Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

گوادر سے عمان تک فیری سروس کی منظوری

دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھل گئے
گوادر سے عمان تک فیری سروس کی منظوری

اسلام آباد: پاکستان کی سمندری معیشت میں ایک سنہری باب کا اضافہ ہو گیا ہے جہاں وفاقی کابینہ نے گوادر سے عمان تک فیری سروس کی باقاعدہ منظوری دے دی جو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھائے گی بلکہ سرمایہ کاری، سیاحت اور ثقافتی روابط کے لیے ایک نئی راہ ہموار کرے گی اور گوادر کو خطے کی تجارتی حب بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد پاکستان اور عمان بہت جلد فیری لنک کے قیام کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کریں گے اور سروس کے آغاز کے لیے انتظامات حتمی کرنے کو ایک اعلیٰ سطح کا عمانی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا جو اس منصوبے کی تیزی سے تکمیل کی علامت ہے۔ یہ سمندری راہداری پاکستانی تارکین وطن کے سفر کو آسان بنائے گی، سیاحوں کی آمد کو فروغ دے گی اور وسط ایشیا کی منڈیوں تک خطے کے دیگر ممالک کو بہتر رسائی فراہم کرے گی جو گوادر کی بندرگاہ کو اقتصادی سرگرمیوں کا نیا مرکز بنا دے گی۔

وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گوادر۔عمان فیری سروس کے آغاز سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جو نجی شعبے کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ روٹ پاکستانی تارکین وطن کے لیے سفر کو نہ صرف آسان بنائے گا بلکہ سیاحت، ثقافت اور باہمی روابط کو بھی فروغ دے گا جو دونوں ممالک کے عوام کو قریب لائے گا۔ نئی سمندری راہداریوں کے قیام سے خطے کے دیگر ممالک کو بھی وسط ایشیا کی منڈیوں تک بہتر رسائی ملے گی جو سی پیک کے تسلسل میں ایک اہم پیش رفت ہے اور گوادر میں اقتصادی سرگرمیوں کو نئی سمت دے گی۔ وزیر نے امید ظاہر کی کہ منصوبے کی تکمیل سے پاکستان اور عمان کے درمیان معاشی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور گوادر بندرگاہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کا نیا مرکز بن کر ابھرے گی جو بلوچستان کی ترقی اور ملکی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی۔

یہ فیری سروس گوادر پورٹ کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے عمان کے صلالہ یا مسقط پورٹ سے منسلک ہوگی جو تقریباً 600 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی اور مسافر، سامان اور سیاحوں کی نقل و حمل کو ممکن بنائے گی۔ عمانی وفد کے دورے کے دوران شیڈول، فیری کی صلاحیت، سیفٹی پروٹوکولز اور ٹکٹنگ سسٹم جیسے امور طے کیے جائیں گے جو منصوبے کی عملی شکل دیں گے۔ یہ سروس نہ صرف پاکستانی تارکین وطن جو خلیج میں کام کرتے ہیں ان کے لیے سستا اور آسان سفر فراہم کرے گی بلکہ سیاحوں کو بھی عرب سمندر کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع دے گی جو دونوں ممالک کی سیاحت کو فروغ دے گی۔ گوادر جو سی پیک کا اہم حصہ ہے اس فیری سروس سے ایک عالمی تجارتی حب بننے کی راہ پر گامزن ہو جائے گا جو خطے کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

گوادر۔عمان فیری سروس اور خطے کی معاشی ترقی پر اثرات

یہ منظوری پاکستان کی سمندری معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ہے جو گوادر کو عمان سے جوڑ کر تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھولے گی اور سی پیک کے تسلسل میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ ایک طرف تو عمانی وفد کا دورہ اور مفاہمت نامہ منصوبے کی تیزی سے تکمیل کی ضمانت ہے مگر دوسری طرف تارکین وطن اور سیاحوں کے لیے آسان سفر معاشی اور ثقافتی روابط کو مضبوط کرے گا۔ وسط ایشیا کی منڈیوں تک رسائی خطے کے دیگر ممالک کو بھی فائدہ دے گی جو گوادر کی بندرگاہ کو علاقائی حب بنائے گی۔ مجموعی طور پر یہ سروس بلوچستان کی ترقی اور ملکی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی مگر اس کی کامیابی انتظامات کی شفافیت اور نجی سرمایہ کاری پر منحصر ہوگی ورنہ یہ صرف ایک اعلان بن کر رہ جائے گی۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور کاروباری فورمز پر ایک پرجوش لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں تاجر اسے سرمایہ کاری کا سنہری موقع قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ گوادر اب حقیقی حب بنے گا جبکہ تارکین وطن اسے سفر کی سہولت کی خوشخبری سمجھ رہے ہیں۔ کچھ صارفین سیاحت کے امکانات پر جوش ہیں مگر مجموعی طور پر امید غالب ہے جو معاشی ترقی کی طرف راغب کر رہی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا گوادر-عمان فیری سروس پاکستان کے لیے خطے میں معاشی انقلاب لا سکتی ہے؟
کیا یہ منصوبہ گوادر بندرگاہ کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں