ممبئی: بھارتی کرکٹ کے تیز ترین بولر جسپریت بمراہ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئے ہیں جہاں جنوبی افریقہ کے کپتان ٹمبا باووما کے قد کا مذاق اڑاتے ہوئے ان کے نازیبا اور نامناسب الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے جو آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.1.4 کی خلاف ورزی بن سکتے ہیں اور ان پر جرمانہ، ڈی میرٹ پوائنٹس یا حتیٰ کہ پابندی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یہ واقعہ حالیہ ون ڈے سیریز کے ایک میچ کے دوران پیش آیا جب باووما کو ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر آؤٹ نہیں دیا گیا اور بھارتی کھلاڑی ریویو لینے یا نہ لینے پر مشورہ کر رہے تھے کہ بمراہ نے باووما کی جسمانی ساخت پر ایک ایسا تبصرہ کر دیا جو کرکٹ کی روح کے خلاف اور ذاتی حملے کی شکل اختیار کر گیا۔ ویڈیو کلپ میں بمراہ کے الفاظ واضح سنائی دے رہے ہیں جو سوشل میڈیا پر فوری طور پر پھیل گئے اور فینز کی جانب سے شدید تنقید کا باعث بنے جہاں کچھ نے اسے مذاق قرار دیا تو کچھ نے کھیل کی عزت کو مجروح کرنے والا فعل کہا جو بمراہ کی شاندار بولنگ کی تعریفوں پر ایک دھبہ بن گیا۔
یہ ویڈیو کلپ میچ کے ایک اہم لمحے کا ہے جہاں جنوبی افریقہ کی اننگز جاری تھی اور باووما کریز پر موجود تھے کہ بھارتی فیلڈرز نے ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی جو امپائر نے مسترد کر دی۔ ریویو لینے کے مشورے کے دوران بمراہ نے باووما کے قد کا حوالہ دیتے ہوئے ایک نازیبا جملہ کہا جو مائیک پر ریکارڈ ہو گیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنازع کھڑا کر دیا۔ آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ برائے کھلاڑیوں اور پلیئر سپورٹ پرسنل کے آرٹیکل 2.1.4 کے تحت یہ لیول 1 کا جرم ہے جو کھلاڑی کو سرزنش، میچ فیس کا 50 فیصد تک جرمانہ اور ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس کی سزا دے سکتا ہے جو بمراہ کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ یاد رہے کہ بمراہ کو حال ہی میں پاکستان کے خلاف ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں بھی کوڈ آف کنڈکٹ کی لیول ون خلاف ورزی پر ایک ڈی میرٹ پوائنٹ ملا تھا اور اگر 24 ماہ کے اندر چار یا اس سے زیادہ پوائنٹس ہو جائیں تو یہ معطلی پوائنٹس میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس سے ایک ٹیسٹ یا دو ون ڈے/ٹی ٹوئنٹی میچز کی پابندی ہو سکتی ہے جو بمراہ کی کیریئر کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
یہ واقعہ کرکٹ کی دنیا میں ذاتی حملوں اور کھیل کی روح کی خلاف ورزی کی ایک نئی مثال ہے جہاں بمراہ جیسے ستارے کی ایک لمحاتی بات تنازع کا باعث بن جاتی ہے اور سوشل میڈیا اسے سیکنڈوں میں عالمی سطح پر پھیلا دیتا ہے۔ بمراہ جو اپنی تیز بولنگ اور درست یارکرز کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ان کی یہ بات فینز کو مایوس کر رہی ہے جو ان سے ایک پروفیشنل اور شائستہ رویہ کی توقع رکھتے ہیں۔ آئی سی سی اب تک اس پر خاموش ہے مگر اگر شکایت درج ہوئی تو میچ ریفری اس کا نوٹس لے سکتا ہے جو بمراہ پر جرمانے یا پوائنٹس کی سزا عائد کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں کی زبان پر کنٹرول کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جہاں ایک لفظ کیرئیر کو متاثر کر سکتا ہے۔
بمراہ کا تبصرہ اور کرکٹ کی اخلاقیات پر اثرات
یہ واقعہ کرکٹ کی فیلڈ پر ذاتی حملوں کی ایک نئی مثال ہے جو بمراہ جیسی عالمی سٹار کی ساکھ کو دھچکا لگاتا ہے اور آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی لیول 1 خلاف ورزی کا امکان جرمانے یا پابندی کی طرف لے جا سکتا ہے جو ان کی حالیہ ایشیا کپ سزا کے تناظر میں سنگین ہے۔ ایک طرف تو یہ مذاق کی شکل میں تھا مگر دوسری طرف باووما کی جسمانی ساخت پر تبصرہ کھیل کی روح کے خلاف ہے جو نسل پرستی یا ذاتی حملے کی حد کو چھوتا ہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے عالمی تنقید کا باعث بن گیا۔ بمراہ کی شاندار بولنگ انہیں بچا سکتی ہے مگر یہ واقعہ کرکٹ بورڈز کو کھلاڑیوں کی تربیت پر زور دینے کی یاد دلاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تنازع کرکٹ کی اخلاقیات کو چیلنج کرتا ہے مگر آئی سی سی کی سزا اسے ایک سبق بنا سکتی ہے جو کھیل کی عزت کو برقرار رکھے گی۔
عوامی رائے سوشل میڈیا پر شدید تقسیم کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں بھارتی فینز اسے مذاق قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ بمراہ نے کچھ غلط نہیں کیا جبکہ جنوبی افریقی اور عالمی فینز اسے نازیبا اور نسل پرستانہ کہہ رہے ہیں اور پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کچھ صارفین آئی سی سی سے ایکشن کی اپیل کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر بحث کرکٹ کی اخلاقیات پر ہے جو بمراہ کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا جسپریت بمراہ پر واقعی پابندی عائد ہونی چاہیے یا یہ واقعہ صرف ایک غلط فہمی ہے؟
کیا کھلاڑیوں کے لیے زبان اور رویے کے ضابطوں پر مزید سختی ہونی چاہیے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
