کراچی: سوشل میڈیا کی چمک دمک میں ایک نئی دلہن کی شادی کی خوشیاں اس وقت متنازع ہو گئیں جب انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا علی خان کے عروسی لباس اور زیورات کی قیمتوں کے دعوؤں نے انٹرنیٹ پر طوفان برپا کر دیا اور اب انہوں نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ لہنگے کی قیمت کروڑوں میں نہیں تھی بلکہ خوشی کی شدت میں ان کی زبان پھسل گئی تھی جو انسانی فطرت کی ایک عام سی بات ہے مگر سوشل میڈیا کی تیز تیز تنقید نے اسے ایک بڑا معاملہ بنا دیا۔ یہ وضاحت نہ صرف نبیہا کی ذاتی زندگی کی ایک جھلک دکھاتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ذاتی خوشیوں کی تشہیر کس طرح عوامی عدالت میں کیسز بن جاتی ہے جہاں ایک لمحاتی بات برسوں کی تنقید کا سبب بن جائے۔ نبیہا جو ایک معروف انفلوئنسر اور ڈاکٹر ہیں نے گزشتہ دنوں اپنے سے کئی سال چھوٹے دیرینہ دوست کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھنے کا اعلان کیا تھا جو ان کی زندگی کا ایک خوبصورت باب تھا مگر اب یہ شادی کی جگہ سوشل میڈیا کی بحثوں کا مرکز بن گئی ہے۔
نئی دلہن نبیہا علی خان نے اپنی ویڈیو میں نرمی اور ہلکے پھلکے لہجے سے وضاحت کی کہ کبھی کبھار خوشی کی لہر میں انسان ایسا کچھ کہہ دیتا ہے جو حقیقت سے کچھ زیادہ بڑھ چڑھا کر لگتا ہے اور ان کے کیس میں بھی یہی ہوا جہاں انہوں نے لاکھوں کی چیز کو کروڑوں کا لقب دے دیا جو ایک عام سی غلطی تھی مگر عوام نے اسے ایک سنجیدہ معاملہ بنا لیا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ لوگوں نے اس بات کو مذاق کا نشانہ بنا لیا حالانکہ یہ صرف زبان کی پھسلن تھی جو شادی کی خوشیوں میں ایک لمحاتی جذباتی ردعمل کا نتیجہ تھی اور اب وہ اس تنقید کو ہلکا پھلکا لے رہی ہیں تاکہ اپنی نئی زندگی کا آغاز بغیر بوجھ کے کریں۔ نبیہا کا یہ بیان ان کی شخصیت کی جھلک دکھاتا ہے جہاں وہ ایک پروفیشنل ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کی جھلکیاں شیئر کرنے والی ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں مگر اس بار ان کی کھلے پن نے انہیں عوامی تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا جو انفلوئنسرز کی زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر نبیہا نے اپنی شادی کے موقع پر ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جو جیولری سیٹ پہنا ہے اس کا وزن 35 کلو ہے اور قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے ہے جبکہ ان کے لہنگے کی قیمت بھی ایک کروڑ روپے بتائی گئی تھی جو ان کی شادی کی شان و شوکت کو ظاہر کرنے کی کوشش تھی مگر یہ اعداد و شمار سوشل میڈیا پر فوری طور پر وائرل ہو گئے اور صارفین نے ان پر شدید تنقید کی جو سونے کی موجودہ مہنگی قیمتوں اور حقیقت پسندانہ سوچ کی بنیاد پر تھی۔ یہ تنقید نہ صرف نبیہا کی ذاتی پس منظر پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ انفلوئنسر کلچر میں مبالغہ آرائی کی روایت کو بھی چیلنج کرتی ہے جہاں لوگ اپنی کامیابیوں کو چمکانے کی کوشش میں حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں اور عوام کی توقعات کو غلط سمت دے دیتے ہیں۔ نبیہا کی شادی جو ایک رومانوی کہانی تھی اب سوشل میڈیا کی ایک بحث بن گئی ہے جہاں لوگ ان کی خوشیوں کو بھول کر اعداد و شمار پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو انسانی رابطوں کی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے۔
اس تنقید کی سب سے تیز آواز اداکارہ و میزبان مشی خان کی تھی جنہوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں ردعمل دیا اور پوچھا کہ ڈیڑھ کروڑ روپے میں 35 کلو سونا کہاں ملتا ہے جو امبانی کی شادی جیسے عالیشان تقریب میں بھی نایاب ہے اور یہ سوال نہ صرف نبیہا کے دعوؤں پر طنز کرتا ہے بلکہ سونے کی آسمان چھوتی قیمتوں کی حقیقت کو بھی سامنے لاتا ہے۔ مشی خان نے مزید کہا کہ اگر واقعی ایسی کوئی دکان ہے جہاں اتنا سونا اس قیمت میں دستیاب ہے تو ہم سب بھی وہیں سے خریداری کرنے جائیں گے جو ان کے بیان کو ایک ہلکا پھلکا مگر نشاندہی بھرا طنز بنا دیتا ہے اور سوشل میڈیا کی طنز کی روایت کو زندہ کر دیتا ہے جہاں عوامی شخصیات کی غلطیوں کو مزاحیہ انداز میں اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ ردعمل نبیہا کو مزید دباؤ میں لے آیا اور انہیں وضاحت پر مجبور کر دیا جو انفلوئنسرز کی ذمہ داری کو یاد دلاتا ہے کہ ان کی ہر بات عوام کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے اور ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑا طوفان برپا کر سکتی ہے۔
نبیہا نے اپنے بیان کے اختتام پر ایک مثبت نوٹ پر ختم کیا اور کہا کہ اگر وہ کروڑ، پچاس کروڑ یا ڈھائی سو کروڑ کا ڈریس بھی پہنیں تو لوگوں کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے جو ان کی آزادی کی ایک جھلک ہے اور آخر میں مشورہ دیا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تناؤ لینے کے بجائے کبھی خوش بھی ہوجائیں جو ان کی نئی زندگی کی فلسفہ کی عکاسی کرتا ہے اور سوشل میڈیا کی تنقید کو ایک ہلکے انداز میں لے جاتا ہے۔ یہ وضاحت نبیہا کی شخصیت کی لچک کو ظاہر کرتی ہے جہاں وہ تنقید کو ذاتی حملہ کی بجائے ایک سیکھنے کا موقع سمجھ رہی ہیں اور اپنی فالوورز کو بھی یہی پیغام دے رہی ہیں کہ زندگی کی خوشیوں کو چھوٹی باتوں سے متاثر نہ ہونے دیں۔
انفلوئنسر کلچر میں مبالغہ آرائی اور سوشل میڈیا کی تنقید کا امتزاج
یہ واقعہ سوشل میڈیا کی دنیا میں انفلوئنسرز کی ذاتی زندگی کی تشہیر کی پیچیدگیوں کو بے نقاب کرتا ہے جہاں نبیہا جیسی شخصیات کی خوشیوں کی جھلک عوام کی توقعات اور تنقید کا شکار ہو جاتی ہے اور ایک لمحاتی زبان کی پھسلن کو ایک قومی بحث بنا دیتی ہے۔ ایک طرف تو نبیہا کی وضاحت انسانی غلطی کی معافی مانگنے کی ایک مثبت مثال ہے مگر دوسری طرف مشی خان جیسے طنز نے ثابت کیا کہ سوشل میڈیا پر طنز کی طاقت کتنی تیز ہے جو غلطیوں کو اجاگر کرتی ہے مگر بعض اوقات ذاتی حملے کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ کیس انفلوئنسرز کو یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی کامیابیوں کی تشہیر میں حقیقت پسندی کو برقرار رکھیں ورنہ عوامی ردعمل مایوس کن ہو سکتا ہے اور مجموعی طور پر یہ سوشل میڈیا کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے جو خوشیوں کو بھی متنازع بنا سکتی ہے مگر وضاحت سے بحران کو مواقع میں بدل سکتی ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ خیز بحث کی صورت میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں نبیہا کے حامی اس وضاحت کو ایک بہادر قدم قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ خوشی میں پھسلنا انسانی فطرت ہے اور لوگوں کو اسے بڑھا چڑھا کر نہ دیکھنا چاہیے جبکہ تنقید کرنے والے خاص طور پر مشی خان کے حامی اسے ایک مزاحیہ واقعہ سمجھتے ہیں اور مزید طنز کر رہے ہیں کہ سونا کی دکان کی تلاش ابھی جاری ہے۔ کچھ صارفین نبیہا کی نئی زندگی کی خوشیوں کی دعا کر رہے ہیں جبکہ دیگر انفلوئنسر کلچر پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ مبالغہ آرائی کیوں ہوتی ہے اور مجموعی طور پر یہ بحث لوگوں کو ہلکا پھلکا تفریح فراہم کر رہی ہے مگر تنقید کی شدت سے کچھ لوگ مایوس بھی ہیں۔
