غیر فعالیت اور شہری تحفظ کو یقینی بناتی ہے جو فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ مشترکہ بیان میں مسلم ممالک نے اسے فلسطینی حق خود ارادیت کی حمایت قرار دیا جو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی نئی راہ کھول سکتا ہے اور خطے میں تناؤ کو کم کر سکتا ہے۔ امریکی مشن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں تیار کیا گیا ہے جو شرم الشیخ سمٹ کی کامیابی کا تسلسل ہے اور اب سلامتی کونسل کی منظوری اسے عملی شکل دے گی جو غزہ کی تعمیر نو اور امن کی بحالی کی بنیاد رکھے گی۔

 مسلم ممالک کی حمایت اور غزہ امن منصوبے کے امکانات

یہ مشترکہ بیان مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی امید ہے جو پاکستان جیسے اہم مسلم ممالک کی حمایت سے امریکی منصوبے کو عالمی قبولیت دے رہا ہے مگر روس کی علیحدہ قرارداد ویٹو پاور کی وجہ سے رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ایک طرف تو "بورڈ آف پیس” اور عالمی فورس فلسطینی تحفظ کی ضمانت ہے مگر دوسری طرف صدر ٹرمپ کی سربراہی تنازع کا شکار ہو سکتی ہے جو اسرائیل کی مخالفت کو بڑھا سکتی ہے۔ مسلم ممالک کی شمولیت فلسطینی حق خود ارادیت کی حمایت ہے جو منصوبے کو متوازن بناتی ہے مگر اس کی کامیابی سلامتی کونسل کی منظوری اور اسرائیل کی رضامندی پر منحصر ہے۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت غزہ کی تباہی کے بعد امن کی طرف قدم ہے مگر اس کی کامیابی علاقائی تعاون اور ویٹو پاورز کی رضامندی پر منحصر ہوگی ورنہ یہ ایک اور ناکام کوشش بن جائے گی۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک ملا جلا ردعمل کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں کچھ لوگ مسلم ممالک کی حمایت کی تعریف کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فلسطینیوں کے لیے امید ہے جبکہ دیگر ٹرمپ کی سربراہی پر تنقید کر رہے ہیں اور روس کی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر بحث فلسطینی حقوق اور امن کی طرف راغب ہے جو عالمی توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا غزہ میں عالمی فورس کی تعیناتی واقعی امن کی ضمانت بن سکے گی؟
کیا پاکستان اور مسلم ممالک کی حمایت خطے کے مستقبل کو بدل سکتی ہے؟
یا یہ منصوبہ عالمی طاقتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو مزید بڑھا دے گا؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں